عظمیٰ نیوز سروس
سرینگر //مرکزی حکومت نے کل لوک سبھا میں اقتصادی سروے 2026 پیش کیا۔ یکم فروری کو پیش کیے جانے والے مرکزی بجٹ 2026-27سے قبل اکنامک سروے ایک اہم دستاویز سمجھا جاتا ہے۔ اقتصادی سروے 2026عالمی غیر یقینی صورتحال کے درمیان ملک کی معیشت کی مجموعی حالت اور سمت کا سرکاری خاکہ پیش کرے گا۔مرکزی وزیر خزانہ نرملا سیتارمن نے دوپہر تقریباً 12بجے اقتصادی سروے ایوان میں پیش کیا۔ملک کی جی ڈی پی (مجموعی گھریلو پیداوار) کی ترقی کی شرح آئندہ مالی سال 2026-27میں 6.8سے 7.2فیصد کے درمیان رہنے کا اندازہ لگایا گیا ہے۔ یہ شرح موجودہ مالی سال کے 7.4 فیصد کے تخمینے سے قدرے کم ہے۔ پارلیمنٹ میں جمعرات کو پیش کی گئی اقتصادی سروے رپورٹ میں یہ بات کہی گئی ہے۔رپورٹ میں کہا گیا ہے، داخلی عوامل کے نمایاں کردار اور مضبوط ہوتی ہوئی میکرو اقتصادی استحکام کے باعث، ترقی سے متعلق خطرات کی مجموعی صورتحال متوازن بنی ہوئی ہے۔
بجٹ سے قبل پیش کی گئی مالی سال 2025-26 کی اقتصادی جائزہ رپورٹ میں کہا گیا ہے کہ بھارت کے لیے عالمی حالات فوری وسیع پیمانے پر معاشی دباو کے بجائے بیرونی غیر یقینی عوامل کی صورت اختیار کر رہے ہیں۔اہم تجارتی شراکت دار ممالک میں سست اقتصادی ترقی، محصولات (ٹیرف) کے باعث تجارتی رکاوٹیں، اور سرمایہ کے بہاو میں عدم استحکام وقتاً فوقتاً برآمدات اور سرمایہ کاروں کے جذبات پر اثر انداز ہو سکتے ہیں۔ رپورٹ میں کہا گیا ہے، ‘‘تاہم امریکہ کے ساتھ جاری تجارتی مذاکرات کے اس سال مکمل ہونے کی توقع ہے، جس سے بیرونی محاذ پر غیر یقینی صورتحال کم ہو سکتی ہے۔مرکزی حکومت کی آمدنی مالی سال 2024-25 (عارضی) میں بڑھ کر جی ڈی پی کا 9.2 فیصد ہو گئی۔مجموعی غیر نفع بخش اثاثے ستمبر 2025 میں کم ہو کر 2.2 فیصد پر آ گئے، جو کئی دہائیوں کا سب سے نچلا سطح ہے۔ وزیراعظم جن دھن یوجنا کے تحت مارچ 2025تک 55.02 کروڑ بینک کھاتے کھولے جا چکے ہیں، جن میں سے 36.63 کروڑ کھاتے دیہی اور نیم دیہی علاقوں میں ہیں۔ مالی سال 2025-26 (دسمبر 2025 تک) کے دوران 2.35 کروڑ ڈی میٹ کھاتے جوڑے گئے، جس سے ان کی مجموعی تعداد 21.6 کروڑ سے زیادہ ہو گئی۔ترقی یافتہ بھارت-جی رام جی، مہاتما گاندھی قومی دیہی روزگار گارنٹی یوجنا کا ایک وسیع قانونی اصلاح ہے، جس کا مقصد دیہی روزگار کو 2047 کے طویل مدتی نظرئیے کے مطابق بنانا ہے۔ مالی سال 2025-26 کی پہلی اور دوسری سہ ماہی میں مینوفیکچرنگ کے جی وی اے میں بالترتیب 7.72 فیصد اور 9.13 فیصد اضافہ ہوا، جو ساختی اصلاحات کو ظاہر کرتا ہے۔بھارت اب دنیا کی تیسری سب سے بڑی گھریلو فضائی مارکیٹ ہے، جہاں ہوائی اڈوں کی تعداد 2014 میں 74 سے بڑھ کر 2025 میں 164 ہو گئی۔