آئندہ سال اضافہ کرانے کی کوشش کی جائیگی: ڈی جی فیملی ویلفیئر
سرینگر //پلس پولیو مہم کے تحت اتوار کو پورے بھارت کے ساتھ ساتھ جموں و کشمیر میں بچوں کو پولیو مخالف قطرے پلائے جائیں گے لیکن اس مہم کا انتہائی دردناک پہلو یہ ہے کہ گھر گھر جاکر بچوں کو ’’پولیو مخالف قطرے‘‘ پلانے والی خواتین ملٹی پرپز ہیلتھ ورکر، آشا ، آئی سی ڈی ایس ورکروں اور ایک رضاکار پر مشتمل 4 ا خواتین کی ٹیم کو 3دنوں کی انتھک محنت کیلئے صرف ایک ہزار روپے دیا جاتا ہے۔اس طرح محکمہ صحت روزانہ 75روپے کے حساب سے ورکروں کو تعینات کرکے کشمیر میں پلس پولیو مہم کو انجام دیتا ہے۔کشمیر میں آشا اور خواتین ملٹی پرپز ورکروں کی سٹیٹ کارڈنیٹر طاہرہ کا کہنا ہے کہ پلس پولیو مہم کے پہلے دن صبح 9بجے سے لیکر 4بجے تک منتخب بوتھ پر بچوں کوقطرے پلانے ہوتے ہیں۔طاہرہ نے بتایا ’’4ممبران پر مشتمل ٹیم کے اراکین مہم کے دوسرے دن بوتھ کے تحت آنے والے علاقوں میں گھر گھر جاکر بچوں کو قطرے پلاتے ہیں جبکہ آخری دن یعنی مہم کے تیسرے روز ان گھروں کی نشاندہی کی جاتی ہے جن گھروں میں بچوں کو پولیو مخالف قطرے پلائے جاتے ہیں‘‘۔ طاہرہ نے کشمیر عظمیٰ کو بتایا کہ4 خواتین پر مشتمل ٹیم میں ایف ایم پی ایچ ڈبلیو(Female Multipurpose Health worker) ورکر کے علاوہ ایک آشا ورکر، ایک آئی سی ڈی ایس ورکر اور ایک رضاکار شامل ہوتا ہے‘‘۔طاہرہ نے مزید بتایا ’’ٹیم کو نہ تو کوئی آنے اور جانے کا خرچہ دیا جاتا ہے ، نہ ہی کھانے پینے کا کوئی انتظام ہوتا ہے‘‘۔ان کا کہنا تھا کہ 4ورکروں کو 3دنوں کیلئے صرف 1000روپے دیا جاتا ہے جو ایک خاتو ن ورکر کیلئے روزانہ 75روپے بنتے ہیں۔ انہوں نے کہا کہ فیمل ملٹی پرپز اور دیگر ملازمین کی تنخواہوں میں اضافہ کیا گیا لیکن آشا ورکروں کے ماہانہ مشاعرہ ابھی بھی 2000ہزار روپے پر رکا ہوا ہے‘‘۔ انہوں نے کہا کہ ان ہی 2ہزار روپے میں گھر کے اخراجات کے علاوہ پلس پولیو مہم کے دوران مزید مالی بوجھ پڑتا ہے۔طاہرہ نے مزید کہا ’’ سرکار نے عالمی وباء کے دوران اضافی ڈیوٹی انجام دینے پر مارچ سے جون تک ماہانہ اضافہ 1000روپے دینے کا علان کیا لیکن جولائی مہینے سے یہ بھی بند ہوگیا جبکہ وباء کی بیماری ابھی مکمل طور پر ختم نہیں ہوئی ہے‘‘۔ڈائریکٹر جنرل ہیلتھ اینڈ فیملی ویلفیئر ڈاکٹر سلیم الرحمان نے کشمیر عظمیٰ کو بتایا ’’یہ چیزیں اتنی جلدی نہیں بدل سکتیں کیونکہ اس کیلئے پالیسی مرکزی سرکار کی جانب سے آتی ہے اور پورے ملک میں ہی ایسا ہے‘‘۔ انہوں نے کہا ’’ میں دیکھوں گا کہ ان فیمل ملٹی پرپز ورکروں اور آشا ورکروں کیلئے کیا کرسکتا ہوں‘‘۔ڈاکٹر سلیم الرحمان نے مزید بات کرتے ہوئے کہا ’’ میںاس اہم معاملے کو فیملی ویلفیئر کے سالانہ پلان اخراجات کا حصہ بنائوں گا اور آئندہ سال اس میں ضرور کچھ اضافہ ہوگا‘‘۔