ایجنسیز
اسلام آباد// اقوامِ متحدہ کے ذیلی ادارے یونیسکو نے پاکستان سے مطالبہ کیا ہے کہ ٹیکسلا کے دو تاریخی مقامات پر کی گئی’تعمیر نو‘ کو واپس لیا جائے، کیونکہ ان اقدامات نے ان مقامات کی تاریخی اصل حیثیت اور سالمیت کو متاثر کیا ہے۔ بصورتِ دیگر ٹیکسلا کو یونیسکو کی عالمی ثقافتی ورثہ فہرست میں خطرے سے دوچار مقامات کی فہرست میں شامل کیا جا سکتا ہے۔ یونیسکو نے حالیہ اجلاس میں پاکستانی حکام کو خبردار کیا کہ اگر موہڑہ مورادو اور سرکپ کے مقامات پر کی گئی حالیہ “غیر ضروری مداخلت” کو واپس نہ لیا گیا تو ادارہ ان مقامات کو جرمنی کے ایک سابق عالمی ثقافتی ورثہ مقام کی طرح فہرست سے خارج کرنے سے بھی گریز نہیں کرے گا۔رپورٹ کے مطابق یونیسکو نے واضح کیا کہ اگر موجودہ اقدامات واپس نہ لیے گئے تو ٹیکسلا کو عالمی ثقافتی ورثے کی فہرست سے نکالا بھی جا سکتا ہے۔مارچ میں ایک سیاح نے پیرس میں پاکستان کے مستقل مندوب برائے یونیسکو کو تصاویر اور معلومات فراہم کیں، جن میں پنجاب محکمہ آثارِ قدیمہ کی جانب سے کیے گئے تعمیراتی کاموں کی نشاندہی کی گئی تھی۔سیاح کے مطابق ان اقدامات سے تاریخی مقام کی اصل شناخت اور سالمیت متاثر ہو رہی ہے، کیونکہ بعض قدیم دیواروں کو نئی تعمیر سے بدل دیا گیا یا ان کی اونچائی بڑھا دی گئی۔
بعد ازاں یونیسکو نے خبردار کیا کہ ایسی “غیر ضروری مداخلت” ان تاریخی مقامات کی صداقت اور سالمیت کو نقصان پہنچا رہی ہے، جس کے نتیجے میں انہیں خطرے سے دوچار عالمی ورثہ مقامات کی فہرست میں شامل کیا جا سکتا ہے۔رپورٹ میں شائع تصاویر کے مطابق بعض قدیم دیواروں کی جگہ نئی چنائی کی گئی ہے جبکہ کچھ دیواروں کی اونچائی بھی بڑھائی گئی ہے۔ قدیم پتھروں اور جدید تعمیراتی مواد میں واضح فرق دیکھا جا سکتا ہے، کیونکہ پرانے پتھر بے قاعدہ شکل کے ہیں جبکہ نیا مواد ہموار اور یکساں دکھائی دیتا ہے۔گزشتہ ماہ یونیسکو، محکمہ آثارِ قدیمہ و عجائب گھر اور وزارتِ قومی ورثہ و ثقافت کے حکام نے ٹیکسلا میوزیم اور متعلقہ تاریخی مقامات کا مشترکہ تکنیکی دورہ بھی کیا۔ایک سرکاری اہلکار کے مطابق یونیسکو نے موہڑہ مورادو اور سرکپ میں تحفظ اور بحالی کے کاموں سے متعلق مکمل دستاویزات طلب کی ہیں۔تاہم پنجاب محکمہ آثارِ قدیمہ کے ڈائریکٹر جنرل ملک ظہیر عباس نے کہا کہ سرکپ اور موہڑہ مورادو میں جاری کام کو “تعمیر نو” قرار دینا درست نہیں۔انہوں نے کہا، “یہ اقدامات بین الاقوامی طور پر تسلیم شدہ اصولوں کے مطابق آثارِ قدیمہ کے تحفظ کے لیے کیے جا رہے ہیں، جن کا مقصد کمزور ڈھانچوں کو مستحکم کرنا، مزید تباہی سے بچانا اور عالمی ثقافتی ورثے کی اصل حیثیت اور سالمیت کو برقرار رکھنا ہے۔”انہوں نے مزید کہا، “اس وقت تعمیر نو کو واپس لینے کا سوال ہی پیدا نہیں ہوتا کیونکہ جاری کام تعمیر نو نہیں بلکہ تحفظِ آثار کے اقدامات ہیں۔”