محتشم احتشام
پونچھ//خطہ پیر پنجال کی ثقافتی و فنی سرگرمیوں میں ایک اہم سنگِ میل اس وقت رقم ہوا جب جے کے گیت کے معروف گلوکار مرشد جی کا نیا پنجابی گیت ’کھیڈ نصیبا دے‘پونچھ میں باقاعدہ طور پر ریلیز کیا گیا۔ اس موقع پر میوزک انڈسٹری سے وابستہ شخصیات موجود تھیں جن میں اداکار ذیشسن میر، ابیلو جو اور سودانشو گھئی شامل ہیں، جبکہ پوری تخلیقی ٹیم نے بھی تقریب میں شرکت کی۔تقریبِ اجرا میں فنونِ لطیفہ سے وابستہ افراد، نوجوان شائقین اور میڈیا نمائندگان کی بڑی تعداد شریک ہوئی۔ گیت ’کھیڈ نصیبا دے‘ کو شاندار موسیقی، دل کو چھو لینے والے بول اور جدید و روایتی انداز کے حسین امتزاج کے باعث خاصی پذیرائی حاصل ہوئی۔
گیت کے موضوع میں محبت، تقدیر اور انسانی جذبات کی عکاسی کی گئی ہے، جو سامعین کے دلوں پر گہرا اثر چھوڑتی ہے۔اس موقع پر گفتگو کرتے ہوئے گلوکار مرشد جی نے کہا کہ ’کھیڈ نصیبا دے‘ محض ایک گیت نہیں بلکہ زندگی کی حقیقتوں اور جذبات کی عکاس کہانی ہے، جسے عوام تک پہنچانا ان کے لئے باعثِ فخر ہے۔ انہوں نے کہا کہ جموں و کشمیر بالخصوص پیر پنجال کے نوجوانوں میں بے پناہ فنی صلاحیت موجود ہے اور ضرورت اس امر کی ہے کہ انہیں پلیٹ فارم اور رہنمائی فراہم کی جائے۔اداکار ذیشان میر، ابھلوو جور اور سدانشو گھئی نے بھی گیت کے معیار اور ٹیم کی محنت کو سراہتے ہوئے کہا کہ اس طرح کے میوزک پراجیکٹس نہ صرف مقامی فنکاروں کو فروغ دیتے ہیں بلکہ خطے کی مثبت شناخت کو بھی قومی سطح پر اجاگر کرتے ہیں۔تقریب کے اختتام پر شائقین نے گیت کو خوب سراہا اور امید ظاہر کی کہ مستقبل میں بھی اسی معیار کے مزید میوزک پراجیکٹس منظرِ عام پر آئیں گے۔ ’کھیڈ نصیبا دے‘ کی ریلیز کو پونچھ کی ثقافتی تاریخ میں ایک یادگار لمحہ قرار دیا جا رہا ہے، جو مقامی میوزک انڈسٹری کے روشن مستقبل کی نوید ہے۔