مینڈھر//مینڈھر کے سرحدی علاقہ ریلاں گوہلد کے لوگوں نے پینے کے پانی کی قلت پر محکمہ پی ایچ ای کے خلاف احتجاج کیا۔مظاہرین کا کہنا تھا کہ متعلقہ محکمہ نے 2002میں لاکھوں روپے خرچ کر کے علا قہ میںزیارت ریلاں گوہلدمیںایک ٹینک بنوایا تھا جس کا پانی سرحدی علاقہ کے لوگوں کو دیاجانا تھا تاہم 2002سے اب تک اس ٹینک سے پانی سپلائی نہیںہواجس کے نتیجہ میں انہیںماہ صیام میںبھی کئی کلو میٹر کی دوری سے پینے کے لئے صاف پانی لا نا پڑ تا ہے۔انہو ں نے کہا کہ متعلقہ محکمہ اور حکومت نے لاکھوں روپے خرچ کرنے کے باوجود اس ٹینک کو ناکارہ بنارکھاہے جواب پرانا ا ور بوسیدہ ہو چکا ہے۔انہوں نے حکومت سے اپیل کی کہ ویجی لینس کی ٹیم بھیج کر یہ تحقیقات کروائی جائے کہ اس ٹینک کو جب استعمال ہی نہیں کیاجارہاتوپھر اس کی تعمیر کیوں کر کی گئی ۔مقامی لوگوں کاکہناتھاکہ وہ پانی کی ایک ایک بوند کو ترس رہے ہیںلیکن محلے میں بنا ہوا ٹینک ناکارہ بناہواہے اورانہیں گاڑیوں کے ذریعے کئی کلو میٹر دور سے جا کر پینے کا صاف پانی لاناپڑتاہے جس کیلئے وہ گھوڑوں کا استعمال کرتے ہیں۔انہوںنے ضلع ترقیاتی کمشنر پونچھ سے اپیل کی کہ سرحدی علاقہ میں پانی کا فوری بندو بست کیا جائے اور ان افسران کے خلاف کارروائی عمل میں لائی جائے جنہوںنے 2002سے اب تک اس ٹینک کو استعمال نہیں کیا ۔اس حوالے سے جب ایس ڈی ایم مینڈھر سے بات ہوئی تو ان کا کہنا تھا کہ وہ یہ معلوم کرائیںگے اور لوگوں کو پانی سپلائی کیاجائے گاتاکہ ماہ رمضان میں لوگوں کو کسی بھی قسم کی پریشانی کا سامنا نہ کرنا پڑے۔