پروفیسربد خشی کی تصنیف’نواب داغ،شخصیت و شاعری‘ | شہنشاہ ہوٹل میں رسم اجرائی ، مرحوم کو خراج عقیدت

سرینگر//معروف افسانہ نگار اور ماہر تعلیم پروفیسرمخمور حسین بد خشی کی کتاب’’ نواب داغ،شخصیت و شاعری‘‘ کی رسم رونمائی بعد از وفات کی گئی۔مرحوم بدخشی کو خراج عقیدت ادا کرتے ہوئے مقررین نے کہا کہ بہت کم لکھنے کے باوجود انکا نام ادبی دنیا میں تابندہ ہے۔ سرینگر کے ایک مقامی ہوٹل میں ہفتہ کو کشمیر بُک پرموشن ٹرسٹ اور نگینہ انٹرنیشنل کی جانب سے ایک تقریب کے دوران مرحوم پروفیسر مخمور حسین بدخشی کی کتاب ’’ نوابِ داغ،شخصیت و شاعری‘‘ کی رسم رونمائی ہوئی۔پروفیسر مخمور حسین کا انتقال گزشتہ دنوں4اگست کو ہوا تھا۔ کتاب کی رسم رونمائی کے موقعہ پر وادی میں اردو ادب سے تعلق رکھنے والے معروف اور نامور مصنفین،شعراء ،افسانہ نگار،نقاد اور  شیدائی بھی موجود تھے۔ تقریب کی صدارت معروف عالم دین مولانا شوکت حسین کینگ قادری نے کی جبکہ ایوان صدارت میں معروف افسانہ نگار وحشی سعید ، کشمیر یونیورسٹی کے ڈین فیکلٹی ڈاکٹر شبیراحمد،ڈاکٹر قیصر، شبیر ماٹجی موجود تھے ۔ تقریب میں نامور قلمکار نور شاہ، معالج و مصنف ڈاکٹر نذیر مشتاق، سلیم سالک، محمد اشرف دیدار، پروفیسر الطاف حسین قادر، پرفیسر منظور، اردو کونسل کے ترجمان جاوید کرمانی،شکیل قلندر  کے علاوہ مرحوم بدخشی کے فرزندان و دیگر اہل خانہ نے شرکت کی۔ تقریب سے خطاب کرتے ہوئے مقررین نے مرحوم مخمور حسین کو خراج عقیدت ادا کرتے ہوئے انہیں ایک زندہ دل،خوش اخلاق، حکیمانہ طبیعت کا مالک قرار دیا گیا۔ سلیم سالک نے کہا کہ آنے والے دنوں میں مرحوم کے کام پر تحقیق ہوگی اور یہ نوجوان قلمکاروں کیلئے ایک سنگ میل ہے۔ان کا کہنا تھا کہ مرحوم کی تصنیف’ نیل کنول مسکائے ‘واحد ایسی کتاب ہے جس میں یہ افسانہ موجود ہی نہیں ہے۔ ڈاکٹر نذیر مشتاق نے مرحوم کو خراج عقیدت ادا کرتے ہوئے کہا کہ مرحوم بدخشی کاحکیمانہ لطافت میں کوئی ثانی نہیں تھا۔انہوں نے کہا کہ بہت کم لکھا تاہم اس کے باوجود اردو اداب میں انکا نام تابندہ ہے۔ ڈاکٹر شبیر احمدنے کہا کہ مرحوم بدخشی مزاح نگارانہ طبیعت کے مالک تھے اور انکو زندگی جینے کا منفرد طریقہ تھا۔ وحشی سعید نے کہا کہ جموں کشمیر کے اردو ادب میں ’نیل کنول مسکائے ‘ایک منفرد حیثیت رکھتی ہے۔ مولانا شوکت حسین کینگ نے کتاب پر تبصرہ کرتے ہوئے انکی زندگی کے مختلف پہلوئوں پر روشنی ڈالی۔انہوں نے کہا کہ ذاتی زندگی میں وہ جہاں مزاح نگاری میں سبقت لیتے تھے تاہم اس کتاب کا مطالعہ کرتے ہوئے میں اس حقیقت سے آشنا ہوا کہ وہ ایک نہایت ہی سنجیدہ اور اعلیٰ پائے کے قلمکار تھے۔ انہوں نے پروفیسر مخمور حسین بدخشی کو افسانوی ادب کی تاریخ میں ایک سنگ میل قرار دیا۔ انہوں نے کہا کہ پروفیسر بدخشی ان گنت صلاحیتوں کے حامل تھے اور اپنے ذوق کی وجہ سے اردو قارئین میں مشہور ہوئے۔ ان کا کہنا تھا کہ پروفیسر بدخشی بہت کم لکھتے تھے،تاہم انہوں نے جو بھی لکھا وہ قا بل رشک ہے ۔ مخمور حسین پائین شہر کے ملارٹہ علاقے سے تعلق رکھتے تھے،اور ایک مذہبی گھرانے میں سال1938میں پیدا ہوئے۔انہوں نے ابتدائی تعلیم بھی مقامی طور پرحاصل کی جبکہ پروفیسر مخمور حسین کو جامعہ کشمیر میں شعبہ اردو کے پہلے بیچ کے طالب علموں میں شامل ہونے کا شرف بھی حاصل تھاجہاں انہوں نے1963میں شعبہ اردو میں ایم اے کی ڈگری حاصل کی۔مرحوم عمر بھر اردو کی خدمت بھی کرتے رہیں اور اسلامیہ کالج آف سائنس میں بطور اردو مدرس کے طور پر 1965 سے 1995 تک طلاب کو تعلیم دیتے رہیں اور آخر کار اسی شعبے کے سربراہ کے بطور سبکدوش بھی ہوئے۔ بدخشی کا اردو افسانہ نگاروں میں ایک اہم مقام تھا جبکہ انکے افسانے برصغیر کے معیاری و معتبر رسائل و جرائد میں بھی شائع ہوئے۔ مرحوم کے افسانے شیرازہ کے علاوہ فروغ اردو لکھنو،پگڈھنڈی امرتسر اور بیسوی صدی دہلی بھی اکثر و بیشتر شائع ہوتے رہیں۔ مرحوم کے افسانوں کو ہند و پاک کے صف اول کے نقادوں نے بھی سراہا۔ مرحوم مخمور حسین کا پہلا افسانوی مجموعہ ’’ نیل کنول مسکائے‘‘ سال1962میں ادارہ ادبیات اردو حیدرآباد نے شائع کیا جبکہ دوسرا مجموعہ2018میں ’کاغذ کے پھول ‘کے نام سے شائع ہوا۔ پروفیسر بدخشی اپنی عمر کے آخری حصے تک ادبی سرگرمیوں میں زبردست متحرک تھے۔