بلال فرقانی
سرینگر//جموں و کشمیر میں ٹرانسپورٹرعایتی سکیم کے نفاذ میں بڑی خامیوں کا انکشاف ہوا ہے، جہاں’سی اے جی‘ نے کمزور ردعمل، ضابطہ جاتی خلاف ورزیوں اور ناقص نگرانی کو اسکیم کی ناکامی کی بڑی وجوہات قرار دیا ہے۔ رپورٹ کے مطابق نومبر 2019 میں شروع اور دسمبر 2022 میں دوبارہ نوٹیفائی کی گئی اس اسکیم کا مقصد 15 سال سے زائد پرانی گاڑیوں کو جدید اور کم آلودگی پھیلانے والی گاڑیوں سے تبدیل کرنا تھا، جس کے تحت فی گاڑی مالک کو 5 لاکھ روپے سبسڈی فراہم کی جانی تھی۔ تاہم آڈیٹ میں انکشاف ہوا کہ اسکیم کو انتہائی کم ردعمل ملا اور شرکت کی شرح محض 0.56 فیصد رہی۔ رپورٹ میں کہا گیا ہے کہ محکمہ ٹرانسپورٹ نے اسکیم کا دائرہ کار منی بسوں اور میٹاڈورں تک نہیں بڑھایا، حالانکہ یہ پبلک ٹرانسپورٹ کا بڑا حصہ ہیں۔
رپورٹ کے مطابق کشمیرمیں فروری 2025 تک ایک بھی درخواست موصول نہیں ہوئی، جبکہ جموں ڈویژن میں محدود عمل درآمد کے تحت 45 گاڑیوں کو تبدیل کیا گیا اور 2.25 کروڑ روپے سبسڈی کے طور پر جاری کیے گئے۔سی اے جی نے ضابطہ جاتی خلاف ورزیوں کی نشاندہی کرتے ہوئے کہا کہ تمام 45 مستفیدین کے حلف نامے درجہ اول مجسٹریٹ کے بجائے نوٹری سے تصدیق شدہ تھے، جو قواعد کے خلاف ہے۔ 6ماہ کی بنیاد پر نگرانی رپورٹیں بھی تیار نہیں کی گئیں تاکہ یہ جانچا جا سکے کہ نئی گاڑیاں مقررہ روٹوں پر چل رہی ہیں یا نہیں۔رپورٹ میں یہ بھی بتایا گیا کہ کئی معاملات میں پرانی گاڑیوں کو اسکریپ کرنے کے لازمی اصولوں کی خلاف ورزی کی گئی۔7 کیسوں میںمعائنہ سرٹیفکیٹس موجود نہیں تھے، اس کے باوجود 35 لاکھ روپے کی سبسڈی جاری کی گئی۔، 3 مستفیدین نے نئی گاڑیاں تیسرے فریق کے نام پر خریدیں۔ مالی بے ضابطگیوں کی نشاندہی کرتے ہوئے’ سی اے جی‘ نے کہا کہ8 کیس میں 40 لاکھ روپے کی سبسڈی براہ راست مستفیدین کے ذاتی کھاتوں میں منتقل کی گئی، بجائے اس کے کہ انہیں بینک قرض کھاتوں کے ذریعے جاری کیا جاتا، جس سے فنڈس کے غلط استعمال کا خدشہ بڑھ گیا۔سی اے جی نے مزید کہا کہ محکمہ ٹرانسپورٹ پرانی گاڑیوں کو مرحلہ وار ختم کرنے میں ناکام رہا اور 2022 میں 15 سے 20 سال پرانی گاڑیوں کی رجسٹریشن کی اجازت دے کر اسکیم کے بنیادی مقصد کو ہی نقصان پہنچایا۔ رپورٹ میں نتیجہ اخذ کیا گیا ہے کہ اسکیم رضاکارانہ شرکت پر منحصر رہی اور مؤثر ضابطہ جاتی اقدامات کی کمی کے باعث نہ تو آلودگی میں کمی آئی اور نہ ہی ٹرانسپورٹ نظام کی جدید کاری ممکن ہو سکی۔سی ائے جی نے جموں و کشمیر میں کانکنی سے متاثرہ علاقوں کیلئے شروع کی گئی وزیر اعظم کان کنی مقامی بہبود یوجنا کے مطلوبہ نتائج حاصل کرنے میں ناکام ر ہونے کا بھی انکشاف کیا ہے۔رپورٹ کے مطابق اسکیم کا مقصد کانکنی سے براہ راست متاثرہ علاقوں میں ترقیاتی کاموں کو ترجیح دینا تھا، تاہم کئی ایسے علاقوں میں کوئی بھی منصوبہ شروع نہیں کیا گیا۔
آڈیٹ کے دوران8 اضلاع میں کیے گئے سروے سے معلوم ہوا کہ کانکنی مقامات کے2 کلومیٹر دائرے کے اندر بھی متعدد گرام پنچایتوں میں کوئی ترقیاتی سرگرمی انجام نہیں دی گئی۔رپورٹ میں کہا گیا ہے کہ ان علاقوں میں ماحولیاتی اور سماجی دباؤ شدید ہے، جہاں 100 فیصد افراد نے سڑکوں کو پہنچنے والے نقصان، 99 فیصد نے فضائی آلودگی اور 95 فیصد نے آبی آلودگی کی شکایت کی، جبکہ 82 فیصد افراد نے صحت سے متعلق مسائل کی نشاندہی کی۔ سی اے جی نے منصوبہ بندی کے عمل میں بھی بڑی خامیوں کی نشاندہی کرتے ہوئے کہا کہ مقامی پنچایتی اداروں کو مکمل طور پر نظر انداز کیا گیا۔ سروے میں شامل تمام سرپنچوں نے بتایا کہ انہیں اسکیم کے تحت منصوبوں کی نشاندہی یا منصوبہ بندی میں شامل نہیں کیا گیا۔رپورٹ میں مزید کہا گیا ہے کہ عوامی ضروریات اور عملی منصوبوں کے درمیان واضح فرق پایا گیا۔ جہاں مقامی لوگوں نے ہنر مندی کی تربیت، سڑکوں کی بہتری، صحت سہولیات، پانی کی فراہمی اور تعلیمی ڈھانچے کو ترجیح دی، وہیں ان شعبوں کو مناسب اہمیت نہیں دی گئی۔’سی اے جی ‘نے یہ بھی نشاندہی کی کہ ضلع معدنیاتی فنڈ کے استعمال، منصوبوں کی منظوری اور نگرانی کے نظام میں خامیاں موجود ہیں، جبکہ غیر قانونی کانکنی کو روکنے کیلئے بھی مؤثر اقدامات کی کمی ہے۔رپورٹ میں سفارش کی گئی ہے کہ اسکیم کو مؤثر بنانے کیلئے مقامی سطح پر شمولیت کو یقینی بنایا جائے، منصوبوں کو عوامی ضروریات کے مطابق ترتیب دیا جائے اور نگرانی کے نظام کو مضبوط کیا جائے تاکہ کانکنی سے متاثرہ علاقوں کو حقیقی فائدہ پہنچایا جا سکے۔