عظمیٰ نیوزڈیسک
س)اگست 2024میں ہونے والے پیرس اولمپکس کے حوالے سے، بھارتی ٹیم کی تیاریوں کے بارے میں آپ کے کیا خیالات ہیں۔ بھارت اس بار کتنے تمغوں کی توقع کر سکتا ہے؟
ج)ہم نے اپنے ایتھلیٹس کو پیرس 2024 کے لئے اہلیت کو حاصل کرنے اور اچھی طرح سے تیاری کرنے میں دل کھول کر حمایت کی ہے۔ اگرچہ ہمارے ذہن میں کوئی خاص تعداد نہیں ہے، لیکن مجھے یقین ہے کہ ہمارے کھلاڑی اولمپک کھیلوں میں بھارت کی بہترین کارکردگی کے ساتھ وطن واپس آئیں گے۔ ہمارے ایتھلیٹس بے خوف ہیں اور دنیا کے بہترین کھلاڑیوں کے ساتھ برابری کے بنیاد پر مقابلہ کرتے ہیں۔ ہم نے اس بات کو یقینی بنانے میں کوئی کسر نہیں چھوڑی ہے کہ زیادہ سے زیادہ بھارتی ایتھلیٹس پیرس اولمپک کھیلوں کے لئے کوالیفائی کریں اور اچھی طرح سے تیار ہوں۔ اولمپک کے اس سائیکل میں منتخب اولمپک کھیلوں میں تربیت اور مقابلوں کے لئے 350 سے زیادہ غیر ملکی دوروں کی منظوری دی گئی تھی۔ اس نے کھلاڑیوں کی حوصلہ افزائی کی ہے کہ وہ توقعات کے دباؤ کا سامنا کیے بغیر اپنی بہترین کارکردگی پیش کرنے کے لئے تیار رہیں۔
س)اس وقت اہلیت کا منظر نامہ کیا ہے؟
ج)اب تک، ہمارے 58 کھلاڑیوں نے پیرس 2024 اولمپک کھیلوں کے لئے کوالیفائی کیا ہے۔ پہلی بار، دونوں مرد اور خواتین کی ٹیبل ٹینس ٹیموں نے اولمپک کھیلوں کے ڈرا میں جگہ حاصل کی ہے۔ اسی طرح بھارت نے پہلی بار خواتین کی اسکیٹ شوٹنگ اور ایکوسٹرین(ڈریسج) میں ایک ایک کوٹہ جیتا ہے۔
س)پچھلے چند برسوں کے دوران کھیلوں کی ترقی کے لئے حکومت کے نقطہ نظر میں کیا تبدیلی آئی ہے؟
ج)وزیر اعظم نریندر مودی نے ہمیشہ ایتھیلیٹس کو مستحکم نئے بھارت، جو کئی شعبوں میں عالمی رہنما کے طور پر ابھر رہا ہے، کو مد نظر رکھتے ہوئے بلا خوف مقابلہ کرنے کی ترغیب دی ہے۔ آر آئی او کے بعد سے سب سے اہم جو تبدیل ہوئی ہے وہ ایتھلیٹس کے لئے کھیلوں میں آسانی ہے۔ تربیت اور مقابلے کے لئے ان کی تجاویز پہلے سے کہیں زیادہ تیزی سے حل کئے جاتے ہیں، کبھی کبھی گھنٹوں کے اندر بھی۔ وزارت اور قومی کھیلوں کی فیڈریشنوں نے ایسے ڈسپلن اور ایونٹس کی نشاندہی کا عمل شروع کر دیا ہے جن میں ہندوستان تمغہ جیتنے کی صلاحیت کو ان سے آگے بڑھا سکتا ہے جو پہلے ہی عالمی سطح پر نتائج دے چکے ہیں اور بہتر ہو سکتے ہیں۔ ہم نے سائیکلنگ اور تیراکی جیسے کھیلوں کی حوصلہ افزائی کی ہے جو آگے بڑھنے اور تعداد بڑھانے کے لئے بہت سے تمغے پیش کرتے ہیں۔
س)فنڈنگ کے بارے میں آپ کا کیا کہنا ہے؟ حکومت کھیلوں فروغ دینے پر کتنی رقم خرچ کر رہی ہے؟
ج)جہاں تک سرمایہ کاری کا تعلق ہے، یہ کہنا مناسب رہے گا کہ حکومت نے گزشتہ دہائی میں وزارت کے بجٹ کا حجم 2013-14 کے 1093 کروڑ روپے سے تین گنا بڑھا کر 2023-24 میں 3397.32 کروڑ روپے کر دیا ہے اور کھلاڑیوں کو صحیح وقت پر صحیح مدد فراہم کی جا رہی ہے۔ سرکاری بجٹ کی حمایت کے علاوہ سی ایس آر فنڈز کے ذریعے کھیلوں میں کارپوریٹ اور نجی سرمایہ کاری نے بھی بھارتی کھیلوں کے ارتقا ء میں اپنا کردار نبھایا ہے۔
