یو این آئی
نئی دہلی//وزیر اعظم نریندر مودی نے پیر کو 18ویں لوک سبھا کے چھٹے اجلاس (سردیوں کے اجلاس) اور 269ویں راجیہ سبھا کے اجلاس میں شریک ہونے والی تمام سیاسی پارٹیوں سے اپیل کی کہ وہ پارلیمنٹ کے سیشن کو “انتخابی ہار سے پیدا ہونے والی مایوسی کا میدانِ جنگ” یا “انتخابی جیت سے پیدا ہونے والے غرور کا اکھاڑا” نہ بنائیں۔ انہوں نے زور دے کر کہا کہ پارلیمنٹ کو قومی ترقی اور جمہوری ذمہ داریوں پر مرکوز رہنا چاہیے۔پارلیمنٹ اجلاس کے آغاز سے قبل پارلیمنٹ احاطے میں میڈیا سے خطاب کرتے ہوئے وزیر اعظم مودی نے حال ہی میں بہار میں ہونے والے انتخابات میں این ڈی اے کی بڑی کامیابی کا ذکر کیا اور ہندوستانی جمہوریت کی قوت اور عوام کی بھرپور شرکت کی تعریف کی۔وزیر اعظم نے کہا کہ یہ سرمائی اجلاس صرف ایک رسمی کارروائی نہیں ہے۔ ملک کی ترقی کو تیز کرنے کے لئے کوششیں جاری ہیں اور یہ سیشن بھی اس رفتار کو اور طاقت بخشے گا، مجھے پورا یقین ہے۔ ہندوستان نے جمہوریت کو جیا ہے۔ وقتاً فوقتاً جمہوریت کے جذبے نے اپنی جھلک دکھائی ہے، جس نے عوام کا اعتماد مزید مضبوط کیا ہے۔ حالیہ بہار انتخابات میں ریکارڈ ووٹنگ جمہوریت کی سب سے بڑی طاقت ہے۔ ماں اور بہنوں کی بڑھتی ہوئی شرکت نئی امید اور نیا حوصلہ دیتی ہے۔انہوں نے مزید کہا کہ کچھ پارٹیاں ہار برداشت نہیں کر سکتیں۔ میں نے امید کی تھی کہ وقت گزرنے کے ساتھ وہ بہار انتخابات کی ہار سے باہر نکل آئیں گی، لیکن کل ان کے بیانات سے ظاہر ہوا کہ وہ ابھی بھی اس صدمے سے باہر نہیں آئے۔ میں تمام پارٹیوں سے اپیل کرتا ہوں کہ اس سرمائی اجلاس کو شکست کی مایوسی یا جیت کے غرور کا میدان نہ بنائیں۔