جموں//بھارتیہ جنتا پارٹی کی ریاستی قیادت کی مشکلات میں اس وقت مزید اضافہ ہو گیا جب لیہہ میں 2مئی کو ہوئی اس پریس کانفرنس کی فوٹیج سامنے آ گئی جس میںصحافیوں کو لفافے تقسیم کرتے ہوئے دکھایا گیا ہے ۔ 2.46منٹ طویل اس سی سی ٹی وی فوٹیج میںلداخ حلقہ کیلئے بی جے پی کے انچارج اور ایم ایل سی وکرم رندھاوا، سینئر لیڈر نریندر سنگھ اور دیگر لیڈر واضح طو پر جرنلسٹوں کو لفافے تقسیم کرتے ہوئے دکھائی دے رہے ہیں، ان لفافوں میں مبینہ طور پر نوٹ بھرے ہوئے تھے جب کہ پارٹی کے ریاستی صدر رویندر رینہ بھی وہیں موجود کچھ دیگر صحافیوں کے ساتھ گپ شپ کر تے نظر آرہے ہیں۔ یہ فوٹیج ہوٹل سنگالے پیلس لیہہ سے حاصل کی گئی ہے جہاں دو مئی کو بی جے پی نے پریس کانفرنس منعقد کرکے وزیر دفاع نرملا سیتھا رمن کے دورہ کے بارے میں تفصیلات دی تھیں۔ لیہہ سے ایک صحافی نے کشمیرعظمیٰ کو بتایا کہ ’’کچھ صحافیوں نے یہ سمجھ کر لفافے لے لئے کہ ان میں پریس ریلیز ہوگی لیکن ایک خاتون صحافی کو جب بی جے پی لیڈر نے لفافہ نہ کھولنے کے لئے اصرار کیا تو اسے شک گزرا اور اس نے لفافہ کھول لیا تو اس میں 500روپے کے کئی نوٹ پائے گئے۔ اس کے بعد تمام صحافیوں نے یہ لفافے لینے سے انکار کر دیا۔ اس کے بعد 3مئی کو پریس کلب لیہہ نے باقاعدہ شکایت درج کروائی جس میں کہا گیا تھا کہ بی جے پی لیڈران نے انہیں رشوت دینے کی کوشش کی جو کہ نہ صرف ضابطہ اخلاق کی خلاف ورزی ہے بلکہ اقدار کے منافی بھی ہے ۔ ضلع ترقیاتی کمشنر لیہہ اینوی لواسہ، جو کہ لداخ پارلیمانی حلقہ کیلئے ریٹرننگ آفیسر بھی ہیں، نے اس واقعہ کی تصدیق کرتے ہوئے بتایا کہ ابھی تک اس سلسلہ میں ایف آئی آر درج نہیں کی گئی ہے ۔ انہوں نے کشمیر عظمیٰ کو بتایا’’ہمیں صحافیوں سے شکایت موصول ہوئی ہے ، ہم نے عدالت کے ساتھ رجوع کیا ہے لیکن ابھی تک عدالت سے ایف آئی آر درج کرنے کی ہدایت نہیں ملی ہے‘‘۔ ذرائع کا کہنا ہے کہ پولیس بھی معاملہ کی جانچ پڑتال کر رہی ہے اور فوٹیج کی حقیقت معلوم کرنے کی کوشش کر رہی ہے ۔ اگر یہ فوٹیج صحیح پائی جاتی ہے تو اس سلسلہ میں چیف الیکٹورل آفیسر کو مطلع کیا جائے گا۔