جموں کشمیر جیسے ہمالیائی خطے میں دشوار گذار پہاڑی راستوں، خراب موسم اور نامساعد حالات کے باوجود تجارتی اور نجی گاڑیوں کی تجارت میں پچھلے چند سال میں 30 فی صد ترقی (گروتھ) ریکارڈ کی گئی۔ محکمہ ٹرانسپورٹ کے مطابق گزشتہ مالی سال کے دوران صرف نجی کاروں کی فروخت سے 1000 کروڑ روپے کی آمدن ہوئی ہے جبکہ کشمیر کا ہر کار ڈیلر ہر ماہ 800 گاڑیاں فروخت کرتا ہے۔
جموں کشمیر میں پچھلے پندرہ برسوں کے دوران تیزرفتاری شہرکاری، نجی آمدن میں اضافہ اور سڑکوں کی مسافت میں ترقی سے عام شہری کے لئے نقل و حمل ایک چیلنج بن گیا ہے۔
بانہال سے بارہمولہ ریلوے لائن کے ذریعہ لاکھوں لوگ کھنہ بل سے کھادِن یار تک روزانہ سفر کرتے ہیں، لیکن اس کے باجود بین الاضلاع اور شہروں اور قصبوں میں عوامی ٹرانسپورٹ کا فقدان ہے اور نتیجہ یہ کہ ہر شہری چاروناچار اپنی گاڑی یا موٹرسائیکل رکھنے پر مجبور ہے۔
ٹریفک جام ہوجائے تو لوگ جموں کشمیر بینک کو کوستے نظر آتے ہیں۔ اْن کا ماننا ہے کہ جموں کشمیر بینک قرضے نہ دیتا تو لوگ گاڑیاں نہ لاتے۔ لیکن حقیقت یہ ہے کہ معاشی ترقی زندگی کا دستورِ مسلسل ہے اور ہر شہری کے کام کاج کی نوعیت بدلتی رہتی ہے اور پھر ترقی کے ساتھ ساتھ رفتار کا ہونا لازمی ہوتا ہے، لہٰذا جب کام کی رفتار بڑھ جائے تو کام کرنے والے کو نقل و حمل کے ذرایع کی ضرورت پڑتی ہے۔ اس میں جے کے بینک کو گالیاں دینے کی ضروت نہیں بلکہ معاملے کو گہرائی سے سمجھنے کی ضرورت ہے۔ ہم یہاں ٹریفک جام کی چار بنیادی وجوہات کی توضیح کریں گے؛
1۔ سڑکیں
جموں کشمیر میں سڑکوں کی کْل مسافت 20 ہزار کلومیٹر تک ہے جبکہ وزیراعظم دیہی شاہراہ منصوبہ یعنی پردھان منتری گرام سڑک یوجنا کے تحت مزید 19 ہزار کلومیٹر کا اضافہ مجوزہ ہے، جس میں سے کم و بیش گیارہ ہزار کلومیٹر کی مسافت مکمل ہوچکی ہے۔ سڑکیں محض راہداری بچھانے کا نام نہیں ہے، شاہراہوں اور سڑکوں کی دیکھ ریکھ ایک مسلسل کام ہے جسکے لئے بیرونی ممالک یہاں تک کہ خود ہندوستان کے چندی گڑھ جیسے شہروں میں الگ محکمے ہیں۔ ہمارے یہاں سڑک بن گئی، وزیر یا اعلیٰ حاکم نے لال فیتہ کاٹ دیا، اخبار میں تصویر چھپ گئی اور کھیل ختم۔ چند ماہ بعد یہی سڑک گردوغبار اور کھڈوں سے عبارت ہوتی ہے۔ سڑکیں تعمیر کرتے وقت اس پر ممکنہ ٹریفک دبائو ، موسمی حالات اور تعمیر میں لگنے والے مٹیرئیل کو خاطر میں نہیں لایا جاتا۔ افسر کو اپنا کمیشن نکالنے کے لئے منصوبہ منظور کرنے کی جلدی ہوتی ہے اور ٹھیکیدار کو فوراًکام ختم کرکے بِل نکالنے کی جلدی۔
