یو این آئی
نئی دہلی/آج کے تیز رفتار دور میں جہاں کرکٹ مداح صرف ٹی 20 اور ایک روزکرکٹ میچوں سے ہی لطف اندوز ہورہے ہیں وہیں یہ خبریں بھی گردش کررہی ہیں کہ ٹسٹ کرکٹ ختم ہونے کے دہانے پر ہے ۔ لیکن ایسا ہرگز نہیں ہے ۔ ٹیسٹ کرکٹ کے ختم ہونے کی باتیں حقیقت سے بہت دور ہیں۔ میلبورن میں کھیلا گیا ایشز ٹیسٹ صرف دو دن میں ختم ہو گیا، لیکن اس کے باوجود تقریباً 94 ہزار تماشائی دو دن میں اسٹیڈیم پہنچے ۔ اس سے ثابت ہوتا ہے کہ ٹیسٹ کرکٹ نہ تو غیر اہم ہوا ہے اور نہ ہی لوگوں کی دلچسپی اس سے ختم ہوئی ہے ۔قومی سطح کے ایتھلیٹ اور کرکٹ کمنٹیٹر روپندر سنگھ کے ایک تجزیہ کے مطابق ٹیسٹ کرکٹ ختم نہیں ہو رہی ہے ۔ بس وہ یہ چاہتی ہے کہ لوگ اسے اس کی اصل شکل میں قبول کریں اور دل سے اس سے محبت کریں، نہ کہ صرف نتیجے کی بنیاد پر۔اصل بات یہ ہے کہ کسی میچ کے دن شائقین کا کم یا زیادہ ہونا اس کی اہمیت کا معیار نہیں ہوتا۔ انگلینڈ کا مشہور ‘بازبال’ انداز زیادہ اثر نہیں دکھا سکا، لیکن یہ بات اتنی اہم نہیں تھی۔ اہم بات اسٹیڈیم کا ماحول تھا، جہاں بارمی آرمی کے شائقین گاتے ، ہنستے اور اپنی ٹیم کا ساتھ دیتے رہے ، حالانکہ انگلینڈ پہلے ہی ایشز ہار چکا تھا۔ان شائقین کی دلچسپی جیت یا ہار سے نہیں جڑی تھی، بلکہ ٹیم کے ساتھ جڑے رہنے اور کھیل سے محبت کرنے میں تھی۔ یہی کھیل کی اصل روح ہے ۔ جیت ضروری ہے ، لیکن سب کچھ نہیں۔ کھیل میں سیکھنا، آگے بڑھنا، شناخت اور تجربہ بھی اتنے ہی اہم ہوتے ہیں۔آسٹریلیا کے شائقین نے یہ بات بخوبی سمجھی۔ وہ صرف چوکے ، چھکے یا وکٹوں پر نہیں بلکہ پورے میچ کے ماحول سے لطف اندوز ہو رہے تھے ۔ یہ ماحول اچانک نہیں بنا، بلکہ برسوں کے اعتماد کا نتیجہ تھا-اعتماد کہ اسٹیڈیم آ کر میچ دیکھنا وقت اور پیسے دونوں کے لحاظ سے فائدہ مند ہوگا۔اس کے مقابلے میں ہندوستان کی کرکٹ ثقافت مختلف نظر آتی ہے ۔ رواں سال دھرم شالہ میں ہندوستان اور انگلینڈ کے درمیان ٹیسٹ میچ کے دوران اسٹیڈیم میں انگلینڈ کے شائقین زیادہ تھے ، حالانکہ انگلینڈ سیریز ہار چکا تھا۔ ان شائقین کی رونق اسٹیڈیم سے نکل کر مکلوڈ گنج کی گلیوں اور بازاروں تک پھیل گئی۔ وہ میچ صرف نتیجہ نہیں بلکہ ایک جشن کی طرح تھا۔ہندوستان میں اس کے برعکس، زیادہ توجہ محدود اوورز کے کرکٹ اور ٹرافیوں پر دی جاتی ہے ، خاص طور پر ورلڈ کپ میچوں میں ۔ اس دوڑ میں ٹیسٹ کرکٹ کو اکثر نظر انداز کر دیا جاتا ہے ۔ حیرت کی بات یہ ہے کہ ہندوستان اس وقت آئی سی سی ٹیسٹ رینکنگ میں چھٹے نمبر پر ہے ، حالانکہ وہ پہلے دو ٹیسٹ چیمپئن شپ فائنلز کھیل چکا ہے ۔ اس کے باوجود اس گراوٹ پر زیادہ سنجیدہ بحث نظر نہیں آتی۔یہ ایک اہم سوال کھڑا کرتا ہے کہ کیا ہندوستان کرکٹ سے محبت کرتا ہے یا صرف جیت سے ؟ٹیسٹ کرکٹ صبر، ہمت اور باریکی کو سمجھنے کا درس دیتی ہے ۔ یہ وہ چیزیں ہیں جو صرف ہائی لائٹس یا تمغوں سے نہیں ناپی جاسکتیں۔ جب شائقین کی دلچسپی صرف جیت تک محدود ہو جائے تو کھیل کی خوبصورتی کم ہو جاتی ہے ۔میلبورن ٹیسٹ نے یہ بات ذہن نشیں کرائی کہ کھیل تب ہی زندہ رہتا ہے جب اسے ایک مشترکہ ثقافتی تجربہ سمجھا جائے ، نہ کہ صرف جیت اور ہار کا حساب۔