راجوری//ضلع انتظامیہ راجوری نے چندروزقبل راجوری میں وزیراعلیٰ کے آئوٹ ریچ پروگرام میں گڑبڑپیداکرنے کے سلسلے میں دوسرکاری ملازمین کومعطل اورایک راشن ڈپوکوسربمہرکرتے ہوئے معاملے کی تحقیقات شروع کردی ہے ۔ تفصیلات کے مطابق 23دسمبرکو راجوری میں وزیراعلیٰ کے عوامی رابطہ پروگرام کے دوران گڑبڑپیداکرنے کی کوشش کاضلع انتظامیہ نے سخت نوٹس لیا اورابتدائی تحقیقات میں دوسرکاری ملازمین کواس معاملے میں ملوث پائے جانے کے بعد انہیں معطل کردیااوردیگرلوگوں کے کردارکی تحقیقا ت شروع کی ہے۔ضلع انتظامیہ نے ایک ویڈیوجس میں 20افرادسیکورٹی حصارکوتوڑکروزیراعلیٰ کے پروگرام میں ہنگامہ کرنے کی کوشش کررہے تھے کاجائزہ لینے کے بعدعمل میں لائی ۔انتظامیہ نے بتایاکہ معطل کئے گئے سرکاری ملازمین جن میں رشیداقبال ولد محمداقبال ساکن گردن جوکہ محکمہ امورصارفین کاراشن ڈیلرہے اور محکمہ ایریگیشن اینڈفلڈکنٹرول کے سول ہیلپرجنیدچودھری شامل ہیں ۔رشیداقبال کے خلاف راشن کوغبن کرنے کے سلسلے میں شکایات بھی ضلع انتظامیہ کوموصول ہوئی تھیں جن کی تحقیقات چل رہی ہے کوویڈیومیں نعرے بازی کرتاہواپایاگیا۔ویڈیومیں ایک درجن سے زائدافرادکی شناخت ہوئی ہے جوہنگامہ کرنے کی کوشش کررہے تھے ،ویڈیومیں دیکھے جانے والے افرادمیں ریاض احمد، ڈاکٹرشریف چوہان، ایس اے شال، جاویدمرزا،رشیداقبال، جنیدچودھری، جلال دین دکاندار، حاجی رزاق احمداوررفیق وغیرہ شامل ہیں۔بتایاجاتاہے کہ وزیراعلیٰ کے پروگرام میںجہاں ہزاروں شامل ہونے کیلئے آئے تھے ،وہاںامن وقانون کی صورتحال پیداہونے سے انسانی جانوں کیلئے خطرہ لاحق تھا۔ضلع انتظامیہ نے رشیداقبال کے ڈپوکوبھی سیزکردیاہے اورقریبی ڈپوکے ڈیلرگل محمد کوگردن کے ڈپوکاچارج دیاگیاہے۔