مشتاق الاسلام
پلوامہ //ضلع پلوامہ میں ارگیشن کیلئے مجموعی طور پر 50سکیمیں موجود ہیں، جن میں 20 گریوٹی اور 30 لفٹ ارگیشن سکیمیں شامل ہیں، تاہم زمینی حقائق ان دعوؤں کے بالکل برعکس نظر آتے ہیں۔ گزشتہ برس ضلع کے سینکڑوں دیہات بروقت آبپاشی سے محروم رہے، جس کے باعث شالی کی مناسب پیداوار ممکن نہ ہو سکی جبکہ اس صورتحال نے نہ صرف کسانوں کو شدید مالی نقصان سے دوچار کیا بلکہ پلوامہ کی زرعی اور باغبانی معیشت کو بھی سنگین خطرات سے دوچار کر دیا ہے۔ضلع کے رینزی پورہ،ڈگری پورہ،کاکاپورہ،نامن،بانڈر پورہ،گوری پورہ سمیت درجنوں علاقوں کے کاشتکاروں کے مطابق شالی کی بوائی اور پنیری کی منتقلی جیسے انتہائی اہم مرحلے کے دوران بیشتر ارگیشن سکیمیں یا تو جزوی طور پر فعال تھیں یا مکمل طور پر ناکارہ ہو چکی تھیں۔ کئی علاقوں میں نہریں ملبے اور گاد سے بری پڑی رہیں، جبکہ لفٹ ارگیشن اسکیمیں بجلی کی عدم دستیابی،صفائی کے فقدان، تکنیکی خرابیوں اور ناقص دیکھ بھال کے باعث بند رہیں۔ نتیجتاً ہزاروں کنال زرعی اراضی بروقت پانی سے محروم رہی اور کسان غیر یقینی بارشوں پر انحصار کرنے پر مجبور ہو گئے۔امسال موسم سرما کے دوران برفباری نہ ہونے کے برابر رہی ہے، جس سے حالات مزید تشویشناک ہو گئے ہیں۔ عام طور پر برفباری دریاؤں، ندی نالوں اور نہری نظام کیلیے پانی کا بنیادی ذریعہ سمجھی جاتی ہے، تاہم برف کی شدید کمی کے باعث رواں شالی سیزن میں پانی کی شدید قلت کا خدشہ ظاہر کیا جا رہا ہے۔زرعی ماہرین اور کسانوں نے ارگیشن و فلڈ کنٹرول ڈیپارٹمنٹ کی کارکردگی پر سخت سوالات اٹھاتے ہوئے مطالبہ کیا ہے کہ تمام ارگیشن اسکیموں کو وقت سے پہلے مکمل طور پر قابلِ استعمال بنایا جائے۔ ان کا کہنا ہے کہ نہروں کی فوری صفائی، خستہ حال ڈھانچے کی مرمت اور لفٹ ارگیشن اسکیموں کے لیے مسلسل بجلی کی فراہمی کو یقینی بنانا ناگزیر ہو چکا ہے، بصورت دیگر صورتحال گزشتہ برس سے بھی بدتر ہو سکتی ہے۔ بانڈر پورہ اور گوری پورہ کے دیہات میں نہروں کی صفائی کا کام تاحال شروع نہ ہونا انتظامی غفلت کی واضح مثال قرار دیا جا رہا ہے، حالانکہ رکنِ اسمبلی پلوامہ وحیدالرحمان پرہ کی جانب سے اس حوالے سے متعدد بار سفارشات کی جا چکی ہیں۔ مقامی لوگوں کا کہنا ہے کہ بند نہروں نے ارگیشن اسکیموں کو محض کاغذی منصوبوں تک محدود کر دیا ہے، جس کے باعث زرخیز زرعی زمینیں آہستہ آہستہ بنجر ہونے کے دہانے پر پہنچ رہی ہیں۔ کاشتکاروں نے ضلعی انتظامیہ سے فوری، عملی اور جنگی بنیادوں پر اقدامات اٹھانے کا مطالبہ کرتے ہوئے خبردار کیا ہے کہ اگر ارگیشن نظام کو بروقت درست نہ کیا گیا تو نہ صرف شالی کی کاشت بلکہ غذائی تحفظ، کسانوں کی روزی روٹی اور ضلع کی مجموعی دیہی معیشت کو ناقابلِ تلافی نقصان پہنچ سکتا ہے۔