کانگریس کا مظاہرہ، این سی کا غیر مشروط معافی کا مطالبہ، عوام نے خطے کی شناخت پر حملہ قرار دیا
سمت بھارگو
راجوری//جموں و کشمیر قانون ساز اسمبلی میں بی جے پی کے رکن اسمبلی اور قائدِ حزبِ اختلاف سنیل شرما کے اس بیان کے بعد کہ ’پیر پنجال نام کا کوئی علاقہ موجود نہیں‘، سرحدی اضلاع راجوری اور پونچھ میں شدید ردِعمل دیکھنے کو ملا ہے۔ اس بیان کو مقامی لوگوں نے خطے کی تاریخی، جغرافیائی اور ثقافتی شناخت کی نفی قرار دیتے ہوئے سخت ناراضی کا اظہار کیا۔جمعرات کو کانگریس پارٹی نے راجوری میں ایک احتجاجی مظاہرہ کیا جس میں کارکنان نے بی جے پی کے خلاف نعرے بازی کی اور سنیل شرما کے بیان کی مذمت کی۔ مظاہرین نے جموں–راجوری–پونچھ قومی شاہراہ کو بلاک کرنے کی کوشش بھی کی، تاہم پولیس کی بروقت مداخلت سے ٹریفک کی روانی متاثر ہونے سے بچ گئی۔ احتجاج کے دوران مقررین نے کہا کہ پیر پنجال نہ صرف ایک جغرافیائی حقیقت ہے بلکہ یہاں کے لوگوں کی شناخت، تاریخ اور جذبات سے جڑا نام ہے۔
راجوری اور پونچھ کو مجموعی طور پر پیر پنجال خطہ کہا جاتا ہے، جس کا نام اسی عظیم پہاڑی سلسلے سے منسوب ہے جو اس سرحدی پٹی کی جغرافیائی ساخت اور موسمی حالات کو متعین کرتا ہے۔ مقامی دانشوروں اور سماجی کارکنوں کا کہنا ہے کہ صدیوں سے یہ نام مستعمل ہے اور سرکاری و غیر سرکاری سطح پر تسلیم شدہ ہے، اسلئے اس کی موجودگی سے انکار ناقابل فہم ہے۔دوسری جانب نیشنل کانفرنس نے بھی اس معاملے پر سخت مؤقف اختیار کیا ہے۔ پارٹی کے ضلعی صدر شفاعت خان نے کہا کہ سنیل شرما کو اپنے بیان پر فوری اور غیر مشروط معافی مانگنی چاہیے۔ ان کے ساتھ موجود پارٹی رہنما نیرم سنگھ اور دیگر مقررین نے کہا کہ یہ بیان پیر پنجال کی اجتماعی شناخت پر حملہ ہے جسے کسی صورت برداشت نہیں کیا جا سکتا۔مقامی لوگوں نے بھی شدید غم و غصے کا اظہار کرتے ہوئے کہا کہ پیر پنجال کا خطہ شہداء کی سرزمین ہے جہاں کے بے شمار جوانوں اور شہریوں نے ملک کی سرحدوں کے دفاع میں قربانیاں دی ہیں۔ ان کا کہنا تھا کہ اس علاقے کے لوگوں نے ہر مشکل گھڑی میں قوم کے ساتھ کھڑے ہو کر اپنی حب الوطنی کا ثبوت دیا ہے، اس لیے اس خطے کے وجود سے انکار دراصل ان قربانیوں کی توہین کے مترادف ہے۔سماجی حلقوں کا کہنا ہے کہ ایسے بیانات نہ صرف عوامی جذبات کو مجروح کرتے ہیں بلکہ خطے میں غیر ضروری تناؤ بھی پیدا کرتے ہیں۔ انہوں نے سیاسی قیادت سے اپیل کی کہ وہ حساس معاملات پر بیان دیتے وقت احتیاط سے کام لے اور عوامی جذبات کا احترام کرے۔ادھر انتظامیہ صورتحال پر نظر رکھے ہوئے ہے اور امن و امان برقرار رکھنے کے لیے مناسب انتظامات کیے گئے ہیں۔ مبصرین کا کہنا ہے کہ تنازعے کے حل کے لئے سنجیدہ مکالمہ اور ذمہ دارانہ رویہ وقت کی اہم ضرورت ہے تاکہ خطے میں بھائی چارہ اور ہم آہنگی برقرار رکھی جا سکے۔