سڑکوں پر فٹ پاتھ کے بارے میں سوچنے کی کسی کو چٹی نہیں ہوتی اور نہ ہی زیبرا کراسنگ یا سپیڈ لائنز ڈالنے کی۔ اسی لئے کوئی حیرانی نہیں کہ گزشتہ تیس سال کے دوران ہمارے یہاں تشدد کے نتیجہ میں مرنے والے لوگوں سے کئی گنا زیادہ لوگ سڑک حادثوں میں مارے گئے ہیں۔ اور یہ حادثے اربوں روپے کی لاگت سے تعمیر ہونے والی پہاڑی شاہرائوں خاص طور پر جموں شاہراہ، راجوری ، پونچھ، ڈوڈہ، کشتواڑ وغیرہ پر رونما ہوتے ہیں۔ شہروں اور قصبوں کا تو خدا ہی حافظ ہے۔
سرینگر میں جہانگیر چوک، مہاراجہ بازار، کرن نگر، ڈلگیٹ، رام باغ، ایچ ایم ٹی، قمرواری، پانتہ چوک وغیرہ بارہا کشادگیوں کے باوجود ٹریفک جام کے گڑھ بنے ہوئے ہیں۔ جموں میں ریذیڈنسی روڈ، رگوناتھ بازار، دْومٹ، جیول چوک، کرنال بائی پاس، چھنی وغیرہ میں بھی یہی حال ہے۔
ان سرسری حالات کو دیکھتے ہوئے یہ تجویز حق بجانب ہوگی کہ جموں کشمیر میں ایک بااختیار روڈویز اتھارٹیJ&K Roadways Authorityعمل میں لائی جائے،جسکے تابع ماہرین کی ایک ٹیم ہو جو سڑکوں کی منصوبہ بندی کے وقت مستقبل کے حالات، ماحولیات ، ٹریفک کے دبائو اور دیگر اہم عوامل کو بھی خاطر میں لائے۔ چونکہ محکمہ ٹرانسپورٹ لائسنس اور پرمٹ دینے میں مصروف ہے اور محکمہ ٹریفک جرمانہ سمیٹنے میں لگا ہوا ہے، ایسے میں ایک خودمختار روڈ ویز اتھارٹی ازبس ضروری ہے۔
2۔ قانون
یونین ٹیریٹری بن جانے کے بعد جموں کشمیر میں سبھی قوانین کی طرح ٹرانسپورٹ اور ٹریفک سے متعلق قوانین بھی بدل گئے ہیں۔ گزشتہ برس ستمبر سے ہمارے یہاں سینٹرل موٹر ویکل ایکٹ نافذ ہے۔ نئے قانون کی رْو سے شراب پی کر گاڑی چلانے والے کو پہلی مرتبہ دس ہزار روپے جرمانہ اور چھہ ماہ کی قید کا سامنا ہوگا جبکہ دوسری مرتبہ پندرہ ہزار روپے جرمانہ اور دو سال کی جیل ہوگی۔ بغیر لائسنس کے گاڑی چلانے پر جرمانہ کی رقم 500 سے بڑھا کر 5000 روپے کردی گئی ہے، جبکہ بغیر ہیلمٹ کے موٹرسائکل یا سکوٹر چلانے کے لئے جرمانہ 400 روپے سے بڑھا کر 4000 روپے کردیا گیا ہے۔ رانگ پارکنگ کے لئے جرمانہ کی رقم میں بھی کئی گنا اضافہ ہوچکا ہے۔ اس کے باوجود گزشتہ برس جموں اور کشمیر خطوں میں ٹریفک پولیس نے 15 کروڑ روپے کی رقم مختلف خلاف ورزیوں کے عوض لوگوں سے وصول کی ہے۔ اس کا تجزیہ بعض پولیس افسر یہ کرتے ہیں کہ یہاں لوگ قانون بیزار ہیں۔ دراصل کچھ بنیادی باتیں ہیں جو قانون نافذ کرنے والے اداروں نے ہمیشہ نظرانداز کی ہیں۔
