عظمیٰ نیوز سروس
جموں//وزیربرائے جل شکتی، جنگلات وماحولیات اور قبائلی امور محکمہ جات جاوید احمد رانا نے ایوان کوبتایا کہ گزشتہ پانچ برسوں میں وولر جھیل کے تحفظ اور اِنتظام کے لئے یو ٹی کیپکس کے تحت 14,647.00 لاکھ روپے کی منظوری دی گئی ہے۔اْنہوں نے یہ بھی کہاکہ مٹی اور پانی کے تحفظ سے متعلق کاموں کے لئے یوٹی کیپکس کے تحت 1,073.69 لاکھ روپے خرچ کئے گئے ہیں۔وزیر موصوف نے یہ بات رْکن اسمبلی علی محمد ساگرکی طرف سے یونین ٹیریٹری میں حکومت کی جانب سے پانی کے تحفظی اقدامات کے بارے میں اْٹھائے گئے ایک سوال کا جواب دیتے ہوئے بتائی۔وزیرجل شکتی نے بتایا کہ گزشتہ پانچ برسوں کے دوران مرکزی معاونت والی سکیم ‘نیشنل پلان فار کنزرویشن آف ایکواٹک ایکوسسٹمز (این پی سی اے)”کے تحت وولر جھیل کے تحفظ اور انتظام کے لئے 900.00 لاکھ روپے بھی منظور کئے گئے ہیں۔
اْنہوں نے کہا کہ نوٹیفائید ویٹ لینڈز اور آبی ذخائر کے تحفظ و انتظام کے لئے متعدد اَقدامات کئے جا رہے ہیں جن میں بین الاقوامی اہمیت کے حامل پانچ رامسر سائٹس بھی شامل ہیں۔اْنہوں نے ایوان کو بتایا کہ یونین ٹیریٹری میں کل 1,810 آبی ذخائر کی نشاندہی کی گئی ہے جن میں ڈل جھیل، آنچار جھیل، وولر جھیل، خوشحال سر اور ہوکر سر شامل ہیں۔وزیرجاوید رانا نے مزید وضاحت کی کہ اہم تحفظی اقدامات میں ویٹ لینڈز سے ڈی ویڈنگ، بنڈوں کی مضبوطی اور تعمیر، آبی گزرگاہوں کی بحالی، نگرانی کے ڈھانچے کی ترقی، کچرا روکنے کے آلات کی تنصیب اور اِضافی آبی آبی پودوں کی باقاعدگی سے صفائی شامل ہے۔
محکمہ نے وولر جھیل کے اطراف سے سالڈ ویسٹ کی ڈمپنگ کو روکنے اور اس کی ماحولیاتی صحت کو بہتر بنانے کے لئے متعدد اقدامات کئے ہیں جن میں جھیل کے قریب ڈمپنگ سائٹس کی بندش، سالڈ ویسٹ مینجمنٹ کے اقدامات، عوامی بیداری مہمات، بائونڈری ڈیمارکیشن، جھیل کی بحالی کے لئے ڈریجنگ، ولو درختوں کی کٹائی اور پانی کے معیار کی مسلسل نگرانی شامل ہیں۔