لینڈ سلائیڈنگ اور ندی نالوں میں طغیانی سے معمولاتِ زندگی مفلوج، متعدد علاقوں کا زمینی رابطہ منقطع
شاہ نواز
ریاسی//ضلع ریاسی میں گزشتہ چار روز سے وقفے وقفے سے جاری موسلادھار بارشوں نے بڑے پیمانے پر تباہی مچا دی ہے، جس کے نتیجے میں معمولاتِ زندگی بری طرح متاثر ہو گئے ہیں۔ شدید بارشوں کے باعث مختلف علاقوں میں لینڈ سلائیڈنگ، بھاری پسیاں گرنے، ندی نالوں میں طغیانی اور سیلابی کیفیت نے عوام کو شدید مشکلات سے دوچار کر دیا ہے۔ متعدد رابطہ سڑکیں بند ہونے کے باعث کئی دور افتادہ دیہات کا زمینی رابطہ منقطع ہو گیا ہے، جبکہ بجلی اور پینے کے پانی کی فراہمی بھی بری طرح متاثر ہوئی ہے۔ انتظامیہ کی جانب سے بحالی کا عمل جاری ہے، تاہم مسلسل بارش اور دشوار گزار علاقوں کے باعث امدادی کارروائیوں میں مشکلات پیش آ رہی ہیں۔ریاسی۔ارناس۔مہور شاہراہ کئی مقامات پر بھاری لینڈ سلائیڈنگ اور ملبہ جمع ہونے کے باعث شدید متاثر ہوئی، جس سے ٹریفک کی آمدورفت بار بار معطل رہی۔
اسی طرح مہور۔چسانہ۔بدھل۔راجوری سڑک بھی متعدد مقامات پر پسیاں گرنے کے باعث بند ہو گئی، جس سے سینکڑوں مسافر، ملازمین، طلبہ اور مقامی باشندے شدید مشکلات کا شکار ہیں۔ مہور سے گول جانے والی بارڈر روڈز آرگنائزیشن (بی آر او) کی سڑک بھی مختلف مقامات پر ملبہ اور چٹانیں گرنے کی وجہ سے بند ہو گئی، جس سے گاڑیوں کی نقل و حرکت مکمل طور پر متاثر ہو کر رہ گئی۔شدید بارشوں کے دوران بی ایم جی سڑک پر بدورہ کے مقام پر قائم عارضی پل بھی طغیانی کی لپیٹ میں آ کر بہہ گیا، جس کے نتیجے میں کئی علاقوں کا زمینی رابطہ منقطع ہو گیا۔ اس واقعے کے بعد مقامی آبادی کو روزمرہ ضروریات، طبی سہولیات اور دیگر بنیادی خدمات تک رسائی میں شدید مشکلات کا سامنا کرنا پڑ رہا ہے۔ عوام نے حکومت اور متعلقہ محکموں سے مطالبہ کیا ہے کہ فوری طور پر متبادل پل تعمیر کیا جائے تاکہ آمدورفت بحال ہو سکے اور متاثرہ علاقوں کے لوگ مزید پریشانی سے بچ سکیں۔ادھر مسلسل بارشوں نے ضلع کے بجلی کے نظام کو بھی بری طرح متاثر کیا ہے۔ متعدد مقامات پر بجلی کی ترسیلی لائنیں، کھمبے اور دیگر تنصیبات کو نقصان پہنچا ہے، جس کے باعث کئی دیہات اور قصبات گزشتہ کئی دنوں سے تاریکی میں ڈوبے ہوئے ہیں۔ محکمہ بجلی کی ٹیمیں خراب موسم کے باوجود متاثرہ علاقوں میں بحالی کے کام میں مصروف ہیں، تاہم مسلسل بارش، دشوار گزار راستوں اور لینڈ سلائیڈنگ کے باعث کام کی رفتار متاثر ہو رہی ہے۔اسی دوران پینے کے پانی کی فراہمی بھی شدید متاثر ہوئی ہے۔ مختلف واٹر سپلائی اسکیموں، پائپ لائنوں اور آبی ذرائع کو نقصان پہنچنے کے باعث متعدد علاقوں میں صاف پانی کا بحران پیدا ہو گیا ہے۔ شہریوں کو دور دراز مقامات سے پانی لانے پر مجبور ہونا پڑ رہا ہے، جبکہ کئی دیہات میں پانی کی شدید قلت نے روزمرہ زندگی کو مزید دشوار بنا دیا ہے۔ مقامی باشندوں نے محکمہ جل شکتی سے مطالبہ کیا ہے کہ پانی کی فراہمی کو ترجیحی بنیادوں پر بحال کیا جائے۔مسلسل بارشوں اور لینڈ سلائیڈنگ کے باعث ضلع کے مختلف علاقوں میں رہائشی مکانات، حفاظتی دیواروں، زرعی اراضی اور دیگر بنیادی ڈھانچوں کو بھی جزوی نقصان پہنچنے کی اطلاعات ہیں۔ اگرچہ اب تک کسی بڑے جانی نقصان کی اطلاع موصول نہیں ہوئی، تاہم کئی خاندان احتیاطی تدابیر کے طور پر اپنے گھروں کو چھوڑ کر محفوظ مقامات پر منتقل ہونے پر مجبور ہوئے ہیں۔ مقامی لوگوں میں مزید بارشوں کے پیش نظر خوف و ہراس کی فضا برقرار ہے۔ضلع انتظامیہ نے صورتحال پر مسلسل نظر رکھتے ہوئے پولیس، محکمہ تعمیرات عامہ (پی ڈبلیو ڈی)، محکمہ بجلی، جل شکتی اور دیگر متعلقہ اداروں کو ہنگامی بنیادوں پر بحالی کے کام تیز کرنے کی ہدایت دی ہے۔ حساس علاقوں میں نگرانی بڑھا دی گئی ہے، جبکہ عوام سے اپیل کی گئی ہے کہ خراب موسم کے دوران غیر ضروری سفر سے گریز کریں، لینڈ سلائیڈنگ کے خطرے والے مقامات اور ندی نالوں کے قریب جانے سے احتراز کریں اور انتظامیہ کی جانب سے جاری حفاظتی ہدایات پر مکمل عمل کریں۔عوامی، سماجی اور پنچایتی حلقوں نے حکومت جموں و کشمیر سے مطالبہ کیا ہے کہ متاثرہ علاقوں میں فوری ریلیف فراہم کیا جائے، بند سڑکوں کو جنگی بنیادوں پر بحال کیا جائے، بجلی اور پینے کے پانی کی سپلائی جلد از جلد معمول پر لائی جائے، تباہ شدہ پلوں، سڑکوں اور دیگر بنیادی ڈھانچے کی مستقل بنیادوں پر تعمیر کی جائے اور جن خاندانوں کے مکانات، زرعی اراضی یا دیگر املاک کو نقصان پہنچا ہے، انہیں مناسب معاوضہ اور مالی امداد فراہم کی جائے تاکہ وہ اس قدرتی آفت کے بعد اپنی زندگی دوبارہ معمول پر لا سکیں۔