پلوامہ :المیوں کی سرزمین !

سال   2018ء میں وادی ٔ کشمیر کا طول و عرض کشت وخون اور ماراماری میں گزرا۔ جنوبی کشمیر کی زمین اگر چہ کچھ زیادہ ہی انسانی خون سے لالہ زار ہوئی مگر سری نگر سمیت شمالی اور وسطی کشمیر میں بھی جھڑپیں، مظاہرے اور احتجاجوں کے متعدد واقعات وقوع پذیر ہوئے۔ تاہم15 ؍دسمبر کوجنوبی کشمیرکے ہنگامہ خیز ضلع پلوامہ کے خار پورہ سرنو گائوں میں سات شہری ہلاکتوں اور تین عسکریت پسندوں نے کشمیر کو ہلا ڈالا۔ تفصیلات کے مطابق فورسز کو اس گاؤں میںعسکریت پسندوں کی موجودگی کی مصدقہ اطلاع ملی تھی ۔ فورسز نے گاؤں کا سخت گھراؤ کیا ، طلوعِ صبح کے ساتھ ہی لوگوں نے اپنے آپ کو شدید فوجی محا صرے میں پایا ۔ عینی شاہدین کے مطابق سحر ہوتے ہی سارا گائوں بندوقوں کی گن گرج سے اچانک لرز اُٹھا، مختصر معرکہ آرائی کے بعد وردی پوشوں کی راست فائرنگ سے تین عسکریت پسند موت کی بادی نیند سوگئے اور اس کے بعد جائے وقوعہ پر سات عام شہری بھی گولیوں کی بوچھاڑ میں جان بحق کئے گئے، علاوہ ازیں بیسیوں افرادزخمی ہو گئے جن میںاطلاعات کے مطابق چند ایک کی حالت اب بھی غیر ہے۔ اس کرب ناک واقعہ میں جہاں آٹھویں اور دسویںجماعت کے اَدھ کھلے پھول چہرے بچے فورسز اہل کاروں کے ہتھے چڑھ گئے ، وہاںکریم آباد کا عابدحسین( تعلیمی قابلیت MBA) بھی اس جھڑپ کی بھینٹ چڑھ گیا۔ عابدحسین چند سال پہلے انڈونیشا نوکری کے سلسلے میں گیا ہوا تھا اور 2016ء میں وہاں پر صائمہ نام کی ایک انڈونیشین لڑکی سے نکاح کر کے گزشتہ سال اپنی بیوی سمیت کشمیر لوٹ آیاتھا۔صائمہ کو جب عابد نے شادی کا پیغام دیا تو اس نے عابد سے کشمیر کے حالات وکوائف کے بارے میں پوچھا ۔عابد نے کہا کہ کشمیر جنت ہے اور آپ کو فکر کر نے کی کوئی ضرورت نہیں ،لیکن جب صائمہ کشمیر آئی تو اسے ہر دن یہاں چھاپے اور انکاؤنٹر دیکھنے کو ملے، یہاں افرا تفری کا ایسا ماحول دیکھنا نصیب ہوا جس کا اس نے اپنے ملک میں خواب وخیال میں بھی نہ سوچا تھا۔ عابدکے ہاں ایک لڑکی پیدا ہوئی جس کی عمر ابھی محض تین ماہ ہے کہ وہ بے چاری سایہ ٔپدری سے محروم ہو گئی۔صائمہ کے مطابق عابد صابن اور دودھ لانے کے لئے گھر سے نکلاتھا لیکن ہمیں اُس کی نعش ہی واپس ملی۔ عینی شاہدین کے مطابق اس خونین معرکے کے اختتام کے بعد عسکریت پسندوں اور ایک فوجی اہل کار کی نعشوں کو فوجی ایک گاڑی میں ڈال رہے تھے کہ اسی دوران ایک دوسری فوجی گاڑی تنگ گلی میں سے گزر رہی تھی ، وہاں فوجیوں نے احتجاجی نوجوانوں کی ایک ٹکڑی کو نعرہ بازی کرتے ہوئے پایا توگاڑی میں سوار فورسز اہل کاروں نے فی الفور احتجاجی نوجوانوں پر راست فائرنگ کی کہ دیکھتے ہی دیکھتے6 ؍ نوجوان موقع ٔواردات پر ہی دم توڑ بیٹھے ، جب کہ ایک نوجوان ہسپتال میں جاں بحق ہو گیا۔ ا س واقعے میں 70؍کے قریب نوجوان زخم زخم ہوئے۔ قتل عام کے بعد پلوامہ میں زخمی نوجوانوں کو ہسپتال منتقل کر نے کا عمل شروع ہوا تو ہر طرف قیامت خیز مناظردیکھنے کو ملے۔ سرینگر کے ہسپتالوں میں ایمبولینس گاڑیاں زخمیوں کو کس عالم میں ہسپتال پہنچارہی تھیں وہ لفظوں میں بیان نہیں کیا جاسکتا۔ علاقے میں جنگی ماحول  ختم ہوتے ہی آناًفاناً سوگواری کی فضا ہر چیزپر چھا گئی۔اس قتل و غارت گری کی غم انگیزی کا اندازہ اس بات سے بھی بخوبی لگایا جاسکتا ہے کہ ایک شخص جو پلوامہ میں معرکہ آرائی کے دوران فورسز کی فائرنگ سے زخمی نوجوان کی عیاد ت کے لئے پلوامہ ضلعی ہسپتال پہنچا تھا ، وہ یہ دیکھ کر غش کھاگیا کہ بیڈ پر پڑی ایک معصوم بچے کی لاش کسی اور کی نہیں بلکہ اس کے اپنے بیٹے عاقب بشیر کی دراز تھی۔
 بے غبار سچ یہ ہے کہ جہاں کشمیر میں دلوں کو چھلنی کرنے والے ایسے ناقابل بیان واقعات زندہ ضمیر انسانوں کو تڑپاتے ہیں ،وہاں امن شانتی کے دعویداروں کو اس طرح کے قیامت خیز واقعات رونما ہونے سے کوئی فرق نہیں پڑتا بلکہ وہ ایسے خونین کھیل کھیلنے میں خوشی محسوس کرتے ہیں کیونکہ کشمیر میں ماراماری سے ان کا ووٹ بنک مضبو ط سے مضبوط ترہوتا ہے ۔ ہمارے سامنے ایسی درجنوں مثالیں ہیں جن سے یہی اخذ ہوتا ہے کہ کشمیر میں کوئی حکمران طاقت کے نشے میں جتنی بھی حدیں بے دردی کے ساتھ پھلانگ ڈالے،اتنا وہ زعفرانیوں میں ہر دل عزیز ہوتا ہے ۔پلوامہ المیہ کے تناظر میں بھارتی فوج کے چیف جنرل بپن راوت نے میڈیا کے ساتھ بات کرتے ہوئے بغیر کسی ہچکچاہٹ کے یہ کہا:’’ کشمیر میں پتھر بھی اسی طرح مہلک ہے جس طرح بندوق مہلک ہے‘‘ اپنے ایک اور بیان میں جنرل راوت نے پہلے کہا تھا:’’ جو فورسز پر پتھر پھینکیں گے اُن کے ساتھ بھی عسکریت پسندوں کے مددگار کے طور سلوک کیا جائے گا۔‘‘ سوال یہ ہے کہ کیا دنیا میں کسی اور ملک میں آج تک پتھر کا موازنہ بندوق سے کیا گیا ؟کیا پتھر کا جواب گولی ہوسکتی ہے؟کیا بھارت میں کسی دوسری جگہ عوام پر اپنے جائز حقوق کی مانگ کے ’’جرم ‘‘ میںگولی کا استعمال ہوتاہے ؟ کامنی المیہ پر دلی میں غم و غصہ کا اُبال آیا، ایک میڈیکل سٹوڈنٹ کی چلتی گاڑی میں اجتماعی زیادتی پر لوگوں نے احتجاجی جلسے جلوس ہی نہ کئے بلکہ دلی پولیس پر سنگ باریاں کیں کہ کئی اہل کار زخمی ہوئے اور ایک پولیس کرمی جان سے ہاتھ دھو بیٹھا مگر کیا مجال پتھراؤ کر نے والوں کو شدت پسندی کا لیبل دیا جاتا، سبری مالا مندر میں ہندوخواتین کے داخلے پر ممانعت عدالت اُٹھاتی ہے تو کٹر پنتھی سنگھ پریوا ر اس کے خلاف سیخ پا ہو کر پولیس پر جم کر پتھراؤ کر تا ہے مگر ان سنگ بازوں کو ’’شردھالوں ‘‘ کہا جاتاہے جب کہ کشمیر میںسوگوار مظاہرین کو’’ آنتک وادیوں کے سمر تھک‘‘ کہہ کر ان پر گولیاں چلائی جاتی ہیں ۔ یہ دوہرا معیار نہیں تو اور کیا ہے ؟ چند روز قبل یوپی کے بلند شہر کے کسی کھیت میں گائے کا گوشت موجود ہونے کا شوشہ پھیلا ، گئو رکشکوںنے ہنگامہ کھڑا کیا، پولیس نے تشدد پر آمادہ ہجوموں کو قابومیں کر نے کے لئے پو لیس حرکت میں آگئی اور ہلڑبازوں نے ایک ہندو پولیس آفسر سبودھ کمار سنگھ پر راست گولی چلائی کہ اُس کی بر سر موقع موت واقع ہوئی۔ ذرا سوچئے ہتھیار بند جنونی کھلے عام ہتھیار کا استعمال کرتے ہیں اور ایک پولیس آفیسر کو دن دھاڑے موت کی گھاٹ اُتار دیتے ہیں مگر اس کے جواب میں کتنے جنونیوں کو مارا گیا؟ ایک بھی نہیں لیکن سنگ بازی کی آڑ میں کشمیر میں نہتے لوگوں کا قتل عام کرکے ’’بہادری‘‘ کا مظاہرہ کیا جائے تو یہ دیش بھگتی کہلائے؟ AFSPA کو ڈھال بنا کر معصوم انسانوں کا قتل عام کرنا کہاں کی انسانیت ہے ؟ پہلے ا نسانوں کی جان لینا پھر بڑی بڑی باتیں کر کے مشتعل عوام کو انکاؤنٹر سائٹس کے قریب نہ آنے کی صلاح دینا اور فورسز کو آپریشن کے دوران صبر وتحمل برتنے کی فہمائش کر نا محض مگر مچھ کے آنسو بہانے کے مترادف ہے ۔اصل میں یہ باتیں دنیا میں ہورہی تنقید کو روکنے کی ناکام کوششیں ہیں اور کچھ نہیں ۔ آج تک کبھی انکاؤنٹر سائٹ پر کو لیٹرل ڈمیج سے بچنے کے لئے زیر محاصرہ بستی کو تحفظ فراہم کیا گیا؟ کسی گھر کو زمین بوس ہونے سے بچایا گیا؟ کسی قتل عمد سے احتراز کیا گیا ؟ یہہلاکتیں اور تباہیاں ایک  پالیسی کے تحت کی جا رہی ہیں۔
  غور طلب ہے کہ کشمیر میں زمینی حالات کے حوالے سے فوجی جنرلوں کی سوچ میں یکسانیت نظر آتی ہے ۔ فوجی سربراہ کے برعکس15ویںکور کے جنرل آفیسر کمانڈنگ لیفٹنٹ جنرل انیل کماربٹ کا لہجہ الگ نوعیت کا ہے، وہ کہتے ہیں’’ فوج ملی ٹنسی کو ختم کر سکتی ہے سنگ بازی پر بھی کسی حد تک رو ک  لگاسکتی ہے لیکن پائیدار امن کے لئے مسئلہ کشمیر کے دیرینہ تنازعے کے خاتمے کے لئے اچھی سیاسی لیڈر شپ اور کشمیری نوجوانوں کے ذہنوں اور رجحانات کوصحیح راہ دینے کی ضرورت ہے ۔‘‘میڈیا کے ساتھ بات کرتے ہوئے جنرل موصوف نے
 کہا کہ’’ مسئلہ کشمیر کے حل کے لئے فوج کا کردار محدود ہے، باقی سارا کام سیاسی قیادت کا ہے ۔‘‘اس سے قبل ایک ریٹائرڈ جنرل پناگ نے بھی کشمیر کے حوالے کہا کہ’’ مسئلہ کشمیر کا کوئی فوجی حل نہیں بلکہ اس کا صرف سیاسی حل ممکن ہے ۔‘ ‘ظاہری طور پر یہ فوجی جنرل کشمیر حل کی ضرورت اجاگر کر نے کے لئے کبھی کبھی نرم لب و لہجہ اختیار کرتے ہیں لیکن اس کا زمینی سطح پر اس صاف گوئی کا کوئی اثر دکھائی نہیںدیتا ۔
