پھر وہی کہانی!

جدید دنیا میںجہاں سیاسی ، سماجی ونظریاتی سطح پر اختلافات سےبالا تر ہو کر مذہبی آزادی کو مسلّم مان کر اسکے فروغ کی وکالت کی جارہی ہے وہیںجموںوکشمیر میں اس حوالے سے اندھیرگردی کا وہ عالم بدستور موجود ہے، جو چند دہائیوں قبل یہاں شروع ہوا ہے اور ہر حکومت کی جانب سے حالات میں بہتری لانےکے بار بار کے دعوئوں کے باوجود اس میں کوئی تبدیلی نہیں آئی ہے۔اگر ایسا نہیں ہوتا تو8محرم الحرام کا جلوس عزاء نکالنے کی اجازت دی جاتی،جبکہ چند ہفتے قبل ہی لالچوک علاقہ میں ایک دھارمک ریلی کی اجازت دیدی گئی تھی۔ ماہ محرم شروع ہوتے ہی یہ عندیہ دیا جانے لگا تھا کہ انتظامیہ عزاءداری کے جلوس نکالنے کے متعلق مثبت انداز سے سوچ رہی ہے اور یہ اُمید پیداہو چکی تھی کہ معاملے کا کوئی نہ کوئی حل ضرور نکالا جائیگا۔ خاص کر ایسے حالات میں جب کہ انتظامیہ ریاست میں صورتحال کو مختلف اندازسے برتنے کی دعویدار ہے۔ مگر کل شہر سرینگر کے9تھانوں کی حدود میں آنے والے علاقو ں اور خاص کر سول لائنز ،جہاں روایتی طور پر 8محرم کا جلوس برآمد ہوتا ہے، میں جس طرح سے قدغنیں عایدکی گئیں اُس سے عام شہریوں کو زبردست مشکلات کا سامنا کرنا پڑا۔ منگل کی رات دیر گئے ٹریفک ایڈوائزری جاری کرکے صبح سویرے ہی کلیدی راستوں کو پیچ درپیچ طریقے سےایسے بند کر دیا گیا کہ سارے شہر میں ٹریفک کا نظام ہی درہم برہم ہو کر رہ گیا۔ عام لوگوں کو اس صورتحال کی بروقت اطلاع نہ دیئے جانے کے بہ سبب راہگیروں اور مسافروں، جن میں مریض اور معمر اشخاص بھی تھے، کو جن پریشانیوں اور مصائب کا سامنا کرنا پڑا وہ کسی بھی منصفانہ اور جمہوری نظام کا حصہ نہیںہوسکتا۔ اس طرح انتظامیہ کی جانب سے عوام پروری اور عام لوگوں کو مشکلات سے محفوظ رکھنے کے سارے دعوے دھر ے کے دھرے رہ جاتے ہیں۔ بعد اذاں سول لائنز میں ہی مختلف مقامات پر قدغنوں کے باوجود عزاداری کے جلوس نکالنے کی کوشش کرنے والوں پر پولیس کاروائی کسی بھی سنجیدہ فکر اور منصفانہ سماج میں قابل قبول نہیں ہوسکتا۔ جلوس کو روکنے کےلئے جس انداز سے عزرداروں پر لاٹھیوں اور ٹیر گیس شیلوں کا استعمال کیا گیا وہ دنیا کے کسی بھی  قانون میںجائز قرار نہیں دیا جاسکتا۔ آج سارے ملک میں خواتین کے حقوق پر طول طویل مباحثے ہو رہے ہیں ، خاص کر مسلم خواتین کے حقوق کے تحفظ کےلئے پارلیمنٹ سے لیکر عدالت عظمیٰ تک مختلف بیانئے پیش ہور ہےہیں لیکن کل جلوس عزاء میں شامل خواتین پر جس انداز سےلاٹھیاں برسائی گئیں، اُسےاگر وحشیانہ نہ گردانا جاے تو کیا نام دیاجائے ۔ ایک جانب مرکزمیں برسراقتدار اتحاد کی طرف سے طبقۂ نسوان کےخلاف زیادتیوں کو سیاسی ڈسکورس کے طور پر اُچھالا جا رہاہے، دوسری جانب عزاء دار خواتین کے ساتھ ایسا سلوک روا رکھنا کن ضوابط کا حصہ ہوسکتا ہے؟۔ ایسے حالات میں اگر مختلف حلقوں کی جانب سے انتظامیہ پر مذہبی معاملات میں مداخلت کے الزامات عائد کئے جا رہے ہیں تو انتظامیہ کے ذمہ داروں کی طرف سے اسکا کیا جواب ہوسکتا ہے۔ اس کی وضاحت کرنے کی ضرورت ہے۔ بصور ت دیگر عوام الناس یہ سمجھنے میں حق بجانب ہوسکتے ہیں کہ موجود ہ انتظامیہ کی جانب سے حالات کو عوام کے حق میں تبدیل کرنے کی کوششوں کےجو دعوے کئے جارہے ہیں وہ ایک ایسا ہی فریب ِمسلسل ہے،جو ماضی میں مختلف حکومتیں دیتی آئی ہیں۔ ظاہر بات ہے کہ ایسی پالیسیوں اور طریقۂ کار سے کسی بھی مثبت نتیجے کی توقع رکھنا عبث ہے۔ا گر موجودہ حکومت سنجیدگی اور صدق دلی سے حالات میں بہتری لانے کی خواہاں ہے تو یقینی طور پراُسے یہ طرز عمل تبدیل کرنا ہوگا۔