پہلی بات یہ ہے کہ لائسنس کون دیتا ہے۔ ٹرانسپورٹ محکمہ کے اندر دلالوں اور افسروں کے بیچ ساز باز کا جو گورکھ دھندا ہے ،وہ سالہاسال سے کسی خلل کے بغیر جاری ہے۔ اور پھر ٹریفک کے اعلیٰ حکام کئی مرتبہ یہ اعتراف کرچکے ہیں کہ سڑک پر کھڑے ٹریفک اہلکار کے بارے میں وثوق سے یہ نہیں کہا جاسکتا کہ وہ رشوت لے گا یا قانون کی لاج رکھے گا۔ جہاں ایک طرف شہریوں کو ضوابط کی پاسداری کروانے کے لئے جْرمانہ اور سزائوں کا ہونا لازمی ہے ، وہیں حکومت کو بھی اپنی ذمہ داریوں کا پاس کرنا ہوگا۔ لائسنس کے اِجراء اور ٹریفک چیکنگ کے نظام کو شفاف بناتے ہوئے نفاذِ قانون کو واقعی ایسا مانع عمل بنانا ہوگا کہ لوگ خلاف ورزی نہ کریں۔
3۔پارکنگ
یہ ایک پیچیدہ مسئلہ ہے اور یاد رکھئے کہ یہ صرف لالچوک کا مسئلہ نہیں ہے۔ ٹریفک پولیس کی منطق کے مطابق گاڑی غلط جگہ کھڑی ہے اور باڑے کی کرین گاڑی کو گھسیٹ کر تھانے پہنچاتی ہے اور پھر جرمانہ عائد ہوجاتا ہے۔ لیکن یہ کون طے کرے گا جہاں گاڑی کھڑی تھی وہ جگہ ’’غلط‘‘ ہے۔ اْسی جگہ پر کئی منزلہ شاپنگ مال ہے، سرکاری دفتر ہے جہاں عام لوگوں کو جانا ہے، ہسپتال ہے جہاں جانا ناگزیر ہے یا کوئی اور سہولت ہے۔ اگر پارکِنگ رانگ ہے تو شاپنگ مال کی تعمیر کے لئے اِجازت کس نے دی۔
چلو مان لیتے ہیں کہ معیشت کے مفاد میں میونسپل حکام نے اجازت دی لیکن کیا میونسپل حکام نے ٹریفک محکمے سے رابطہ کیا؟ کیا اس طرح کا کوئی رابطہ محکموں کے درمیان ہے؟
سرینگر کے ایس ایم ایچ ایس ہسپتال کی پرانی تعمیر تو خیر مہاراجہ ہری سنگھ نے کی تھی، ظاہر ہے اْنہیں اندازہ نہ تھا کہ کبھی عام لوگ بھی کار میں سوار ہوکر ہسپتال جائیں گے، لیکن ہسپتال کی تعمیر نو کے تحت بننے والی عمارتوں پر جو اربوں روپے سابق وزرائے صحت محبوب بیگ، مصطفی کمال، لال سنگھ اور مدھن لعل شرما نے خرچ کئے ،اْسوقت کسی نے یہ کیوں نہیں سوچا کہ پارکنگ کا کیا ہوگا؟ کپوارہ میں بس اڈے کی اجازت کے وقت پل کی تعمیر ادھوری کیوں چھوڑی گئی؟ بارہمولہ کا نیا پْل بناتے وقت اولڈ ٹائون کے ٹریفک کو خاطر میں کیوں نہ لایا گیا؟ اننت ناگ میں کے پی روڑ کی تعمیر کے وقت چینی چوک اور جنگلات منڈی کے ٹریفک پر کسی نے کیوں نہ سوچا؟ سرینگر کے ہری سنگھ ہائی سٹریٹ کے متصل پارکنگ کے دو وسیع رقبے کیوں ویران پڑے ہیں؟ لالچوک میں پریس کالونی کے عقب میں پانچ سال سے کون سا تاج محل بن رہا ہے، پارکِنگ لاٹ ہی تو ہے؟ اربوں روپے کی لاگت سے بننے والے نئے شاپنگ مال کے کاغذات پر انڈر گرائونڈ پارکِنگ لکھنے والوں نے کبھی یہ نہیں دیکھا کہ پورا لالچوک جہلم کے کنارے پر واقع ہے اور زیرِزمین پارکنگ ممکن نہیں؟ اس قدر ناہلی کے درمیان جب حکومت کروڑوں روپے عام ٹیکس دہندہ سے جرمانے کے طور پر وصول کرتی ہے تو ظاہر ہے یہ جدید ترین استحصال ہے جو قانون کے نام پر ہورہا ہے۔
