جموں//پنتھرس پارٹی کے کارکنوں اور عہدیداروں نے پارٹی کے بانی اور سرپرست اعلیٰ پروفیسر بھیم سنگھ کی قیادت میں نئی دہلی کے جنتر منتر پر زبردست مظاہرہ کرتے ہوئے جموں وکشمیر کو مزید اموات اور تباہی سے بچانے کے لئے، جس سے وہ گزشتہ دس مہینوں سے گزر رہا ہے، فوری طورپر گورنر راج لگانے کے لئے صدر جمہوریہ پرنب مکھرجی کو میمورنڈم سونپا۔ پروفیسر بھیم سنگھ نے میمورنڈم میں صدر سے کہا کہ دفعہ ۔370انہیں اس کا اختیار دیتی ہے کہ جب جموں وکشمیر کی حکومت آئین کے مطابق اپنے فرائض کو انجام دینے میں ناکام ہوجائے تو وہ اس پرمداخلت کرتے ہوئے ریاست کے گورنر کو وہاں گورنر راج لگانے کی ہدایت دے سکتے ہیں۔ انہوں نے کہاکہ جموںوکشمیر آئین کا سیکشن۔92 ریاست کے گورنر کو یہ اختیار دیتا ہے کہ جب ریاستی حکومت ناکام ہوجائے تو وہ صدر کی اجازت سے اسے ریاستی اسمبلی کو برخاست کرکے گورنر راج لگاسکتے ہیں۔انہوںنے میمورنڈم میں لکھا ہے کہ جموں وکشمیر کی موجودہ صورتحال مکمل طورپر حکومت کے کنٹرول سے باہر ہوچکی ہے اور وہاں حکومت نام کی کوئی چیز نہیں ہے۔انہوں نے میمورنڈم میں صدر کو بتایا کہ جموں و کشمیر گزشتہ دس مہینوں سے بحران کے دور سے گزر رہا ہے اورریاست کی موجودہ وصورتحال کو کنٹرول کرنے اور اسے مزید اموات اور تباہی سے بچانے کا واحد راستہ ریاست میں گورنر راج کا نفاذ ہے جس سے ریاست میں امن بحال ہوسکے اور معمولات زندگی معمول پر آسکیں گے۔ انہوں نے صدر سے درخواست کی کہ وہ جموں وکشمیر میں مداخلت کرتے ہوئے ریاست کے گورنر این این ووہر ہ کو مشورہ دیں کہ وہ ریاستی حکومت کو برخاست کرکے جموں وکشمیر آئین کے سیکشن 92کے تحت ریاست میں گورنر راج نافذ کردیں۔اس مظاہرہ میں پروفیسر بھیم سنگھ کے علاوہ مسٹر انل شرما، منوج شریواستو، دھرمیندر ایڈوکیٹ، سدیش ڈوگرا وغیرہ سینکڑوں کارکن شامل تھے۔