کنگن//سیاحتی مقام سونہ مرگ کے شتکڑی سے 30کلو میٹر دوری پہاڑ کے دامن میں واقع ویشنہ سر میں ان دنوں مقامی سیلانیوں اور سیاحوں کی ٹریکنگ کا سلسلہ جاری ہے جس کے نتیجے میں سیاحت شعبے سے افراد خوش نظر آرہے ہیں ۔سیاحت شعبے سے جڑے افراد کا کہنا ہے کہ گذشتہ برس کورونا وائرس کی وجہ سے ویشنہ سر میں ٹریکنگ کا سلسلہ بند ہوگیا تھا لیکن امسال کورونا وائرس کے پازیٹیو کیسوں میں کمی واقع ہونے سے گذشتہ ایک ماہ سے ٹریکنگ کا سلسلہ شروع ہوگیا جس میں مقامی سیلانیوں کے علاوہ سیاح شامل بھی ہیں اور پہلے روز ٹریکنگ پر آنے والے سیاح شتکڑی سونہ مرگ کے مقام پر نالہ سندھ کے کنارے پر کم سے کم دو روز قیام کرنے کے بعد وشنہ سر کا سفر شروع کرتے ہیں۔ انہوں نے کہا کہ ویشنہ سر میں ایک بڑا تالاب ہے جس میں ٹرائوٹ مچھلیاں پائی جاتی ہیں اور اکثر سیاح اور مقامی سیلانی زیادہ تر ان کو ہی کھانے میں پسند کرتے ہیں اور ویشنہ سر کی خوبصورتی سیاحوں کو اپنی طرف کھینچ لیتی ہے۔ اس جگہ پر محکمہ فشریز نے دو ملازمین کو تعینات رکھا ہے۔ ٹریکنگ سے وابستہ افراد کا کہنا ہے کہ جو سیاح شتکڑی سے ویشنہ سر جاتے ہیں اور واپس گنگہ بل ناراناگ سے لوٹ آتے ہیں جہاں سے وہ اس کی خوبصورتی کا لطف لیتے ہیں ۔انہوں نے بتایا کہ محکمہ سیاحت کو چاہیے کہ وہ ویشنہ سر کو سیاحتی نقشہ پر لائے تاکہ زیادہ سے زیادہ سیاح ویشنہ سر کی سیرو تفریح پر آئے جس سے سیاحت سے وابستہ افراد کو روزگار حاصل کرنے میں مددمل سکیں ۔