کئی گاڑیاںاورلاکھوں کی املاک تباہ ،بنیادی سہولیات درہم برہم، انتظامیہ پوری طرح سے متحرک
اشتیاق ملک
ڈوڈہ //ضلع ڈوڈہ کے قصبہ ٹھاٹھری میں پیر اور منگل کی درمیانی شب بادل پھٹنے اور شدید موسلادھار بارش کے نتیجے میں بڑے پیمانے پر تباہی مچ گئی۔ پہاڑوں سے آنے والے اچانک سیلابی ریلے نے قصبہ ٹھاٹھری کو اپنی لپیٹ میں لے لیا، جس کے باعث 40 سے زائد رہائشی و غیر رہائشی مکانات و دوکانیں، سرکاری دفاتر، نجی گاڑیاں اور دیگر املاک کو شدید نقصان پہنچا جبکہ لاکھوں روپے کی جائیداد تباہ ہو گئی۔ سیلابی پانی کے ساتھ آنے والا بھاری ملبہ بازار، گلیوں اور رہائشی علاقوں میں داخل ہوگیا، جس سے متعدد مکانات میں پانی اور مٹی بھر گئی۔ دکانوں میں رکھا لاکھوں روپے مالیت کا سامان بھی تباہ ہوگیا جبکہ کئی گاڑیاں ملبے میں دب گئیں اور بعض کو شدید نقصان پہنچا۔ قصبہ میں نکاسی آب، پینے کے پانی، بجلی اور دیگر بنیادی سہولیات کا نظام بری طرح متاثر ہوا، جس سے عوام کو شدید مشکلات کا سامنا کرنا پڑ رہا ہے۔ اس قدرتی آفت کے باعث ڈوڈہ بٹوت قومی شاہراہ پر متعدد مقامات پر ملبہ اور پتھر گرنے سے ٹریفک کی آمدورفت مکمل طور پر معطل ہوگئی ہے۔ شاہراہ کے دونوں اطراف سینکڑوں گاڑیاں پھنس گئیں۔ متعلقہ محکموں نے بھاری مشینری کے ذریعے ملبہ ہٹانے کا کام شروع کر دیا ہے، تاہم متاثرہ علاقوں میں بحالی کا عمل ابھی جاری ہے۔ متاثرہ مقامی باشندوں نے الزام عائد کیا کہ اگرچہ بادل پھٹنا ایک قدرتی آفت تھی، تاہم تباہی کی شدت میں ناقص تعمیراتی منصوبہ بندی نے اہم کردار ادا کیا. ان کے مطابق پی ایم جی ایس وائی، مختلف تعمیراتی ایجنسیوں اور متعلقہ ٹھیکیداروں نے سڑکوں اور نالوں کی تعمیر کے دوران نکاسی آب کا مناسب انتظام نہیں کیا، جس کے باعث برساتی پانی نے اپنا قدرتی راستہ تبدیل کرکے آبادی کا رخ اختیار کیا اور وسیع پیمانے پر نقصان پہنچایا. سابق میونسپل کمیٹی چیئرمین ٹھاٹھری منصور احمد نے کہا کہ اس معاملہ کو متعدد بار ضلع و مقامی انتظامیہ کی نوٹس میں لایا گیا لیکن کوئی عملی کام نہیں کیا گیا اور آج درجنوں لوگ بے گھر و لاکھوں کی املاک کو نقصان پہنچا ہے۔ انہوں نے حکومت سے اس معاملے کی اعلیٰ سطحی تحقیقات کرانے اور ذمہ داروں کے خلاف سخت کارروائی کا مطالبہ کیا۔ ادھر ڈپٹی کمشنر ڈوڈہ، ایڈیشنل ڈپٹی کمشنر ڈوڈہ، ایس ڈی ایم ٹھاٹھری اور ضلعی انتظامیہ کے دیگر افسران نے متاثرہ علاقوں کا دورہ کرکے نقصانات کا جائزہ لیا۔ انہوں نے متعلقہ محکموں کو فوری طور پر شاہراہ کی بحالی، ملبہ ہٹانے، بجلی و پانی کی فراہمی بحال کرنے اور متاثرہ خاندانوں کو ہر ممکن امداد فراہم کرنے کی ہدایت دی۔انہوں نے کہا کہ انتظامیہ نے نقصانات کا تخمینہ لگانے کے لیے سروے بھی شروع کر دیا ہے تاکہ متاثرین کو حکومتی امداد فراہم کی جا سکے۔ڈپٹی کمشنر نے مزید کہا کہ ایس ڈی آر ایف کے تحت متاثرین کو مالی امداد فراہم کی جائے گی۔ مقامی لوگوں نے حکومت سے مطالبہ کیا ہے کہ متاثرہ خاندانوں کو فوری مالی امداد، تباہ شدہ مکانات اور دکانوں کی تعمیر کے لیے خصوصی پیکیج فراہم کیا جائے، تاکہ وہ اس قدرتی آفت کے بعد دوبارہ اپنی زندگی معمول پر لا سکیں۔ اے ڈی سی ڈوڈہ انل کمار ٹھاکر نے کشمیر عظمیٰ کو بتایا کہ بادل پھٹنے کے بعد قصبہ ٹھاٹھری میں بھاری املاک کو نقصان پہنچا ہے تاہم کسی قسم کا کوئی جانی نقصان نہیں ہوا ہے۔انہوں نے کہا کہ فیلڈ عملہ نقصانات کا جائزہ لے رہا ہے اور ابھی تک کی اطلاعات کے مطابق 42 کے قریب رہائشی و غیر رہائشی مکانات و دوکانوں کو نقصان پہنچا ہے جس میں کچھ سرکاری و نجی دفاتر بھی شامل ہیں جبکہ کئی گاڑیاں ملبے تلے دب گئیں ہیں. واضح رہے کہ گذشتہ ماہ میں بھی قصبہ ٹھاٹھری میں بادل پھٹنے سے درجنوں مکانات ،مذہبی اداروں و سرکاری عمارتوں کون نقصان پہنچا تھا جبکہ سال 2017 میں تباہ کن سیلاب میں 3 لوگوں کی موت و درجنوں مکانات کو نقصان پہنچا تھا، دو برس قبل نئی بستی ٹھاٹھری میں زمین دھنسنے سے تین درجن سے زائد رہائشی مکانات غیر محفوظ بن گئے تھے اس کے باوجود حکومتی سطح پر اس علاقہ کی تحفظ کے لیے کوئی اقدامات نہیں کئے جارہے ہیں۔