ملک کے متعصب میڈیا نے ہمیشہ پلوامہ جیسے روح فرسا سانحات کو بھینگی آنکھ سے دیکھا اور دکھایا اور اس دوران صحافتی اُصولوں کی مٹی پلید کرنے میں یہ لوگ ایک دوسرے سے سبقت لینے کی دوڑ میں لگے رہے تاکہ ان کی دیش بھگتی کی سوگندھ کھائی جائے۔ پلوامہ کے قیامت خیز سانحہ کے بعد دنیا بھر میں فورسز کی اس بے جواز کارروائی پر شدید تنقید یں ہوئیں اور ا نفرادی واجتماعی سطح پر بھی ذی حس لوگوں اور انصاف پسند طبقات نے اس طرح کی دلخراش کارروائیوںکو غیر انسانی تک قرار دیا۔ یہاں تک کہ بھارت کے ایک سابق جج جسٹس مارکنڈے کاٹجو نے اپنے ضمیر کی پکار پر اس حوالے سے فوج کی شدید الفاظ میں نکتہ چینی کی۔ اپنے ٹوئٹس میں مارکنڈے کاٹجو نے سخت ترین الفاظ میںاس سانحہ کو جلیان والا باغ سے تشبیہ دی ہے اور فوجی سربراہ کو جنرل ڈائر اور ویت نام میں خون کی ہولی کھیلنے والے لیفٹنٹ کیلی کی یاد دلائی۔میڈیا رپورٹس کے مطابق پریس کونسل آف انڈیا کے سابق سربراہ کاٹجو نے ٹویٹ کرتے ہوا لکھا ’’انڈین آرمی کے لئے تین تالیاں ،جس نے اب کشمیر میں عام شہریوں کو قتل کرنا شروع کر دیا ۔۔۔ جیسے جنرل ڈائر نے جلیانولاباغ اور لیفٹنٹ کیلی نے مائے لائے ویت نام میں کیا تھا ،ایسا ہی انڈین آرمی نے کشمیر کے پلوامہ علاقے میں کیا ‘‘۔طنزیہ انداز میں کاٹجو نے لکھا : ۔۔۔پلوامہ کشمیر میں جلیانولاباغ اور مائے لائے ویت نام طرز پر ۷ عام شہریوں کو موت کی نیند سلا دینے پر جنرل کو مبارک باد ‘‘۔موصوف کی اس حق بیانی کے بر عکس جموں کشمیر اسمبلی کے سابق اسپیکر اور بی جے پی نیتا کوئندر گپتا نے شہری جانوں کے زیاں پر اظہار تاسف کر نے کے بجائے یہ دور کی کوڑی لائی کہ’’ جو لوگ فورسز کی فائرنگ سے مارے گئے وہ فورسز سے ہتھیار چھیننا چاہتے تھے ،اسی لئے وہ مارے گئے ۔‘‘اسی طرح ۵؍ ماہ قبل جنوبی ضلع کولگام کے چڈر کھری ون علاقے میں فورسز کی گولیوں کا نشانہ بنے نوجوان یاور احمد کو سوگواری ہجوم کا حصہ قرار دیتے ہوئے انتظامیہ نے بشری حقوق کے ریاستی کمیشن میں پیش گئی رپورٹ میں دعویٰ کیا:’’ فوج نے ہوا میں گولیاں چلائیں اور یاور کے سینے میں گولی لگی جس کی وجہ سے یاور جاں بحق ہو گیا۔‘‘ہوا میں چلائی ہوئی گولی زمین پر چلنے والے بندے کے سینے کو چھلنی کرنے کا انوکھا سانحہ صرف کشمیر میں ہی وقوع پذیر ہوسکتا ہے کیونکہ یہاں جھوٹ اور فریب کی سرپرستی انتظامی سطح پر ہورہی ہے۔وا حسرتا…!
