پارلیمانی کمیٹی برائے خارجہ امور کا دورہ کشمیر|فوج کیساتھ اہم مشاورت

 سرینگر //پارلیمانی کمیٹی برائے خارجہ امور نے بدھ سے وادی کشمیر کا دورہ شروع کردیا ہے۔11اراکین پارلیمان پر مشتمل کمیٹی کی سربراہی اسکے چیئر مین پی پی چودھری کررہے ہیں۔کمیٹی نے فوجی حکام کیساتھ بات چیت کے دوران اس بات کو محسوس کیا کہ دشمنوں کے پروپگنڈا کا توڑ کرنے کیلئے بین الاقوامی سطح پر ایک مشترکہ لائحہ عمل اختیار کرنے کی ضرورت ہے۔دفاعی ترجمان نے کمیٹی کے پہلے دن کی سرگرمی کے بارے میں کہا کہ فوج کی 15ویں کورکے ہیڈکوارٹر پہنچنے پر امو خارجہ کمیٹی کے اراکین کا استقبال چنارکور سربراہ لیفٹیننٹ جنرل ڈی پی پانڈے نے کیا۔ جی او سی نے ارکان پارلیمان کو لائن آف کنٹرول اور داخلی و ملک کی صورتحال سے آگاہ کیا۔ ترجمان کے مطابق ’’انہوں نے 11 خارجہ امور کی پارلیمانی کمیٹی کو کشمیر میں جاری تشدد کے چکر کو توڑنے اور کشمیر میں امن و استحکام لانے کیلئے اٹھائے جانے والے اقدامات سے آگاہ کیا‘‘۔جنرل پانڈے نے کمیٹی کوچنار کور کی جانب سے شہریوں اور فوج کے درمیان رابطے کی کوششوں کے بارے میں بھی جانکاری دی ۔بیان کے مطابق وممبران پارلیمان کو انسداد دہشت گردی کی کوششوں کے بارے میں بھی بتایا گیا۔ پارلیمانی کمیٹی کو بعد میں جدید ہتھیار اورآلات دکھائے گئے جو فی الحال فوج کے ذریعہ مؤثر طریقے سے استعمال ہورہے ہیں۔پارلیمانی کمیٹی نے سکیورٹی فورسز کی کاوشوں کو سراہا اور کشمیر میںسیکورٹی کی بہتر صورتحال پر اطمینان کا اظہار کیا۔ بیان کے مطابق پارلیمانی کمیٹی ارکان نے اس بات کا اظہار کیا کہ مرکزی وزارت داخلہ ،وزارت خارجہ اورمرکزی وزارت دفاع کی سطح پر زیادہ کوششوں کی ضرورت ہے ، تاکہ مخالفین کے جھوٹے پروپیگنڈے کا مقابلہ کیا جاسکے اور زمینی حقائق کو ہر فورم پر شیئر کیا جاسکے۔بیان کے مطابق اراکین نے چنار کارپس میں قائم وار میموریل پر پھول چڑھائے اورملک کے ہیروز کو خراج تحسین پیش کیا جنہوں نے ڈیوٹی کے دوران اعلیٰ قربانی دی ۔
 
 
شیڈول کاسٹ و ٹرائب کی پارلیمانی کمیٹی
جے کے بینک انتظامیہ اور بی ایس ایف حکام سے بات چیت
سرینگر//درج فہرست ذاتوں اور قبائل کی فلاح و بہبود سے متعلق پارلیمانی قائمہ کمیٹی نے بدھ کو جے اینڈ کے بینک مینجمنٹ اور ملازمین کے ساتھ ساتھ بارڈر سیکورٹی فورسز (بی ایس ایف) کے افسران اور جوانوں کے ساتھ کام کرنے کے حالات کے بارے میں جاننے کے لیے کئی بات چیت اور غور و خوض کے سیشن منعقد کیے۔ شروع میں ، اسٹڈی گروپ نے جے اینڈ کے بینک کے ملازمین سے ملاقات کی جنہوں نے بینک کے ورک کلچر کے بارے میں بریفنگ دی اور شیڈول کاسٹس اور شیڈولڈ ٹرائبز کے تحفظات ، بھرتیوں اور دیگر مسائل اور بینک کے فلاحی اقدامات اور پروگراموں کے بارے میں بات کی۔ اس کے علاوہ ، کمیٹی نے دیگر اہم مسائل ، یعنی ایس سی/ایس ٹی زمرہ جات سے تعلق رکھنے والے ملازمین کی شکایات کو دور کرنے کے طریقہ کارپر بات چیت کی۔کمیٹی نے جے اینڈ کے بینک چیئرمین اور منیجنگ ڈائریکٹر ، آر کے چھبر سے ادارے میں ایس سی اور ایس ٹی کی مناسب نمائندگی ، اس طرح کے زمروں کی خدمات اور تربیت ، ایسے ملازمین کی پروموشن اور تشخیص کے حوالے سے رائے مانگی۔ٹیم نے وادی کشمیر میں تعینات بارڈر سیکورٹی فورس (بی ایس ایف) کے جوانوں سے بھی بات چیت کی جن کا تعلق ایس سی اور ایس ٹی زمرے سے ہے اور انہوں نے فورس میں ان کی کام کی حالت کے بارے میں دریافت کیا۔بی ایس ایف کے جوانوں نے کہا کہ فورسز کے اندر مسائل ، مسائل اور شکایات کے حل کے لیے ایک مناسب طریقہ کار موجود ہے اور انہیں اپنے پیشہ ورانہ فرائض کے دوران کسی بھی قسم کی پریشانی کا سامنا نہیں کرنا پڑتا۔