محتشم احتشام
پونچھ//سرحدی ضلع پونچھ میں محکمہ بجلی کے عارضی ملازمین کو درپیش خطرات ایک بار پھر اس وقت سامنے آئے جب محکمہ میں بطور ڈیلی ویجر خدمات انجام دینے والے عقیل احمد ولد خادم حسین، سکنہ منگناڑ پونچھ، ڈیوٹی کے دوران بجلی کا شدید کرنٹ لگنے سے زخمی ہو گئے۔واقعہ کے بعد انہیں فوری طور پر راجہ سکھ دیو سنگھ ضلع ہسپتال پونچھ منتقل کیا گیا، جہاں ابتدائی علاج کے بعد ڈاکٹروں نے بہتر اور خصوصی علاج کے لیے انہیں سری نگر ریفر کر دیا۔ذرائع کے مطابق عقیل احمد بجلی کی لائنوں پر معمول کی مرمتی ڈیوٹی انجام دے رہے تھے کہ اچانک کرنٹ کی زد میں آ گئے۔
حادثہ پیش آتے ہی مقامی افراد اور ساتھی ملازمین نے انہیں ہسپتال پہنچایا۔ تاہم زخمی ملازم کے اہل خانہ نے الزام لگایا کہ حادثے کے تقریباً تین گھنٹے گزر جانے کے باوجود محکمہ بجلی کا کوئی بھی ذمہ دار افسر ہسپتال نہیں پہنچا اور نہ ہی خاندان سے رابطہ کرنے کی کوشش کی گئی۔اس واقعہ نے ایک بار پھر ان عارضی ملازمین کی حالت زار کو اجاگر کر دیا ہے جو انتہائی خطرناک حالات میں عوام کو بجلی کی سہولیات فراہم کرنے کے لیے دن رات کام کرتے ہیں۔ بارش، برفباری، آندھی اور رات کے اندھیرے میں بجلی بحال کرنے کا زیادہ تر بوجھ انہی ڈیلی ویجرز اور عارضی ملازمین پر ہوتا ہے، مگر جب وہ کسی حادثے کا شکار ہوتے ہیں تو اکثر انہیں اپنے حال پر چھوڑ دیا جاتا ہے۔عوامی اور سماجی حلقوں کا کہنا ہے کہ حکومت اور محکمہ بجلی کو ان ملازمین کے تحفظ کے لیے سنجیدہ اقدامات کرنے چاہئیں۔ حفاظتی آلات کی فراہمی، مناسب تربیت، انشورنس کور اور حادثات کی صورت میں فوری طبی و مالی امداد کو یقینی بنایا جانا وقت کی اہم ضرورت ہے۔ مقررین نے یہ بھی مطالبہ کیا کہ ڈیوٹی کے دوران زخمی یا جان گنوانے والے ملازمین کے لیے خصوصی معاوضے اور امدادی پیکیج کا اعلان کیا جائے۔لوگوں نے حکومت کو یاد دلایا کہ بجلی کی روشنی گھروں تک پہنچانے والے یہی کارکن دراصل نظام کا سب سے اہم حصہ ہیں۔اگر ان کے مستقبل، ان کے اہل خانہ اور ان کے بچوں کی تعلیم و روزگار کے بارے میں کوئی ٹھوس پالیسی نہیں بنائی گئی تو ایسے حادثات کے بعد متاثرہ خاندان شدید مشکلات کا شکار ہوتے رہیں گے۔عوام نے مطالبہ کیا کہ عقیل احمد کے علاج کے تمام اخراجات حکومت برداشت کرے اور محکمہ بجلی کے عارضی ملازمین کی فلاح و بہبود کے لیے فوری اور مؤثر اقدامات کیے جائیں۔