یو این آئی
نئی دہلی//مرکز نے قیمتوں میں استحکام کی اسکیم کے تحت پیاز کی سرکاری قیمت خرید میں 13فیصد (250روپے)کا اضافہ کر کے اسے 2,125روپے فی کوئنٹل کر دیا ہے جو ہفتہ سے ہی نافذ العمل ہو گیا ہے۔حکومت نے یہ بھی واضح کیا ہے کہ ملک میں پیاز کی کوئی کمی نہیں ہے اور سپلائی معمول کے مطابق ہے لیکن بارش میں تاخیر کی وجہ سے مہاراشٹر اور کرناٹک کے کچھ علاقوں میں پیاز کی بوائی سست چل رہی ہے۔ اس سے خاص طور پر پیاز کی بڑے پیمانے پر کاشت کرنے والی ریاستوں جیسے مہاراشٹر، مدھیہ پردیش اور گجرات کے کسانوں کو بہتر منافع ملے گا اور قیمتوں میں استحکام کے بفر اسٹاک کے لیے خریداری بڑھے گی۔ حکومت پیاز جیسی کچھ فصلوں کی قیمتوں میں تیز اتار چڑھا کے دور میں کسانوں اور صارفین کے مفادات کے تحفظ کے لیے قیمتوں میں استحکام کی اسکیم کے تحت بفر اسٹاک رکھتی ہے۔
حکومت یہ خریداری نیفیڈ (نیشنل ایگریکلچرل کوآپریٹو مارکیٹنگ فیڈریشن)اور این سی سی ایف (نیشنل کوآپریٹو کنزیومرز فیڈریشن آف انڈیا لمیٹڈ) کے ذریعے کراتی ہے۔وزارت برائے امور صارفین، خوراک اور عوامی نظام تقسیم کی جانب سے ہفتہ کو جاری کردہ ایک ریلیز کے مطابق پیاز کی قیمت خرید 13 فیصد بڑھا کر 1,875 روپے فی کوئنٹل سے 2,125 روپے فی کوئنٹل کر دی گئی ہے۔ ترمیم شدہ قیمت خرید 4 جولائی سے نافذ ہو گئی ہے۔ وزارت نے کہا ہے کہ اس فیصلے سے پیاز پیدا کرنے والے کسانوں کو بہتر منافع ملے گا اور ساتھ ہی بفر خریداری کی کوششوں کو بھی مدد ملے گی۔ محکمہ زراعت اور کسانوں کی فلاح و بہبود کے سال 26-2025 کے دوسرے پیشگی تخمینے کے مطابق، پیاز کی پیداوار 307.37لاکھ ٹن (ایل ایم ٹی)ہونے کا اندازہ ہے، جو سال 25-2024 کی 307.67 لاکھ ٹن پیداوار کے تقریبا برابر ہے۔ پیداوار کے تخمینے کو دیکھتے ہوئے، فی الحال پیاز کی کل دستیابی تشویش کا باعث نہیں ہے، تاہم قیمتوں میں معمول کے موسمی اتار چڑھا کے مطابق معمولی اضافے کی توقع کی جا سکتی ہے۔ریلیز میں کہا گیا ہے کہ مہاراشٹر، مدھیہ پردیش اور گجرات میں پیاز کا ذخیرہ کافی ہے۔ فی الحال، ذخیرہ شدہ پیاز کی کمی کے کوئی آثار نہیں ہیں۔ آل انڈیا سطح پر منڈیوں میں پیاز کی روزانہ آمد 50,000 ٹن سے زیادہ بنی ہوئی ہے، مہاراشٹر میں یہ آمد 30,000 ٹن سے زیادہ ہے، اور اوسط خردہ قیمت تقریبا 18 روپے فی کلوگرام ہے۔