بانہال // محکمہ بجلی میں کام کرنے والے کیجول لیبروں نے اپنی بقایا پڑی تنخواہوں کی واگذار میں کی جارہی تاخیر کے خلاف ہفتے کو بانہال میں احتجاجی مظاہرے کئے۔ مظاہرین نے شاہراہ پر احتجاجی مظاہرے کئے اور بعد میں ایس ڈی ایم اور تحصیلدار بانہال سے کے احاطے میں دھرنا دیا۔ دس سے پندرہ سالوں سے محکمہ بجلی میں کام کرنے والے کیجول ورکروں کا کہنا ہے کہ اْن کی تنخواہیں پچھلے تین سے چار سالوں سے بقایا پڑی ہیں جس کی وجہ سے ان کی گھریلو زندگی اجیرن بن گئی ہے۔ پی ڈی ڈی کیجول لیبرس ایسوسی ایشن بانہال کے صدر بلال احمد ملک نے کشمیر عظمیٰ کو بتایا کہ ضلع رام بن میں روزانہ اجرتوں پر کام کرنیو الے دو سو کے قریب عارضی ملازمین پچھلے دس سے پندرہ سالوں سے نہایت ہی دشوار گذار حالات میں کار سرکار انجام دے رہے ہیں لیکن اْن کی اجرتیں 2014 سے اب تک واگذار ہی نہیں کی گئی ہیں۔ انہوں نے کہا کہ تنخواہوں کے بغیر بھی ضلع رام بن کے ورکر اپنا فرض انجام دے رہے ہیں اور اْن کی ہی محنت سے دور دراز کے علاقوں میں بجلی کا نظام چل رہا ہے۔ انہوں نے کہا کہ محکمہ بجلی کے اعلیٰ حکام سے ملاقاتوں کے باوجود بھی اْن کی تنخواہیں واگذار نہیں کی جا رہی ہیں جس کی وجہ سے بیشتر غریب مزدورں کے گھروں میں فاقوں کی نوبت آپہنچی ہے۔ انہوں نے کہا کہ تنخواہیں نہ ہونے کی وجہ سے وہ بچوں کی فیس ادا کرنے سے قاصر ہوکر رہ گئے جبکہ دکانداروں سے لئے گئے ادھار کے سامان کی رقومات ادا نہ کرنے کی وجہ سے دکانداروں نے سامان دینا ہی بند کر دیا ہے جس کی وجہ سے اْن کے گھروں میں نوبت فاقہ کشی تک پہنچی ہے۔ انہوں نے فوری طور پر تنخواہوں کی واگذاری اور انہیں مستقل کرنے کی گورنر انتظامیہ سے اپیل کی ہے ۔ انہوں نے کہا کہ ایک طرف سے ڈیجٹل انڈیا کی باتیں کی جا رہی ہیں لیکن دوسری طرف سے ڈیجیٹل انڈیا کو بجلی پر چلانیو الے محکمہ بجلی کے دیہاڑی دار تین سے چار سالوں سے تنخواہوں کے بغیر کسمپرسی کی زندگی جی رہے ہیں۔ انہوں نے کہا کہ دوسرے راستوں پر جانے کے بجائے ہم نے ہڑتال اور احتجاج کی راہ اختیار کی ہے اور تنخواہوں کی واگذاری تک یہ احتجاج جاری رہے گا۔ بلال احمد ملک نے کہا کہ اگر عید سے پہلے پہلے اْن کی بقایا اجرتیں ادا نہیں کی جاتی ہیں تو وہ عید الضحیٰ کے روز بھی احتجاجی مظاہرے کرنے پر مجبور ہوں گے۔ اس موقع پر احتجاج میں موجود لوپیڈ ایمپلائز فیڈریشن کے ضلع صدر رام بن شبیر احمد میر نے کہا کہ وہ کیجول لیبروں کے احتجاجی مظاہرے کی مکمل حمایت کرتے ہیں اورکہا کہ انہیں حکام نے یقین دلایا کہ ہے جلد ہی اْن کا معاملہ حل کیا جائے گا۔ احتجاجی مظاہرین نے بعد میں ایس ڈی ایم بانہال کو ایک میمورنڈم بھی پیش کیا جہاں حکام نے انہیں یقین دلایا کہ اْن کے مسئلے کواعلیٰ حکام کی نوٹس میں لایا جائے گا۔ اس کے بعد احتجاجی دھرنا پرامن طریقے سے اپنے اختتام کو پہنچا۔ واضح رہے کہ ضلع رام بن میں محکمہ بجلی میں فیلڈ عملے کے ملازمین کی سخت قلت ہے اور درجنوں دیہات کو چلانے اور سینکڑوں کلومیٹر لمبی ترسیلی لائینوں کیلئے ایک ایک لائین مین تعینات ہے اور اسی مسئلے پر قابو پانے کیلئے محکمہ بجلی نے وقتا فوقتاً روزانہ اجرتوں پر کام کرنے والے افراد کی خدمات حاصل کیں اور پورے محکمہ بجلی ڈویژن بٹوٹ ضلع رام بن میں بیشتر کام ان ہی روزانہ اجرت پر کام کرنے والے مزدوروں سے لیا جا رہا ہے لیکن اس کے باوجود بھی پہاڑی ضلع رام بن میں بجلی کا نظام چلانے والے یہ لوگ تین سے چار سالوں سے تنخواہوں کے بغیر دشوارگزار زندگی جینے پر مجبور کئے جارہے ہیں۔