واشنگٹن//امریکی ایوان کی جانب سبکدوش صدر ٹرمپ کے مواخذے کا آرٹیکل سینیٹ میں پیش کردیا گیا۔ مواخذہ کے آرٹیکل پر سینیٹ میں کارروائی کا آغاز 8 فروری سے ہوگا جس میں ایوان بالا فیصلہ کرے گا کہ ٹرمپ کامواخذہ یا انہیں دوسری بارصدارتی امیدوار بننے سے روکاجائے یا نہیں۔ایوان زیریں ڈونلڈ ٹرمپ کے مواخذے کی دوبار منظوری دے چکا ہے۔ٹرمپ وہ واحد صدر بن گئے جنہیں دوسری مرتبہ اس قسم کے ٹرائل کا سامنا کرنا پڑ رہا ہے۔مواخذے کے آرٹیکل میں صدر ٹرمپ پر الزام لگایا گیا ہے کہ وہ 'امریکا کے خلاف تشدد کو ہوا دے کر سنگین جرائم اور بدعنوانیوں میں ملوث ہیں'۔صدر جو بائیڈن نے کہا کہ وہ جانتے ہیں کہ اس ٹرائل کا ردِ عمل بھی آئے گا لیکن ان کے خیال میں اسے ہونا ہوگا کیوں کہ اگر ایسا نہ ہوا تو اس کے زیادہ برے اثرات ہوں گے۔تاہم امریکی صدر کے پرزور اتحادی اور جنوبی کیرولینا سے تعلق رکھنے والے سینیٹر لِنڈسے گراہم نے کہا ہے کہ 'آئینی دائرہ اختیار' کی کمی کے باعث مواخذے کے اقدام کو 'مسترد' کیا جانا چاہیے تھا۔دوسری طرف ڈونلڈ ٹرمپ کی جانب سے ان معاملات پر اب تک کوئی تبصرہ نہیں آیا اور وہ ٹرائل کے لیے اپنی قانونی ٹیم تشکیل دے رہے ہیں اور جنوبی کیرولینا کے ایک وکیل بوچ بوورز ان کی دفاعی ٹیم کی سربراہی کرسکتے ہیں۔سینیٹ میں مواخذے کا آرٹیکل پہنچانے والے 9 اراکین کانگریس میں سے ایک رکن ٹیڈ لیو نے اس کارروائی کو 'تاریخی' قرار دیا، ان تمام 9 اراکین کو ایوان کے منتظم کے طور پر جانا جاتا ہے اور یہ سینیٹ میں ٹرائل کے دوران ایوان کی نمائندگی کریں گے۔