شاعروں، ادیبوں، مضمون نگاروں اور دانشوروں نے انسان کی زندگی سے تعلق رکھنے والے الگ الگ موضوعات بارے بہت کچھ لکھا ہے جب کہ ’زندگی ‘ خود ایک اہم موضوع ہے۔اس موضوع پر جموں کشمیر کے اردو افسانہ نگار ایثار کشمیری کی کتاب موصول ہوئی جس کاعنوان ’ورق ورق زندگی‘ ہے۔کور پر ایک کھُلی کتاب کے بکھرتے ہولے اوراق دکھائے گئے ہیں۔ دل کش ٹائٹل اورعنوان پڑھنے کی دعوت دیتے ہیں۔کتاب پرملنے کاپتہ ’ایثار پبلی کیشن، ترال لکھا ہے، فون 7006541479 / 9419025667درج ہے اور اس کی قیمت 300روپیہ رکھی ہے، صفحات157۔
ہمارے ادیبوں اور دانشوروں نے زندگی کے بہت نام بتائے ہیں، اس کی طرح طرح کی تشریحات دی ہیں، کبھی زندگی کو اس چیزکا نام بتایا کبھی اُس چیز کا۔ زندگی کے نام پر گانے ہیں ،نظمیں ہیں، غزلیں ہیں۔ اس کتاب میں بھی زندگی سے تعلق رکھنے والے تیس ابواب ہیں اور آگے ہر باب میں زندگی کے بہت سارے نام ہیں۔ یہ ایک طرح سے درسی کتاب ہے لیکن ضروری نہیں کہ آپ پہلا سبق پڑھنے کے بعد ہی دوسرا پڑھیں۔ آپ کو جو موضوع زیادہ دلچسپ لگے ،اس کو پہلے پڑھ سکتے ہو اور اس کے بعد آگے یا پیچھے بھی جا سکتے ہو۔کتاب کا دیباچہ ’ دِل کی بات‘ کے عنوان سے لکھا گیا ہے جس میں بتایا گیا کہ’ ہر انسان زندگی کو اپنے زاویے سے لیتا ہے اور اسی زاویے کے مطابق جینے کی کوشش کرتا ہے‘۔مصنف کا کہنا ہے کہ اس کا بھی اپنا ایک زاویہ ہے۔
اس کتاب میں زندگی کے جو تیس معنی تجویز ہوتے ہیں، ان میں اہم ترین ہیں۔۔۔۔’زندگی۔۔۔۔ قسمت کی کہانی، زندگی۔۔۔۔آزمائش در آزمائش، زندگی۔۔۔ دل لبھانے والا دھوکہ،زندگی گلستانِ مذہب میں اُڑتی بُلبُل اور زندگی۔۔۔ ایک سمجھوتا وغیرہ وغیرہ۔’ زندگی کیا ہے۔۔۔۔؟‘ عنوان کے پہلے باب میں ایک کہانی سنائی گئی ہے کہ ’ ایک شخص نے لاش سے پوچھا کہ زندگی کیا ہے۔ لاش ایک دم کھڑی ہو گئی اور سوال پوچھنے والے کا گلا تب تک دبائے رکھا جب تک کہ اس کی جان نہ نکل گئی۔ اب سوال پوچھنے والے شخص کو یہ بتانے کی ضرورت ہی نہ تھی کہ زندگی کیا ہے‘۔ اس سے زندگی کا مفہوم پیدائش سے لے کر موت تک کی مدت میں ملتا ہے۔ لیکن ہم بھی جانتے ہیں اور مصنف بھی کہ زندگی کے معنی اتنے آسان نہیں، اگر ہوتے تو اس بارے کتاب لکھنے کی ضرورت نہیں تھی۔ زندگی کے زاویے بھی بہت ہیں معنی بھی۔