4۔ شہری شعور
جدید دور میں کسی معاشرے کی ترقی کے لئے وہاں کی بڑی عمارتوں کی قطاریں یا دولت کی ریل پیل نہیں دیکھی جاتی۔ کوئی معاشرہ تب ہی ترقی یافتہ ہوتا ہے جب اس کے شہریوں میں بقائے باہم کا شعور ہو۔ ہمارے یہاں سڑکوں پر جس انداز سے لوگ گاڑیاں چلاتے ہیں اْس سے خدا کی رحمت پر کامل یقین ہوجاتا ہے۔ کیونکہ یہ خدا کی رحمت ہی ہے کہ ہر روز سڑکوں پر درجنوں لوگ کْچلے نہیں جاتے۔اکثر اوقات ٹریفک حکام مذہبی رہنمائوں کو بیداری مہم میں مدعو کرتے ہیں، لیکن شہریوں کو ایک بنیادی بات کا احساس دینا ضروری ہے۔ لاکھوں روپے خرچ کرکے اپنے اقربا کو ایونٹ مینجمنٹ کا ٹھیکہ دینے سے بہتر تھا کہ چند الفاظ پر مبنی پوسٹر دفتر میں ہی پرنٹ کردئے جاتے جو ہر گاڑی چلانے والے کو دیئے جاتے اور اْن پر یہ لکھا ہوتا ، ’’سڑک پر پہلا حق پیدل چلنے والے کا ہے۔‘‘، تو بہت فرق پڑ سکتا تھا۔
عام شہریوں کو بھی یہ سوچنا ہوگا کہ مہنگی گاڑی چلانے کا مطلب یہ نہیں کہ مجھے ماروتی یا رکھشا والے کو ہر حال میں پیچھے چھوڑنا ہے ورنہ میری شان میں کمی ہوگی۔ اسی طرح خریداری کرنے والے لوگ کبھی کبھی تساہل اور کہالت اور کبھی کبھی کنجوسی کی وجہ سے سڑکوں کے بیچوں بیچ گاڑیاں کھڑی کردیتے ہیں۔ اگر کسی نے ایک گھنٹے کی شاپنگ کرلی تو اْس مدت کے دوران کم از کم ایک سو گاڑیوں کو نہ صرف تکلیف ہوئی بلکہ دس منٹ کی دیر بھی ہوئی۔ پیغمبر اسلامؐ نے فرمایا ہے کہ میری اْمت میں سے ہر مومن دوسروں کی تکلیف دور کرنے والا ہوگا نہ کہ تکلیف دینے والا۔ خیال کریں کہ عمرہ یا حج کی شاپنگ کرنے والے بظاہر اہل اسلام بھی گاڑی برلب سڑک کرکے شاپنگ کرتے ہیں، افسوس صد افسوس !
حاصل کلام
حکومت نے پہلے ہی 14 محکموں کے انجینئرنگ شعبوں کو آر اینڈ بی محکمے کے تحت لایا ہے۔ لیکن کسی کو یہ خیال نہیں آیا کہ پوری دنیا میں محکمہ ٹریفک کی ذیل میں ایک ٹریفک انجینئرنگ وِنگ ہوتی ہے جو ٹریفک جام کے لئے عام شہریوں کو نہیں بلکہ سڑکوں کی بناوٹ کو قصوروار ٹھہراتی ہے اور مطلوبہ مرمت، کشادگی یا ضروری تبدیلی کرتی ہے۔ حیرت ہے، ہمارے یہاں کا محکمہ ٹریفک نہ صرف پولیس کا ضمیمہ ہے بلکہ اس کے پاس کوئی ٹریفک انجینئرنگ وِنگ نہیں ہے۔
(کالم نویس معروف سماجی کارکن ہیں)
رابطہ نمبر۔ 9469679449
ای میل۔ [email protected]
����������