خشک ہوتے چشموں کو زندہ رکھنے کی تدبیر
عارف بلوچ
پانزتھ (قاضی گنڈ)// جنوبی کشمیر کے ضلع اننت ناگ کے علاقے قاضی گنڈ کے گاؤں پانزتھ میں ہر سال مئی کے مہینے میں ایک صدیوں پرانی روایت کے تحت مقامی لوگ اجتماعی طور پر چشموں کی صفائی کر کے انہیں زندہ رکھنے کی کوشش کرتے ہیں۔اتوار کے روز دیہاتی ٹوکریاں، مچھر دانیاں اور تھیلے لے کر معروف پانزتھ ناگ کے چشموں کے گرد جمع ہوئے اور پانی سے جڑی بوٹیاں اور کچرا نکالا۔ اس روایت میں صفائی کے ساتھ ساتھ ایک دن کے لیے مچھلی پکڑنے کی بھی اجازت ہوتی ہے۔مقامی افراد کے مطابق یہ روایت ایک صدی سے زائد پرانی ہے اور ہر سال’روہن پوش‘ یا ’روشن پوش‘ نامی روایتی تہوار کے ساتھ منائی جاتی ہے، جو مرحومین کی یاد سے جڑا ہوا ہے۔اس موقع پر بچے شام سے پہلے قبرستانوں کا رخ کرتے ہیں اور پھولوں میں چاول ملا کر اپنے عزیزوں کی قبروں پر ڈالتے ہیں، جبکہ بزرگ دعائیں کرتے ہیں اور بچوں میں گھریلو چپاتیاں تقسیم کرتے ہیں۔اگلے دن توجہ چشموں کی صفائی کی طرف مبذول ہو جاتی ہے۔68 سالہ عبدالسلام، جو بچپن سے اس روایت میں حصہ لیتے آ رہے ہیں، کہتے ہیں،’’میں کم عمری میں صبح سویرے ٹوکری لے کر چشمے کی طرف جاتا تھا۔ میں نے اس روایت کو ہمیشہ جاری دیکھا ہے، اور آج بھی یہ قائم ہے۔‘‘پانزتھ ناگ کے بارے میں کہا جاتا ہے کہ اسی کے نام پر گاؤں کا نام رکھا گیا ہے۔ ’’پانزتھ‘‘ دراصل کشمیری لفظ ’پانژہتھ‘ (پانچ سو) سے نکلا ہے، کیونکہ ماضی میں یہ چشمہ تقریباً 500 چھوٹے چشموں کو پانی فراہم کرتا تھا۔مقامی افراد کے مطابق قاضی گنڈ کے تقریباً 45 گاؤں پینے کے پانی کے لیے ان چشموں پر انحصار کرتے ہیں، جبکہ اس سے نکلنے والی ندی کھیتوں کو سیراب کرتی ہے۔ قریب ہی ایک سرکاری ٹراؤٹ مچھلی افزائش مرکز بھی اسی پانی پر منحصر ہے۔تاہم وقت کے ساتھ آلودگی، تجاوزات اور جڑی بوٹیوں کی بے تحاشہ افزائش کے باعث یہ چشمے متاثر ہوئے ہیں۔ گرمیوں کے آخر میں پانی کی سطح کم ہونے پر جڑی بوٹیاں تیزی سے پھیل جاتی ہیں اور پانی کے بہاؤ کو روک دیتی ہیں۔عبدالسلام کے مطابق،’’مچھلی پکڑنا ثانوی چیز ہے، اصل مقصد چشمے کی صفائی ہے تاکہ لوگوں کو پینے اور آبپاشی کے لیے پانی ملتا رہے۔‘‘اس موقع پر مچھلی پکڑنے کے لیے روایتی طریقے استعمال کیے جاتے ہیں— لوگ پانی میں اتر کر ٹوکریوں اور مچھر دانی کے ٹکڑوں سے مچھلی پکڑتے ہیں، جبکہ کنارے پر کھڑے افراد اس منظر سے لطف اندوز ہوتے ہیں۔سونسو گاؤں کے 35 سالہ خورشید چوپان کہتے ہیں کہ ان کی زندگی میں ہی چشموں کا حجم نمایاں طور پر کم ہوا ہے،’’پہلے پانی بالکل صاف اور چشمے بہت خوبصورت تھے، اب ان کی حالت خراب ہو گئی ہے۔‘‘سیاسیات کے پروفیسر گل محمد وانی کے مطابق یہ روایت ممکنہ طور پر مغل دور سے بھی پہلے کی ہے،’’کشمیر کے اکثر بڑے چشموں پر مغل حکمرانوں کے اثرات نظر آتے ہیں، اور پانزتھ کے چشمے بھی صدیوں پرانی تاریخ رکھتے ہیں۔‘‘انہوں نے کہا کہ یہ روایت اب ایک اجتماعی ماحولیاتی مہم کی شکل اختیار کر چکی ہے،’’آلودگی اور موسمیاتی تبدیلی کے دور میں حکومت اکیلے ہر جگہ نہیں پہنچ سکتی، اس لیے یہ کئی دیہات کی مشترکہ کوشش بن گئی ہے۔‘‘مقامی لوگ اب اس صفائی مہم کو سال میں دو بار کرنے کا منصوبہ بنا رہے ہیں تاکہ پانی کے اس اہم ذریعہ کو بہتر طریقے سے محفوظ رکھا جا سکے۔مزید برآں، لوگ سیاحتی سہولیات کی کمی پر بھی تشویش کا اظہار کر رہے ہیں۔ ان کے مطابق اگر مناسب انفراسٹرکچر فراہم کیا جائے تو پانزتھ کے چشمے کشمیر کے معروف سیاحتی مقامات کا مقابلہ کر سکتے ہیں۔مقامی افراد نے ٹراؤٹ فارمنگ کے فروغ کے لیے بھی حکومتی مدد کا مطالبہ کیا ہے تاکہ مقامی معیشت کو مضبوط بنایا جا سکے۔
اہم نکات
* ہر سال مئی میں تہوار کا انعقاد
* دیہاتی اجتماعی طور پر چشموں کی صفائی کرتے ہیں
* صرف ایک دن مچھلی پکڑنے کی اجازت
* 45 دیہات ان چشموں کے پانی پر انحصار کرتے ہیں
* روایت کی جڑیں مغل دور تک جاتی ہیں
* سیاحتی سہولیات کی فراہمی کا مطالبہ