محتشم احتشام
پونچھ//پبلک ہیلتھ انجینئرنگ (پی ایچ ای) کے منصوبوں کے لئے اپنی ذاتی زمینیں وقف کرنے والے افراد پر مشتمل پی ایچ ای لینڈ ڈونر ایسوسی ایشن نے منڈی میں ایک پْرامن احتجاجی مظاہرہ کیا۔ مظاہرین نے حکومت سے مطالبہ کیا کہ زمین وقف کرنے والوں کے ساتھ کئے گئے وعدوں کو فوری طور پر پورا کیا جائے، انہیں مستقل حیثیت دی جائے، بقایا جات ادا کئے جائیں اور موجودہ تنخواہوں میں خاطر خواہ اضافہ کیا جائے۔احتجاج میں شامل مقررین نے بتایا کہ اس وقت تقریباً 450 افراد پی ایچ ای سے وابستہ ہیں، جنہیں جو معمولی تنخواہیں دی جا رہی ہیں وہ موجودہ مہنگائی کے دور میں ان کے اور ان کے اہلِ خانہ کے گزارے کے لئے ناکافی ہیں۔
مظاہرین کا کہنا تھا کہ کم اجرت کی وجہ سے انہیں شدید مالی مشکلات، تعلیمی اخراجات اور علاج معالجے جیسے بنیادی مسائل کا سامنا ہے، اس لئے تنخواہوں میں فوری اور معقول اضافہ ناگزیر ہے۔ایسوسی ایشن نے یہ مطالبہ بھی کیا کہ جن زمین ڈونرز اور وابستہ کارکنان کے تاحال آرڈر جاری نہیں ہوئے، ان کے آرڈر فوری طور پر نکالے جائیں تاکہ ان کی قانونی اور انتظامی حیثیت واضح ہو سکے۔ مقررین کے مطابق آرڈر نہ ہونے کی وجہ سے کئی افراد سرکاری فوائد اور سہولیات سے محروم ہیں۔احتجاج کے دوران یہ مطالبہ بھی سامنے آیا کہ زمین وقف کرنے والے اور پی ایچ ای سے وابستہ افراد کو تمام سرکاری اسکیموں میں مکمل رعایت دی جائے، تاکہ وہ رہائشی، طبی، تعلیمی اور فلاحی اسکیموں سے بھرپور فائدہ اٹھا سکیں۔ مظاہرین کا کہنا تھا کہ انہوں نے عوامی مفاد میں اپنی قیمتی زمینیں دی ہیں، اس لیے حکومت پر اخلاقی اور قانونی ذمہ داری عائد ہوتی ہے کہ وہ ان کے ساتھ خصوصی رعایت کا معاملہ کرے۔ایسوسی ایشن کے عہدیداران نے خبردار کیا کہ اگر مطالبات پر سنجیدگی سے غور نہ کیا گیا تو احتجاجی تحریک کو مزید منظم اور وسیع کیا جائے گا۔ مظاہرہ پْرامن رہا اور آخر میں مقامی انتظامیہ نے مظاہرین کو یقین دہانی کرائی کہ ان کے مطالبات اعلیٰ حکام تک پہنچا دیے جائیں گے اور جلد از جلد مناسب کارروائی کی کوشش کی جائے گی۔