محتشم احتشام
پونچھ//عقیدت، روحانیت اور باہمی اخوت کے مناظر کے ساتھ حضرت پیر سید اطہر شاہ علیہ الرحمہ کا سالانہ پانچواں عرسِ پاک تین روزہ تقاریب کے بعد اختتام پذیر ہو گیا۔ عرس کی تقریبات میں ملک و بیرونِ ملک سے زائرین، علما، مشائخ، سجادگان اور عقیدت مندوں کی بڑی تعداد نے شرکت کی، جس سے درگاہ کا ماحول نورانی اور پرکیف رہا۔عرس کے پہلے دن تلاوتِ قرآنِ کریم، نعت و منقبت، درود و سلام اور محفلِ ذکر و اذکار کا اہتمام کیا گیا۔ دوسرے روز علمی و روحانی نشستیں منعقد ہوئیں جن میں علما و مشائخ نے حضرت پیر سید اطہر شاہ کی دینی، اصلاحی اور روحانی خدمات پر سیر حاصل گفتگو کی۔
مقررین نے کہا کہ اولیائے کرام کی تعلیمات صبر، محبت، اخلاص اور خدمتِ خلق کا درس دیتی ہیں، جو آج کے پْرآشوب دور میں انسانیت کے لئے مشعلِ راہ ہیں۔عرس کے دوران لنگرِ عام کا وسیع انتظام کیا گیا جہاں ہزاروں زائرین نے شرکت کی۔ نظم و نسق اور امن و امان کے لئے انتظامیہ اور رضا کاروں نے مثالی خدمات انجام دیں، جس پر زائرین نے انتظامات کو سراہا۔تیسرے اور آخری روز عرس کی اختتامی تقریب منعقد ہوئی جس میں گدی نشین سید مظفر شاہ نے خصوصی دعا فرمائی۔ دعا میں ملک میں امن و امان، باہمی بھائی چارے، امتِ مسلمہ کی فلاح و بہبود، نوجوانوں کی رہنمائی اور معاشرتی برکتوں کیلئے اللہ تعالیٰ کے حضور دستِ دعا بلند کئے گئے۔ اس موقع پر حاضرین کی آنکھیں اشکبار تھیں اور فضا آمین کی صداؤں سے گونجتی رہی۔اختتامی خطاب میں سید مظفر شاہ صاحب نے کہا کہ حضرت پیر سید اطہر شاہ کی حیاتِ طیبہ ہمیں اخلاقِ حسنہ، رواداری اور انسان دوستی کا عملی پیغام دیتی ہے، جس پر عمل پیرا ہو کر معاشرے میں امن، محبت اور اتحاد کو فروغ دیا جا سکتا ہے۔ انہوں نے عرس کے کامیاب انعقاد پر منتظمین اور تمام عقیدت مندوں کا شکریہ ادا کیا۔یوں یہ روحانی اجتماع اپنے اختتام کو پہنچا، تاہم زائرین کے دلوں میں ایمان افروز یادیں اور روحانی تازگی چھوڑ گیا، جو آنے والے برس تک عقیدت مندوں کے لیے باعثِ تسکین و رہنمائی رہے گی۔