ولادت با سعادت کے صرف ساتویں دن ہی آپ ؐکا عقیقہ ہوا اور یہ بات بھی قابل فہم ہونے کے ساتھ ساتھ بدرجہا ارفع اور اولیٰ ہے کہ حضور پُر نورﷺ پیدائشی طور پر ہی مختون اور ناف بریدہ تھے ۔ عبدالمطلب دیکھ کر ہی پہچان گئے کہ یہ بچہ اعلیٰ شان والا ہوگا چنانچہ ایسا ہی ہوا۔ حضرت اسحاق بن عبداللہ سیدہ آمنہ سے روایت کرتے ہے ہیں کہ حضور ﷺ جب پیدا ہوئے تو نہایت پاک صاف اور نظیف تھے جسم اطہر پر کوئی الائش نہ تھی ۔ میل کچیل یا دوسری طرح کی نجاستوں سے جسم اطہر بہت ہی صاف و شفاف تھا۔
ولادت با سعادت کے ساتویں دن عقیقہ کے موقعہ پر تمام قریش کو دعوت دی گئی اور تسمیہ کے بارے میں غور خوص کیا گیا۔ عبدالمطب نے حضور رحمت ﷺ کا نام مبارک محمد تجویز کیا جب اُن سے اس نام کے بارے میں پوچھا گیا تو عبدالمطب نے کہا کہ محمد نام اس لئے رکھا کہ اللہ آسمان میں اور اللہ کی مخلوق زمین میں اس مولود کی حمد اور ثنا کریں ۔ یہاں ایک اور بات اس ضمن میں قابل ذکر ہے کہ عبدالمطلب نے آپ کی ولادت سے پہلے ایک خواب دیکھا تھا جو محمد ﷺ نام رکھنے کا باعث ہوا وہ یہ کہ عبدالمطب کی پشت سے ایک زنجیر ظاہر ہوئی جس کی ایک جانب آسمان میں اور ایک جانب زمین میں اور ایک جانب مشرق میں اور ایک جانب مغرب میں ہے۔ کچھ ہی دیر میں یہ زنجیر ایک درخت بن جاتی ہے جس کے ہر پتہ پر ایک ایسا نور ہے جو آفتاب کے نور سے ستر درجہ زائد ہے۔ مشرق اور مغرب میں لوگ اس کی شاخوں سے لپٹے ہیں اور قریش کے کچھ لوگ بھی ان شاخوں کو پکڑے ہوئے ہیں لیکن قریش میں سے کچھ دیگر لوگ اس درخت کو کاٹنے کا ارادہ کرتے ہیں لیکن جونہی کاٹنے کیلئے درخت کے پاس آتے ہیں تو ایک نہایت ہی پُر کشش پُر جمال حسین ترین جوان اُن کو وہاں سے ہٹا دیتا ہے۔ معبرین عبدالمطلب کو اس خواب کا تعبیر ایسے بتادیتے ہیں کہ تمہاری نسل میں سے ایک ایسا عظیم الشان بچہ پیداہوگا ۔ جس کی مشرق سے لیکر مغرب تک لوگ اتباع کریں گے۔ اور آسمان اور زمین والے اُس کی حمد و ثنا کریں گے اور یہی وجہ تھی کہ عبدالمطلب نے آپ ﷺ کا نام مبارک محمد رکھا دوسری طرف آپﷺ کی والدہ ماجدہ سیدہ آمنہ کو رویاء صالحہ کے ذریعے یہ بتلایا گیا کہ تم برگذیدہ خلائق اور سیدالامم کی حاملہ ہو ۔ اس کا نام محمد رکھنا ایک روایت میں ہے کہ احمد رکھنا۔
جس طرح حضرت عبدالمطلب کا تمام بیٹوں میں سے آپﷺ کے والدماجد کا نام عبداللہ تجویز کرنا القاء ربانی تھا اسی طرح آپ ﷺ کا نام مبارک محمد اور احمد رکھنا بھی الہام رحمانی تھا۔ علامہ نوویؒ نے شرح مسلم میں ابن فارس سے نقل کیا ہے کہ حق تعالیٰ نے آپ ﷺ کے گھر والوں کو الہام فرمایا اور اسی لئے یہ نام رکھا گیا یہ بات بدرجہ اعلیٰ قرآن پاک کی رو سے قابل ذکر ہے کہ ۔ یہ دو مخصوص نام حق تعالیٰ نے اپنے برگزیدہ کلام میں ذکر فرمائے ہیں۔
سورۃ الفتح ’’ محمد اللہ کے رسول ہیں ‘‘ آیت ۲۹
سورۃ الصف ’’ اور جس وقت کہ عیسیٰ بن مریم نے کہا کہ اے بنی اسرائیل میں تمہاری طرف اللہ کا رسول ہوں ، تو توریت کا تصدیق کرنے والا اور جو مجھ سے پہلے نازل ہوچکی ہے اور اپنے بعد ایک آنے والے رسول کی بشارت دینے والا جن کا نام احمد ہوگا۔‘‘
بخاری اور مسلم میں جبیر بن مطعم ؓ سے مروی ہے کہ رسول ﷺ نے فرمایا کہ میرے پانچ نام ہیں میں محمد ہوں ، میں احمد ہوں، میں ماحی ہوں یعنی کفر کو مٹانے والا ہوں ، میں حاشر ہوں یعنی لوگوں کا حشر میرے قدموں پر ہوگا یعنی سب سے پہلے قبر سے اُٹھوں گا اور سب لوگ آپ ﷺ کی شفاعت کے محتاج ہونگے۔ اور میں عاقب ہوں یعنی تمام انبیاء کے بعد آنے والا ۔ حضرت سفیان ؓ فرماتے ہیں کہ عاقب کے معنی اخر الانبیاء کے ہیں ۔ یعنی حضورﷺ خاتم النبین ہیں۔
(ان شاء اللہ باقی آئندہ)