پاک ۔بھارت جنگ

 بھارت ،پاکستان کے سیاسی آسمانوں اور فضاؤں پر گہری نظر رکھنے والے سنجیدہ دانشور ، تجزیہ کاراور سیاسی ماہرین مسلسل گرم محاذوں کی نفی کرتے آئے ہیں اور بی جے پی کے بر سر حکومت آنے کے بعد بھی اگرچہ کئی بار ایسا لگا کہ اب جنگ چھڑنے میں لمحات کی دیر ہے ، لیکن ہم سب اس تجربے سے گذرتے رہے ہیں کہ ابھی تک وہ جنگ نہیں چھڑی ہے جس کے امکانات ظاہر کئے جاتے ہیں۔کئی سیکٹروں میں گولہ باری ستر سال سے معمول ہے اور کوئی نئی بات نہیں ۔ ائر سٹرائیکس اور پھر ابھینندن کی واپسی تک پاک بھارتی لوگ اس تشویش میں کئی دنوں تک نہیں سوئے کہ ابھی تمام چینلوں سے جنگ کی خبریں آنا شروع ہوں گی ، لیکن بہت سارے لوگ ان لمحات میں بھی آرام سے یہ کہتے رہے کہ جنگ نہیں ہوگی۔بھارت اور پاکستان کی قیادت بھلے ہی نادانوں اور نافہموں پر محیط ہو لیکن جنگ کے معاملے میں قیادت اور عوام، جرنیلوں اور سیاسی بیان بازی میں زمین آسمان کا فرق ہوتا ہے ، اور کوئی بھی جنگ آرمی یا اسٹیبلشمنٹ کی رضا کے بغیر ممکن ہی نہیں ہوتی۔ اور اس بات پر ہم سب کا اتفاق ہے کہ موجودہ بھارتیہ سرکار کا آرمی سٹاف اگرچہ ہر لحاظ سے بیان بازی اور دوسرے پہلوؤں سے قیادت کی ہی ڈپلی کیٹ ہے لیکن جنگ کے لئے ہر حال میں ان کی رائے حتمی ہی ہوگی اور یہ فیصلے انتہائی سنجیدگی کے متقاضی ہوتے ہیں۔
بیان بازی کی ایک واضح مثال یہ بھی دی جاسکتی ہے کہ ابھی دو دن پہلے بی جے پی لیڈر نے کھلے عام یہ بات کی کہ ’’ ہم ایسے بندے ہیں جن کا  مقصد ہی اکھنڈ بھارت ہے‘‘ اور اکھنڈ کی بات جب کی جاتی ہے تو اس میں کچھ حصہ افغانستان کا ، اور بنگلہ دیش و پاکستان تو سارے کا سارا ہی اکھنڈ میں ضم ہوجاتا ہے لیکن یہ باتیں سیاسی شعبدہ بازی سے زیادہ کوئی اہمیت نہیں رکھتی ۔اصل حقیقت وہی ہے جس سے اٹل بہاری واجپائی جیسے لیڈر نے لاہور میں یہ بیان دے کر تسلیم کیا تھا کہ ’’پاکستان ایک  حقیقت ہے جو بھارت کا ہمسایہ ملک ہے ‘‘۔ بھارت کو بھی ادراک ہے کہ اب اس معاملے میں گھڑی کی سوئیوں کو کسی بھی طرح پیچھے نہیں گھمایا جاسکتا، نیو کلیر جنگ کے بعد بھی نہیں ۔ اس طرح آپ کو یاد ہوگا کہ بھارت کی موجودہ سر کار نے کئی بار اپنے عوام کو یہ تاثر دیا ہے کہ بس اب جنگ ہونے ہی والی ہے بلکہ یاد آیا کہ بہار کے حالیہ الیکشن میں ایک بی جے پی امید وار صاحب نے تو یہ تک کہا تھا کہ پی ایم مودی جی نے پاکستان اور چین کے ساتھ جنگ چھیڑنے کا مکمل پلان اور وقت مقرر کیا  ہے ۔ آپ سمجھ سکتے ہیں کہ یہ الیکشن بیانات کہلاتے ہیں اور ان کی کوئی اہمیت کہیں بھی نہیں ہوتی سوائے اس کے کہ اَن پڑھ ، گنوار اور مفلس عوام کے دل و دماغ کو تسکین مہیا کی جائے ۔