مصنف نے اس کتاب کو اپنی شریکِ حیات کی نذر کیا ہے۔ اس سے زندگی کے ایک اور معنی بھی نکلے کہ یہ مشترکہ بھی ہے۔ بندہ اس کا واحد مالک نہیں ہے۔ وہ اس کو اپنی مرضی سے استعمال نہیں کر سکتا، فروخت نہیں کر سکتا، کسی کو خیرات میں نہیں دے سکتا، ڈِسپوز نہیں کر سکتا۔ مشترکہ جائیداد کی طرح ہی اس کی حفاظت اور سنبھال کررکھنا بندے پر فرض ہے۔ اس کی زندگی میں دوسروں کا حصہ بھی ہے اور وہ خود دوسروں کی زندگی میں حصہ دار ہے۔ زندگی کے مشترکہ ہونے کا مشاہدہ ایک پنجابی گیت بخوبی کرتا ہے کہ۔۔۔۔
اُتوں ویکھن نوں اسیں دو، وِچوں ساڈی اِک زندڑی
یعنی اوپر سے دیکھنے میں ہم دو نظر آتے ہیں لیکن اندر سے ہماری ایک ہی زندگی ہے۔ بلکہ ایسی مثال تو ہم سیاسی تواریخ میں بھی دیکھتے ہیں، جب لال چوک میں شیخ عبداللہ اور جواہر لعل نہرو نے فارسی نعرہ لگایا’’من تو شُدم، تو من شُدی‘‘
اس کتاب کے ابواب میں کی گئی زندگی کی تشریحات سے ایک بات صاف ہے کہ مصنف نے بہت محنت کی ہے، بہت سوچا ہے، شاید بار بار پڑھا ہے اور کانٹ چھانٹ کی ہے۔ اس میں کوئی بات بار بار نہیں دوہرائی گئی جیسا کہ اس طرح کی کتابوںمیں اکثر ہوتا ہے۔ اس کے ابواب زندگی کے بارے میں مصنف کا زاویہ سمجھنے میں مدد کرتے ہیں اور قارئین کے خود کے زاویہ کو تلاشنے میں بھی کارآمد ہیں۔ کتاب کے آخری مضامین میں ایک کا عنوان ’ نچو ڑ‘ ہے۔ اس میںایک بات بہت پتّے کی ہے کہ ’ کچھ جیتے جی مر جاتے ہیں اور کچھ مر کے جی لیتے ہیں‘۔ اسی مضمون میں زندگی کے بارے محمد اقبال کی نظم، ’زندگی ‘ دی گئی ہے۔سب سمجھتے ہیں کہ کمال کی نظم ہوگی۔ اس کی آخری سطر ہے ۔۔’ اس زیاں خانے میں تیرا متحان ہے زندگی۔ لیکن یہ ہم بھی سمجھتے ہیں اور مصنف کو بھی خیال ہوگا کہ زندگی جیسے موضوع کا نچوڑ ایک دو صفحات میں ممکن نہیں ، شاید ممکن ہی نہیں۔
اسی لئے تو نچوڑ کے بعد بھی ایک باب’ زندگی ۔۔۔خوب صورت بھی ہے‘ کے عنوان سے شامل کیا گیا ہے۔ یہ الفاظ صحیح ہیں لیکن اس کے اندر جو لکھا گیا ہے کہ زندگی خوب صورت ہی ہوتی ہے، اس سے متفق ہونا کٹھن ہے۔ زندگی بدصورت بھی ہو سکتی ہے، زحمت بھی اور لعنت بھی، بندے کے کردار پر منحصرہے۔ گرو نانک دیو جی لکھتے ہیں۔۔۔۔۔پھِٹّ اویہا جیویا، کھائے ڈھِڈّ ودھایا
یعنی ایسی زندگی کو لعنت ہے جس میں بندہ صرف کھا کھا کر پیٹ بڑا کرتا رہتا ہے۔گرو جی نے زندگی کے آخری سال کرتار پور صاحب میں کھیتی کرنے میں گزارے اور محنت کو زندگی کا سرور بتایا۔ اس کتاب میں بھی محنت کو زندگی کا لطف بیان کیا ہے۔ یہ کتاب درسی کتاب بھی ہو سکتی ہے، text book ہو سکتی ہے اور بطورحوالہ کتابrefrence bookتو گھر میں رکھنے والی چیز ہے۔ آپ کا کبھی بھی خیال ہو سکتا ہے کہ فلاں عنوان والا مضمون پھر سے دیکھا جائے۔ کسی سوچ سمجھ والے دوست کوتحفہ دینے کے لئے یہ بڑھیا انتخاب ہو سکتا ہے۔
رابطہ۔ 98783 75903