 افسوس صد افسوس تعصب زدہ میڈیا کے ساتھ ساتھ ووٹ کے لئے کشمیری مسلمانوں کو پلوامہ جیسے المیوں میں تہ تیغ کئے جانے کے باوجود سیاست دانوں کو بھی وادی میں موت کا  یہ تانڈو ناچ نظر نہ آئے تو کیا کہیں۔ پلوامہ جیسے درجنوں المیے ہماری آنکھوں نے قیامت خیز مناظر کی صورت میں آج تک دیکھے ہیں۔ وادی میں کھلتی جوانیوں کا قتل عام بھی ہم بے بسی  کے عالم میںدیکھ رہے ہیں ۔ان گھناؤنی اور نسانیت سوز کارروائیوں پر وادی کے ہند نواز سیاست دانوں کے مگر مچھ آنسو بھی بہتے ہیں۔ چنانچہ آج کل سابق وزیر اعلیٰ محبوبہ مفتی پھر سے فی الحال جنوبی کشمیر کے پلوامہ ضلع میں حالات کے متاثرہ دو کنبوں کے یہاں حاضری دیتے ہوئی دیکھی گئیں، یہ سلسلہ آگے بھی جاری رکھنے کا امکان موجود ہے اور محاورے کی زبان میں سو چوہے کھاکر بلی حج کو چلی گئی کے مصداق یہ سیاست ان لوگوں کی گھٹی میں پڑی ہے کہ کرسی پر بیٹھ کر دست ِتظلم کی ہر حیثیت میں مددگار بنو اور کرسی گئی تو لوگوں کے دُکھ درد بانٹنے کا ڈھونگ رچاؤ۔ اسی سلسلے کی ایک کڑی یہ ہے کہ وزیر داخلہ راج ناتھ سنگھ نے بھی ایک بیان میں فورسز اہلکاروں کو’’ ہدایت‘‘ دی کہ وہ امن و قانون کی صورت حال بنائے رکھتے ہوئے عسکریت مخالف آپریشنوں کے دوران شہری ہلاکتوں سے بچنے کے لئے صبر و تحمل کا مظاہرہ کریں ۔اگر نئی دلی واقعی انسانیت کی بنیاد پر سنجیدگی سے کشمیر حل کے لئے مذاکرات ومکالمت کا طریق کار اختیار کر تی تو آج ہمیں انتیس سال سے وادی بھر میںلاشوں کے انبار دیکھنے کو نہ ملتے ، ہم یہاں بستیوں کو اُجڑتے نہ دیکھتے ۔ ایسا نہ کر نے کی قسم کھاتے ہوئے ایسی’’ہدایت ‘‘ جاری کر نا الفاظ کا گورکھ دھندا ہے ۔ وادیٔ کشمیر میں انسانی حقوق کی پتلی حالت پر وادی کے ہی ایک سماجی کارکن کا یہ کہنا بجا ہے کہ انسانی حقوق کی پامالیوں کے خلاف حکومتی دعوئوں کے باوجود یہاں عوام کو انصاف ملنا محال ہے ، کہنے کو یہاں ایف آئی آر بھی درج کئے جاتے ہیں، انصاف کی یقین دہانیاں بھی کی جاتی ہیں ، قتل عام میں کام آنے والوں کے لواحقین کو انصاف کے جھوٹے وعدے بھی دئے جاتے ہیں لیکن آج تک کس کو یہاں انصاف ملا ؟کس وردی پوش کو اپنے کئے کی پاداش میں سلاخوں کے پیچھے دھکیل دیاگیا ؟کیا رواں سال شوپیان وپلوامہ میں ہوئے قتل عام میں ملوثین کے خلاف ضابطے کی کوئی کارروائی ہوئی ؟کیا کنن پوشپورہ ،بدرہ پائین ،اور شوپیان کی آسیہ اور نیلو فر جیسی ہزاروں بہنوں کو انصاف ملا؟ آثار وقرائین سے لگتا ہے کہ آئندہ بھی کشمیر میں یہی خونی کھیل جاری رکھے جانے کا خدشہ موجود ہے  ۔ المیوں کی اس سرزمین میں پلوامہ جیسے مزیدانسانی المیے روکنے کے لئے لازمی ہے کہ عالمی طاقتیں  کشمیر حل کے لئے اپنافیصلہ کن مصالحانہ رول ادا کریں۔ ا س کی شروعات کشمیر میں فی الفور افسپا جیسے کالے قوانین کا خاتمہ سے کی جائے تا کہ فورسز اہل کار وں کے ہاتھوں انسانی خون بہانے کا حیوانی سلسلہ بند ہوجائے۔اگر واقعی بھارت برصغیر میں دائمی امن اور شانتی کا خواہاں ہے اور کشمیر کے دیرینہ تنازعہ کو انسانیت ،جمہوریت اور کشمیریت کے دائرے میں رہ کر حل کرنا چاہتا ہے تو اُسے چاہئے کہ کشمیر کی حقیقی لیڈرشپ اور پاکستان کے ساتھ جموں کشمیر کے دیرینہ تنازعے کا حل حقیقت پسند بن کر نکالے ۔ ا س سے آرپار کو کوئی مفر نہیں ۔
