عظمیٰ نیوزسروس
ماسکو//بیلا روس کے محکمہ دفاع نے کہا ہے کہ روس کے نجی مسلح گروپ ’واگنر‘ کا کوئی جنگجو ان کے ملک میں نہیں ہے اور واگنر کے سربراہ یوگینی پریگوزن اس وقت روس میں ہیں۔ادھر بیلا روسی صدر الیکزینڈر لوکاشینکو کا کہنا ہے کہ مسلح گروہ واگنر کے سربراہ یوگینی پریگوزن جنہوں نے گذشتہ ماہ روس میں مختصر مدت کے لیے بغاوت کی قیادت کی تھی، بیلاروس میں نہیں بلکہ روس میں ہیں۔جمعرات کو بیلاروس کے صدر لوکاشینکو نے کہا کہ ’جہاں تک پریگوزن کا تعلق ہے تو وہ سینٹ پیٹرزبرگ میں ہیں۔ وہ بیلاروس کے علاقے میں نہیں ہیں۔‘لوکاشینکو کے بیان کے جواب میں کریملن نے کہا ہے کہ وہ پریگوزن کی نقل و حرکت پر نظر نہیں رکھ رہا ہے۔لوکاشینکو نے بغاوت کو ختم کرنے کے لیے معاہدے میں مدد کی تھی اور صرف ایک ہفتہ قبل کہا تھا کہ پریگوزن بیلاروس پہنچ گئے ہیں۔
تاہم انہوں نے اپنے ہی اس دعوے کی ترید کردی جس کا اعتراف ایک ہفتے قبل انہوں نے کیا تھا۔ادھر امریکی اخبار ’نیویارک ٹائمز‘ نے نئی سیٹلائٹ تصاویر شائع کی ہیں جن کے بارے میں اخبار نیدعویٰ کیا ہے کہ یہ تصاویر بیلا روس کے ایک متروکہ فوجی اڈے کی ہیں۔ اخباری رپورٹ کے مطابق گذشتہ پانچ دنوں میں بیلاروس کے ایک ویران فوجی اڈے پر سینکڑوں بڑے خیمے لگائے گئے ہیں۔امریکی اخبار نے پہلی بار ایک ہفتہ قبل اطلاع دی تھی کہ خالی کرائے گئے اڈے پر تعمیراتی کام ہو رہا ہے اور گذشتہ جمعرات اور جمعہ کو لی گئی تصاویر سے پتہ چلتا ہے کہ ایک بڑا فوجی کیمپ بنایا گیا ہے۔ذرائع کے مطابق یہ اڈہ واگنر جنگجوؤں کا ممکنہ ٹھکانہ ہو سکتا ہے جنہیں ناکام بغاوت کے بعد بیلاروس جانے کا اختیار دیا گیا تھا۔ تصاویر سے پتہ چلتا ہے کہ کمک ہزاروں جنگجوؤں کی ضروریات کو پورا کر سکتی ہے، لیکن تصاویر یہ بھی ظاہر کرتی ہیں کہ افواج ابھی تک نہیں پہنچی ہیں۔تصاویر پہلی بار کیمپ کی تفصیلات ظاہر کرتی ہیں، جہاں 250 سے زیادہ خیمے صاف ستھری قطاروں میں ترتیب دیئے گئے ہیں۔ یہ اتنے بڑے دکھائی دیتے ہیں کہ ان میں کئی ہزار افراد کے سما سکتے ہیں۔