س)ایسا لگتا ہے کہ حکومت نے کھیلو انڈیا میں بہت سرمایہ کاری کی ہے۔ کیا اس نے مطلوبہ نتائج حاصل کیے ہیں؟
ج)یقینا کھیلو انڈیا اسکیم کے نتائج سامنے آئے ہیں۔ یہ صرف ایک اسکیم نہیں ہے، یہ ایک ملک گیر تحریک بن چکی ہے۔ کھیلو انڈیا کے اہم مقاصد میں سے ایک منظم تربیت کے ذریعے ہنر کی شناخت اور ترقی ہے۔ ہم فی الحال 2800 سے زیادہ ایتھلیٹس کی مدد کر رہے ہیں جنہیں ان کی تربیت، بورڈنگ، رہائش، ان کے اپنے اخراجات کے لئے جیب الاؤنس کے لئے 6.28 لاکھ روپے کی سالانہ اسکالرشپ دی جاتی ہے۔ ہر سال اس اسکیم میں نئے کھلاڑی شامل کئے جاتے ہیں اور کارکردگی کی مسلسل نگرانی کی جاتی ہے جو اس بات کو یقینی بناتی ہے کہ غیر متوقعہ کارکردگی کا مظاہرہ کرنے والے کھلاڑیوں کا انخلاء باقاعدگی سے ہو۔ حکومت ہند نے اپنی کھیلو انڈیا اسکیم کے تحت ریاست جموں و کشمیر میں 27.74 کروڑ روپے کی لاگت سے 5 بنیادی ڈھانچے کے پروجیکٹوں کو منظوری دی ہے۔ 20 اضلاع میں کل 100 کھیلو انڈیا سینٹر(کے آئی سی) اور 2 کھیلو انڈیا اسٹیٹ سینٹر آف ایکسیلینس (کے آئی ایس سی ایز) ہیں۔ ریاست سے کل 20کھیلو انڈیا ایتھلیٹس ہیں۔ ریاست نے کھیلو انڈیا سرمائی کھیلوں کے 4 مراحل کی میزبانی بھی کی ہے۔
س)کیا آپ حالیہ برسوں کے دوران کھیلوں کے بنیادی ڈھانچے کی ترقی پر کچھ روشنی ڈال سکتے ہیں؟
ج)بنیادی ڈھانچہ، سہولیات اور انسانی وسائل دونوں کے لحاظ سے، کسی بھی کھیل کے ماحولیاتی نظام کی ریڑھ کی ہڈی ہے۔ کھیلوں کی جدید سہولیات کو نچلی سطح پر موجود ٹیلنٹ کی دہلیز تک لے جانے کی ضرورت ہے کیونکہ اس سے ایتھلیٹس کی پرورش بیرون ملک کے بجائے گھر کے قریب ہی یقینی بن جائے گا۔ وزارت خزانہ نے صرف کھیلوں کے بنیادی ڈھانچے کی تعمیر اور فروغ کے لئے 2024-25تک 1879 کروڑ روپے مختص کیے ہیں۔ ہماری کوشش ہے کہ مناسب مفاہمت نامے (ایم او یو) کے ذریعہ ریاستوں / مرکز کے زیر انتظام علاقوں سے تعلق رکھنے والے کھیلوں کے بنیادی ڈھانچے کا بہتر استعمال کیا جائے۔ ’’ایک ریاست، ایک کھیل‘‘ پہل کے تحت ریاست کے ذریعہ منتخب کردہ ترجیحی کھیلوں کے لئے ریاستی سینٹرآف ایکسیلینس اور کھیلو انڈیا مراکز کو زیادہ سے زیادہ رقومات واگزار کی جارہی ہے۔
س)وزیر اعظم نے 2030 میں یوتھ اولمپکس کی میزبانی کے بارے میں بھی بات کی ہے۔ اس حوالے سے کیا منصوبہ ہے؟ کیا کسی شہر کی نشاندہی ہوئی ہے؟
ج)جی ہاں، ہم 2036 میں موسم گرما کے اولمپکس سے پہلے 2030 میں یوتھ اولمپک کھیلوں کی میزبانی کرنے کے خواہاں ہیں۔ تاہم، ہم ابھی منصوبہ بندی کے مرحلے میں ہیں اور ابتدائی بات چیت جاری ہے۔ ہم بین الاقوامی اولمپک کمیٹی کی ضروریات کے مطابق منصوبہ بندی کریں گے اور مستقبل کے میزبان کمیشن کے ساتھ بات چیت مثبت رہی ہے۔(بشکریہ ۔پی آئی بی)