محشم احتشام
پونچھ//پونچھ کے تاریخی اور مذہبی اعتبار سے نہایت اہم دشنامی اکھاڑا مندر کے اطراف کھلے نالوں کی انتہائی خراب اور غیر صحت بخش حالت نے ایک بار پھر بلدیاتی حکام کی کارکردگی پر سنگین سوالات کھڑے کر دئیے ہیں۔ مقامی باشندوں اور سماجی کارکنوں کے مطابق یہ صورتحال واضح انتظامی غفلت اور ناقص شہری نظم و نسق کی عکاس ہے۔انہوں نے کہا اکھاڑا مندر کے گردونواح میں روزانہ سینکڑوں عقیدت مندوں اور شہریوں کی آمدورفت رہتی ہے، جبکہ مخصوص ایام میں یہ تعداد ہزاروں تک پہنچ جاتی ہے۔ اس کے باوجود مندر کی طرف جانے والی سڑک اور اس سے متصل نالے طویل عرصے سے بدترین بدحالی کا شکار ہیں۔انہوں نے کہا ابلتے نالے، گندا ٹھہرا ہوا پانی اور شدید تدفن نے نہ صرف گزرگاہ کو مشکل بنا دیا ہے بلکہ عوامی صحت کے لئے بھی سنگین خطرات پیدا کر دیے ہیں۔ سماجی کارکن ڈاکٹر سکھویندر سنگھ نے اس صورتحال پر شدید ردِعمل ظاہر کرتے ہوئے نونسپل کونسل کے حکام کی ’مکمل ناکامی‘ کا الزام لگاتے ہوئے کہا کہ ایک ایسے مقام پر، جو مذہبی اور تاریخی تقدس رکھتا ہے اور جہاں مختلف علاقوں سے لوگ آتے ہیں، اس نوعیت کی غفلت انتہائی افسوس ناک ہے۔انہوں نے مزید کہا کہ مسئلہ محض ایک نالے تک محدود نہیں،بارش کے بعد پورے شہر میں نکاسی آب کا نظام درہم برہم ہو جاتا ہے، جس سے واضح ہوتا ہے کہ پونچھ میں مؤثر ڈرینیج مینجمنٹ کا فقدان ہے تاہم اکھاڑا مندر کے قریب نالوں کی حالت اس لئے زیادہ تشویشناک ہے کہ یہ ایک مقدس اور تاریخی مقام کے وقار کو مجروح کر رہی ہے۔مقامی باشندوں اور عقیدت مندوں نے بھی شدید ناراضگی کا اظہار کرتے ہوئے کہا کہ متعدد شکایات کے باوجود عملی کارروائی نظر نہیں آتی۔ شہریوں کو خدشہ ہے کہ اگر فوری اقدامات نہ کئے گئے تو وبائی امراض پھیلنے کا اندیشہ بڑھ جائے گا۔ڈاکٹر سکھویندر سنگھ اور عوامی نمائندوں نے ضلعی انتظامیہ سے اپیل کی ہے کہ وہ فوری طور پر صورتحال کا نوٹس لے، بلدیاتی اداروں کو ترجیحی بنیادوں پر نالوں کی صفائی کے احکامات جاری کرے اور بارشوں کے بعد اس مسئلے کے مستقل حل کے لئے جامع منصوبہ بندی کرے۔شہریوں کا کہنا ہے کہ فوری انتظامی مداخلت ہی صفائی کے معیار کو بہتر بنا سکتی ہے، عوامی صحت کا تحفظ ممکن ہے اور تاریخی اکھاڑا مندر اور اس کے اطراف کے وقار کو بحال رکھا جا سکتا ہے۔