پولیس سربراہ کازمینی صورتحال پراظہاراطمینان

سرینگر//پولیس سربراہ دلباغ سنگھ نے منگل کوشہرکاتفصیلی دورہ کرکے زمینی صورتحال ،حفاظتی انتظامات اور نفری کی تعیناتی کاجائزہ لیا۔دورے کے دوران پولیس سربراہ نے مومن آباد، پارمپورہ، قمرواری، عیدگاہ، صورہ، لال بازار، مولوی اسٹاپ،درگاہ،نشاط اورحیدپورہ میںامن وقانون کو برقراررکھنے کیلئے تعینات پولیس وفورسزحکام اوراہلکاروں کے ساتھ تبادلہ خیال کیا۔ پولیس سربراہ نے اس دوران پولیس،سی آر پی ایف،اور ایس ایس بی نفری کی سراہنا کی جنہوں نے گزشتہ پانچ روز کے دورا ن زمینی صورتحال سے پیشہ ورانہ طور نمٹا۔انہوں نے جموں کشمیر پولیس اور دیگرحفاظتی ایجنسیوں کے اُس رول کی بھی تعریف کی جوانہوں نے دن رات محنت اورلگن سے کام کرکے لوگوں کی حفاظت کا کام انجام دیا۔
انہو ں نے کہا کہ پولیس اور فورسز کے ہرایک قدم کا مقصدلوگوں کی سلامتی اور حفاظت کو یقینی بنانا ہے۔انہوں نے پولیس اورفورسزکی طرف سے صبروبرداشت اورتحمل کامظاہرہ کرنے اور مقامی لوگوں خاص طور سے نوجوانوں کی طرف سے ذمہ دارانہ کردار اداکرنے کی تعریف کی۔پولیس سربراہ نے کہاکہ جموں کشمیر پولیس دیگرحفاظتی اداروں کے ساتھ جموں کشمیرمیں امن قائم کرنے کیلئے کام کررہی ہے اور لوگوں کوصلاح دی کہ وہ پاکستان کے مکروہ اوربے بنیاد پروپیگنڈاجس کی مقصد یہاں امن کو درہم برہم کرنا ہے،کاشکار نہ بنے۔  انہوں نے کہا کہ ہمیں زندگی کالطف اُٹھا کرذمہ داری کے ساتھ آزادیوں کااستعمال کرناچاہیے اورکسی ایسی کارروائی سے بچنا چاہیے جس سے امن وقانون میں خلل پیدا ہوگا۔دلباغ سنگھ نے کہا کہ جموں کشمیر نے پہلے ہی امن  اوربھائی چارے کے دشمنوں کے ہاتھوںبہت زیادہ تباہی اوراموات دیکھی ہیں۔انہوں نے مزیدکہا کہ ہم امن اور ترقی کی راہ پرگامزن ہیںاورگزشتہ کئی برس سے ہم اس کاثمر بھی دیکھ رہے ہیں ۔دلباغ سنگھ نے کہا کہ ہمیں اکٹھے آگے مل کرچلنا ہے اورامن دشمن عناصر کو متنبہ کیا کہ ان کے ساتھ قانون کے تحت سختی کے ساتھ نمٹا جائے گا۔
اس دوران سینئر پولیس حکام نے پولیس سربراہ کو نفری کی تعیناتیوں سے باخبر کیااوراپنے تجربات کی بھی جانکاری دی۔انہوں نے کہا کہ بازار کھلے ہیں اور معمول کی تجارتی سرگرمیاں جاری ہیں جبکہ ٹریفک بھی رواںدواں ہے اورانٹرنیٹ کوبھی بحال کیاگیا ہے۔پولیس سربراہ کے ہمراہ کشمیر کے صوبائی پولیس سربراہ وجے کمار،آئی جی سی آر پی ایف چاروسنہا،ڈی آئی جی وسطی کشمیرامیت کماراور ایس ایس پی سرینگرسندیپ چودھری بھی تھے۔