ماؤنٹ منگنوئی /پاکستان اور نیوزی لینڈ کے درمیان سیریز کا پہلا ٹیسٹ میچ آج سے ماؤنٹ منگنوئی میں کھیلا جائے گا اور پاکستانی ٹیم نیوزی لینڈ میں ہوم ٹیم کی فتوحات کے تسلسل کو توڑنے کی کوشش کرے گی۔ایک عرصے سے بہترین فارم کا مظاہرہ کرتے ہوئے آسٹریلیا کے ہمراہ عالمی نمبر ایک ٹیسٹ ٹیم بننے والی نیوزی لینڈ کی ٹیم اپنے ہوم گراؤنڈ پر بڑی بڑی ٹیموں کے لیے خطرہ بن کر سامنے آئی ہے اور حالیہ کچھ عرصے میں اس کی کارکردگی انتہائی شاندار رہی ہے۔نیوزی لینڈ کی بہترین فارم کا اندازہ اس بات سے لگایا جا سکتا ہے کہ انہوں نے حال ہی میں ویسٹ انڈیز کو دونوں ٹیسٹ میچوں میں اننگز سے شکست دی تھی۔اس وقت نیوزی لینڈ کی نگاہیں ورلڈ ٹیسٹ چمپئن شپ کے فائنل پر مرکوز ہیں جہاں وہ آسٹریلیا اور بھارت کے بعد تیسرے نمبر پر موجود ہیں اور اس سیریز میں 0-2 سے کامیابی کی بدولت وہ سرفہرست دو ٹیموں میں جگہ بنانے میں کامیاب ہو جائیں گے۔دوسری جانب دورہ نیوزی لینڈ میں قومی ٹیم کو ہمیشہ سے بیٹنگ نے مایوس کیا ہے اور اس مرتبہ ان فارم نیوزی لینڈ باؤلنگ اٹیک کے ساتھ ساتھ کپتان بابر اعظم کی غیر موجودگی میں بہترین کارکردگی کا مظاہرہ کرنا ان کے لیے کسی بڑے چیلنج سے کم نہ ہو گا۔بابر اعظم کی غیر موجودگی میں پاکستانی ٹیم کی قیادت وکٹ کیپر بلے باز محمد رضوان کریں گے۔نیوزی لینڈ کے ہوم گراؤنڈ پر بہترین ریکارڈ کا اندازہ اس بات سے لگایا جاسکتا ہے کہ جنوری 2011سے اب تک آسٹریلیا اور جنوبی افریقہ کے سوا کوئی بھی ٹیم انہیں ٹیسٹ سیریز میں زیر نہ کر سکی۔لیکن پاکستان کے لیے خوش آئند امر یہ ہے کہ جنوری 2011 سے قبل آسٹریلیا اور جنوبی افریقہ کے علاوہ پاکستان وہ واحد ٹیم تھی جس نے ٹیسٹ سیریز میں نیوزی لینڈ کو 0-1 سے مات دی تھی۔پاکستان کی یہ ٹیم کین ولیمسن الیون کے لیے ویسٹ انڈیز کی طرح ترنوالہ تو ہرگز ثابت نہ ہو گی کیونکہ ویسٹ انڈیز کی نسبت پاکستان کی ٹیم ایک بہتر باؤلنگ لائن سے لیس ہے جس کا سب سے اہم ہتھیار اپنی مستند باؤلنگ کے لیے مشہور محمد عباس ہوں گے۔