محتشم احتشام
پونچھ//ضلع پونچھ میں عوامی مسائل کے حل اور بنیادی سہولیات کی فراہمی کے مطالبات کو لے کر پبلک ویلفیئر فرنٹ کے رکن بشیر جٹ نے ایک اہم پریس کانفرنس سے خطاب کیا۔ اس موقع پر انہوں نے تعلیم، صحت اور شہری سہولیات کے شعبوں میں پونچھ کو درپیش سنگین مسائل کی جانب ضلعی انتظامیہ اور منتخب عوامی نمائندوں کی توجہ مبذول کروائی۔
میڈیا سے گفتگو کرتے ہوئے بشیر جٹ نے کہا کہ پونچھ ایک حساس اور سرحدی ضلع ہونے کے باوجود بنیادی تعلیمی اور طبی سہولیات سے محروم ہے، جس کی وجہ سے یہاں کے نوجوانوں اور عام شہریوں کو شدید مشکلات کا سامنا کرنا پڑ رہا ہے۔ انہوں نے ضلع پونچھ میں لاء یونیورسٹی کے قیام کا پْرزور مطالبہ کرتے ہوئے کہا کہ اس وقت یہاں کے طلباء کو قانونی تعلیم کے حصول کے لئے دور دراز شہروں کا رخ کرنا پڑتا ہے، جس سے نہ صرف مالی بوجھ میں اضافہ ہوتا ہے بلکہ کئی باصلاحیت نوجوان مجبوری کے تحت اپنی تعلیم ادھوری چھوڑنے پر مجبور ہو جاتے ہیں۔ ان کا کہنا تھا کہ اگر پونچھ میں لاء یونیورسٹی قائم کی جائے تو یہ علاقہ تعلیمی طور پر خود کفیل بن سکتا ہے اور نوجوانوں کو مقامی سطح پر بہتر مستقبل کے مواقع میسر آ سکیں گے۔انہوں نے صحت کے شعبے پر گفتگو کرتے ہوئے ضلع میں گورنمنٹ میڈیکل کالج (جی ایم سی) کے قیام کو ناگزیر قرار دیا۔ بشیر جٹ کا کہنا تھا کہ پونچھ جیسے سرحدی ضلع میں جدید طبی سہولیات کا فقدان تشویشناک ہے، جس کے باعث مریضوں کو معمولی علاج کے لئے بھی جموں یا دیگر شہروں کا سفر کرنا پڑتا ہے۔ انہوں نے کہا کہ جی ایم سی کے قیام سے نہ صرف ضلع میں صحت کا نظام مضبوط ہوگا بلکہ روزگار کے نئے مواقع بھی پیدا ہوں گے۔بشیر جٹ نے عوام کو درپیش انتظامی مشکلات کا ذکر کرتے ہوئے ضلع پونچھ میں پاسپورٹ آفس کے فوری قیام کا بھی مطالبہ کیا۔ ان کا کہنا تھا کہ پاسپورٹ سے متعلقہ امور کے لئے لوگوں کو طویل مسافت طے کرنی پڑتی ہے، جو وقت اور پیسے دونوں کا ضیاع ہے، خصوصاً غریب اور دیہی عوام کے لئے یہ ایک بڑا مسئلہ بن چکا ہے۔انہوں نے ضلعی انتظامیہ اور منتخب عوامی نمائندوں سے اپیل کی کہ وہ پونچھ جیسے سرحدی اضلاع کی جانب خصوصی توجہ دیں اور ان دیرینہ مطالبات پر سنجیدگی سے غور کرتے ہوئے فوری اور ٹھوس اقدامات عمل میں لائیں۔ ان کا کہنا تھا کہ سرحدی علاقوں کی ہمہ گیر ترقی ہی مساوی ترقی، عوامی فلاح و بہبود اور پائیدار امن کی ضمانت ہے۔