ہمارے تجزئے کے مطابق ہند و پاک کے ایسے حالات نہیں کہ کسی جنگ کے سائے منڈلانے لگیں لیکن امریکہ بہت دور بیٹھ کر اپنی تھنک ٹینکوں سے پچھلے دو سال سے مسلسل وقفے وقفے کے بعد پاک بھار ت جنگ کی پیش گوئیاں کرتا آرہا ہے۔ یہ بہت ہی خوفناک اور بہت ہی سنجیدہ قسم کا معاملہ ہے اور اس سے یوں نظر انداز نہیں کیا جاسکتا ۔ اکثر لوگ ان تھنک ٹینکوں کی اصل اور ان کے اندر دوڑتی ہوئی روح کو سمجھنے سے بہت ہی قاصر اور محروم ہیں کیونکہ ان کے خواب و خیال میں بھی امریکہ کے اصل حقائق نہیں ۔ اس لئے سب سے پہلے مختصر طور پر آپ کو اس بات سے آشنا ہونے کی ضرورت ہے کہ امریکی  پالسی ساز ادارے کون ہیں اور اصل میں پنٹا گن کے اندر کس طرح کی جان دوڈ رہی ہے ۔کچھ کتابیں امریکی مارکیٹ میں وقتاً فوقتاً آچکی ہیں جو امریکی انداز فکر اور پنٹاگن سے ہمیں متعارف کرانے کے لئے کافی ہیں۔ ان میںzionist protocol،the international jew،pawns in the game،world conqueror اور اس طرح کی بہت ساری مشہور و معروف کتب ہیں لیکن ان سب میں ایک اورنام جس سے شہرہ آفاق کہا جاسکتا اور جس کے چھاپنے کی ہمت دو برس تک کسی امریکی پبلشر نے نہیں کی ، اور آخر جب چھپی بھی تو چوبیس گھنٹوں کے اندر تمام کتب سٹالوں سے پر اسرار طور پر غائب کی گئیں ، یہ کتاب ایک بہت ہی مشہور امریکی سفارت کار ( پال فنڈلے ) کی تصنیف ہے جنہیں مڈل ایسٹ اور امریکہ دونوں جگہوں پر بڑی عزت و احترام کی نگاہوں سے دیکھا جاتا تھا ،اس کتاب کا نام They Dare To Speak Outہے اور اس کتاب کے خلاف بڑی برق رفتاری کے ساتھ تمام صیہونی لابیوں نے اس سے مارکیٹ سے غائب کردیاتھالیکن اس کے باوجود یہ ۹ ہفتوں تک بیسٹ سیلر کا ریکارڈ قائم کر گئی ،اور کئی بک سٹالوں پر لوگوں نے اس کی عدم دستیابی کے لئے پتھراؤ کیا ۔ 
بہر حا ل اس مختصر سے تعارف کے بعد میں یہی کہوں گاکہ اس طرح کی کتابیں امریکی مارکیٹ میں اس لئے نہیں آتیں اور اگر کسی طرح آبھی جاتی ہیں توبہت ہی کم عرصے میں نایاب ہوجاتی ہیں کہ حقائق کے افشا ہونے کا خوف صیہونی لابی کی نیندیں حرام کرتا ہے۔ امریکی ذمہ دار ادارے بھی اپنے عوام سے جوابدہی کے خوف سے بچنے کے لئے خاموشی ہی میں اپنی عافیت سمجھ لیتے ہیں۔ صیہونی لابی تمام امریکی ڈیپارٹمنٹس اور کلیدی اہمیت کے محکموں میں اپنی بالادستی کسی بھی طرح امریکی عوام میں مشتہر ہونے کے خلاف ہے اور اس مذکورہ کتاب میں پال فنڈلے نے امریکی عوام کو یہ سوچنے پر مجبور کردیا تھاکہ یہاں راج کس کا چلتا ہے ؟یہاں کی تمام پالسیاں محض اسرائیل کے مفادات میں ہی کیوں بنتی ہیں؟ زمانے کے نشیب و فراز نے  اس کتاب کے حقائق اور حالات و واقعات پر کوئی اثر نہیں ڈالا ہے اور نہ اس کی اہمیت کم کی ہے۔اسوقت یونیسیکو کے62 شعبوں پر صیہونی غلبہ ہے ، آئی ایم ایف کے سب سے بڑے عہدے دار فری میسن یہودی ہیں (فری میسن ایک اپر گرائونڈ اور انڈر گراونڈ دونوں طرح کی انتہائی خطرناک تنظیم ہے )،امریکہ کے اعلیٰ ترین 85 سب سے بڑے عہدے داروں میں جو امریکہ کو چلاتے ہیں،56 عہدے دار فری میسن صیہونیوں سے ہیں.اس سے یوں بھی اندازہ لگایا جاسکتا ہے کہ امریکی آفیسران اس لابی سے کیوں خوفزدہ ہیں اور کیوں ان کے خلاف اُف تک نہیں کر سکتے۔ ان پچھلے بیس پچیس برسوں میں یہ لابی کہاں سے کہاں آگئی، اس کا اندازہ ٹرمپ اور ٹرمپ کے داماد کی اسرائیل نوازی سے لگائی جاسکتی۔پنٹا گون دریائے پوٹو میک کے کنارے پر ایک وسیع و عریض بلڈنگ ہے اور اس کے اندر امریکہ کے کئی کلیدی اور مر کزی ہیڈ کوارٹر ہیں اور اسی میں امریکی فوج کی ہائی کمان کے دفاتر بھی ہیںجبکہ امریکہ سے متعلق تمام راز اور رازداریاں بھی اسی ہیڈ کوارٹر سے منسلک ہیں۔اسی دریائے پوٹو میک کے دوسرے کنارے پر اسٹیٹ ڈیپارٹمنٹ ہے جو کہ دنیا بھر میں پھیلے امریکی قومی سفارتی مراکز کا دفاع ہے۔ ان عمارات میں وہ ذرائع ہیں جن میں سے لاکھوں خفیہ پیغامات آتے جاتے رہتے ہیں اور یہی ادارے امریکی سٹیٹ کے رازدار اور نگہباں تصور کئے جاتے ہیں اور یہاں سے ہی تمام دوسری دنیا کے لئے خارجہ حکمت عملیاں وضع کی جاتی ہیں ۔
پال فنڈلے نے اپنی ضخیم کتاب میں امریکی عوام اور عہدے داروں پر واضح کیا تھا کہ ان کے سارے پیغامات آتے جاتے اسرائیل کے ہیڈ کوراٹر پر امریکی ڈیپارٹمنٹوں سے پہلے پہنچ جاتے ہیں ۔ان انکشافات سے امریکہ میں جو تہلکہ مچا تھا، اس کا اندازہ ہی کیا جاسکتا ہے ۔ میں اس کتاب سے مختصر دو تین واقعات کوٹ کروں گا تاکہ آپ اچھی طرح سے یہ سمجھ سکیں کہ امریکی فنڈا کیا ہے اور صیہونی لابیوں نے سارے امریکی سسٹم کو کیسے اور کیوں کر یر غمال بنایا ہوا ہے کہ اصل امریکن اُف تک نہیں کر سکتے۔ یہ وہ تشویش کی بات ہے ؎ جس کے قلابے اس سارے معاملے،کو ملائے بغیر نہیں سمجھا جاسکتا جہاں سے پاک بھارت جنگ کے امکانات کا اظہار ہورہا ہے۔
’’ یہ زندگی کی حقیقت ہے کہ کہ کوئی بھی با اختیار عہدے دار اسرائیل کے بارے میں کچھ بھی کاغذ پر لکھنے سے کتراتا ہے۔اگر اسے یہ بات اسرائیل سے خفیہ رکھنی ہو اور نہ ہی ایسے لوگ کسی پر ہجوم کمرے میں ایسی کوئی بات کرنا چاہیں گے ‘‘ امریکی سفارت کار ) ۔1973 مصر شام جنگ میں اسرائیل کا زبردست نقصان ہوا ۔انہوں نے ٹینکوں کی سپلائی کے لئے امریکہ پر دبائو ڈالا۔ نکسن اس دور میں واٹر گیٹ سیکنڈل سے جھوج رہا تھا۔ یہ ٹینک امریکہ کی حاضر سروس یونٹوںسے سپلائی ہوئے لیکن اسرائیل جدید ترین ٹینک جن پر105ملی میٹر کی توپ لگی تھی, لینا چاہتے تھے ۔پنٹا گون نے اس کا حل یوں کیا کہ اسرائیلی مطلوبہ ڈیمانڈ امریکی افواج کو اس ٹینک سے محروم کرنے کے بعد بھی پوری نہیں ہوئی تو کچھ دوسری ماڈل کی ٹینک سپلائی کیںجن کیلئے90 ملی میٹر کے گولے درکار تھے ، لیکن امریکی اسٹیبلشمنٹ کو یہ گولے کسی بھی ڈیپو میں نہیں ملے۔اسرائیل کو اس سے آگاہ کیا گیا ،اور صرف چند گھنٹوں کے بعد ہی ایک پیغام تل ابیب سے موصول ہوا کہ یہ گولے15000 کی تعداد میں آپ کے (ہوائی) ایمونیشن ڈیپو میں موجود ہیں۔، پنٹا گون کے پاس کوئی ریکارڈ نہیں تھا لیکن اسرائیل کے پاس یہ مکمل انفارمیشن موجود تھی۔
رابطہ۔ سوپور ،کشمیر
(مضمون جاری ہے ۔دوسری اور آخری قسط انشاء اللہ پیر کے ایڈیشن میں شائع کی جائے گی)