غلام نبی رینہ
کنگن// وادی کشمیر کے پہاڑی علاقوں میں لوگوں نے ابھی بھی پرانی روایت کو برقرار رکھاہے۔ یہاں کی خواتین موسم سرما کے دوران بھاری برفباری میں سردی کامقابلہ کرنے کیلئے جہاں بالن کی چھوٹی چھوٹی ٹہنیاں ذخیرہ کرتی ہیںاور برفباری کے دوران ان ٹہنیوں کو جلاکر کانگڑیوں میں ڈال کر گرمی کرلیتے ہیں۔ ایک بزرگ شخص نے بتایا کہ جہاں دورجدید میں لوگ بجلی سے چلنے والے آلات سے یا گیس بخاری کا استعمال کرکے گرمی کرتے ہیں، جو کبھی موت کا سبب بھی بن سکتے ہیںلیکن پہاڑی علاقوں میں رہائشی لوگوں نے اس جدید دور میں بھی پرانی روایات برقرار رکھی ہیں۔ ایک اور بزرگ محمد کمال نے کہا کہ پہاڑی علاقوں میں رہائشی خواتین موسم بہار میں جنگلی سبزیاں لاکر صاف شفاف طریقے سے سکھا کر موسم سرما کیلئے جمع کرتی ہیں، جو کسی ملاوٹ کے بغیر ہوتی ہیں اور موسم سرما میں برفباری کے دوران اس سبزی کو استعمال کرتے ہیں ۔ان کا کہنا تھا خواتین ستمبر سے ہی بالن جمع کرتی ہیں ،جو برفباری کے دوران گرمی کیلئے کانگڑیوں میں استعمال کیا جاتا ہے اور اگر بجلی بھی گُل ہوجائے ، تو گرمی کیلئے پہلے ہی انتظام رکھا جاتا ہے۔ اس بزرگ شخص نے یہ بھی بتایا کہ مہنگائی کی وجہ سے اب پہاڑی علاقوں کے لوگوں نے پرانی روایت کو برقرار رکھا ہے کیونکہ اس مہنگائی کے دور میں گیس بجلی بھی مہنگی ہوگئی ہے۔ اس لئے پرانی روایت کو برقرار رکھنا مناسب ہے، تاکہ غریب لوگ کسی حد تک راحت کی سانس لے سکیں ۔