اسلام آباد//یو این آئی// پاکستان میں گزشتہ تین سال میں صنفی بنیاد پر تشدد کے تقریباً 63 ہزار معاملات درج ہوئے ہیں، جن میں سے تقریباً 4 ہزار معاملے سال 2020 کی ابتدائی ششماہی مں رپورٹ ہوئے جب کورونا وائرس کے پھیلاؤ کو روکنے کے لیے لاک ڈاؤن نافذ کیا گیا تھا۔یاس بات کا انکشاف نیشنل کمیشن آف ہیومن رائٹس (این سی ایچ آر) کی جانب سے ایک نئی رپورٹ میں کیا گیا۔کمیشن نے انسانی حقوق کی وزارت کے اعداد و شمار کا حوالہ دیتے ہوئے کہا کہ ان میں سے 80 فیصد واقعات گھریلو تشدد سے متعلق ہیں جبکہ 47 فیصد گھریلو ریپ کے ہیں جس میں شادی شدہ خواتین کو جنسی بدسلوکی کا سامنا کرنا پڑا۔رپورٹ میں متنبہ کیا گیا کہ چونکہ اعداد و شمار رپورٹ شدہ کیسز پر مبنی ہیں، اس لیے اصل تعداد اس سے کئی زیادہ ہو سکتی ہے ۔این سی ایچ آر کی ازدواجی ساتھی کے تشدد سے متعلق کلیدی کردار ادا کرنے والے محرکات پر مبنی رپورٹ ایک ہوٹل میں منعقدہ تقریب میں شرکا کے ساتھ شیئر کی گئی۔57 صفحات پر مشتمل یہ رپورٹ خواتین کے خلاف گھریلو تشدد سے نمٹنے کے لیے ایک پالیسی بریف تھی جس میں امید ظاہر کی گئی کہ قانونی ڈھانچہ بنانے سے امتیازی نظام اور پدرانہ ڈھانچے کو حل کیا جاسکتا ہے جو صنفی بنیاد پر تشدد میں حصہ ڈالتے ہیں۔تقریب میں سینیٹر شیری رحمٰن، رکن قومی اسمبلی شازیہ مری، وفاقی شرعی عدالت (ایف ایس سی) کے چیف جسٹس محمد انور اور آئی جی اسلام آباد اکبر ناصر سمیت دیگر نے شرکت کی۔سینیٹر شیری رحمٰن اور شازیہ مری نے اپنی تقاریر کے دوران ان کیسز کو بڑی تصویر کی معمولی سے جھلک قرار دیا۔