محمد بشارت
کوٹرنکہ //کوٹرنکہ سب ڈویژن میں پھلنی یا نڑول رابطہ سڑک گزشتہ 2دہائیوں سے مکمل نہیں ہو سکی جس کی وجہ سے ہزاروں کی آبادی کو شدید مشکلات درپیش ہیں ۔اس سلسلہ میں بلاک بدھل نیو کے چپرولہ، سیری اور کیول دیہات کے ایک وفد نے سابق سرپنچ کیول اور سینئر پی ڈی پی لیڈر محمد فاروق انقلابی کی قیادت میں ڈپٹی کمشنر راجوری سے ملاقات کی اورسڑک منصوبے کی فوری تکمیل کے مطالبہ پر مشتمل ایک یادداشت پیش کی۔وفد نے ڈپٹی کمشنر کو بتایا کہ مذکورہ سڑک منصوبہ سنہ 2004 میں ترون کیول سے شروع کیا گیا تھا اور اس کا ابتدائی ارتھ ورک پھگولی تک مکمل کیا گیا تھا۔ بعد ازاں ترون سے گورنمنٹ مڈل اسکول بیجی تک تقریباً دو کلومیٹر حصہ پی ایم جی ایس وائی راجوری کے تحت لیا گیا، تاہم کلومیٹر 2 سے کلومیٹر 8 تک کا باقی حصہ صرف محکمہ تعمیرات عامہ ریاسی کی جانب سے ابتدائی ارتھ ورک تک محدود رہا اور گزشتہ 22 برسوں سے مزید کوئی تعمیراتی کام انجام نہیں دیا گیا۔
وفد کے اراکین نے بتایا کہ پھگولی، چائی، چپرولہ، تولی اپر، بھیلہ، سیری اور چاونی سمیت متعدد دیہات کی پندرہ ہزار سے زائد آبادی اس سڑک کی عدم تکمیل کے باعث شدید مشکلات کا سامنا کر رہی ہے۔ انہوں نے کہا کہ طلبہ، مریض، بزرگ افراد اور خصوصاً طالبات کو ناقابلِ آمد و رفت سڑک کی وجہ سے روزانہ دشواریوں سے گزرنا پڑتا ہے۔وفد نے مزید الزام عائد کیا کہ محکمہ تعمیرات عامہ ریاسی اور راجوری ضلع انتظامیہ ایک دوسرے پر ذمہ داری ڈال کر سڑک کی تکمیل سے متعلق جوابدہی سے بچ رہے ہیں، جس کے نتیجے میں عوام گزشتہ دو دہائیوں سے پریشانیوں کا شکار ہیں۔ڈپٹی کمشنر راجوری نے وفد کی بات غور سے سنی اور یقین دلایا کہ اس معاملے کا سنجیدگی سے جائزہ لیا جائے گا۔ انہوں نے اے ڈی سی کوٹرنکہ کو ہدایت دی کہ وہ اس معاملے پر تفصیلی رپورٹ اور سفارشات پیش کریں تاکہ مناسب کارروائی عمل میں لائی جا سکے۔بعد ازاں وفد نے اے ڈی سی کوٹرنکہ سے بھی ملاقات کی اور انہیں بھی یادداشت پیش کی۔ اس موقع پر محمد فاروق انقلابی کے ہمراہ دھرم سنگھ، پروین سنگھ، نور محمد، کرنیل سنگھ، نورالدین اختر، نینسی دیوی، محمد اقبال، رومیش سنگھ اور توصیف شاہ بھی موجود تھے۔