بلا شبہ کسی بھی انسان کی شخصیت سازی کا پہلا اور بنیادی ادارہ اُس کا اپنا گھر ہوتا ہے۔ اگراس گھر میں تعلیم وتربیت کا نظام مضبوط نہ ہو، والدین کی طرف سے اپنی اولاد کے تئیںنگرانی کمزور ہو اور اخلاقی رہنمائی و کردار سازی میں تغافل برتاجارہا ہو،تو اُس گھر کے افراد کی ذہنی سوچ کے مثبت اثرات بُری طرح متاثر ہو جاتے ہیں۔جن کا براہِ راست منفی اثر اُس گھر کے بچوں اور نوجوانوں پر پڑتا ہے جبکہ اس جدید دور میں ٹی وی، انٹرنیٹ اور موبائل کی بے تحاشا اور غیر مناسب رسائی نے بھی کم سن بچوں اور نوجوان نسل کی ذہن سازی پر گہرا اثر ڈالا ہے۔ ایسے میں جب والدین اور اساتذہ تربیت اور کردار سازی پر توجہ نہیں دیتے تو نوجوان نسل بھٹکنے لگتی ہے اور معاشرے میں اخلاقی زوال کا رجحان تیزی سے پھیلتا جارہا ہے، اسی طرح معاشرے میں قانون کی کمزور گرفت اور انصاف میں تاخیرسے بھی جہاں خرابیاں و بُرائیاں فروغ پاتی ہیں وہیں جرائم میں اضافے کا سبب بنتی ہیں۔اس کے علاوہ معاشرے میں بڑھتی ہوئی بے روزگاری، غربت اور معاشی عدم استحکام سماجی ڈھانچے کو کمزور کر دیتے ہیں۔ معاشی تنگی انسان کو ذہنی تناؤ، چڑچڑے پن اور نفسیاتی بگاڑ کی طرف لے جاتی ہے، جو بعض افراد میں منفی اور مجرمانہ رویوں کو جنم دیتی ہے، خصوصاً ایسے ماحول میں جہاں اخلاقی تربیت کا کوئی نظام موجود نہ ہو۔ دوسری طرف سوشل میڈیا اور جدید ڈیجیٹل دنیا کی بے لگام رسائی نے بھی اس صورتِ حال کو مزید سنگین بنا دیا ہے۔
بغیر نگرانی کے موبائل اور انٹرنیٹ کے استعمال نے نوجوانوں کو ایسے مواد تک پہنچا دیا ہے جو ان کی فطری معصومیت اور سوچ کو بگاڑ دیتا ہے۔ غیر اخلاقی مواد کی آسان دستیابی، نامناسب ویڈیوز اور بے ہنگم آن لائن آزادی نے ذہنی اور سماجی سطح پر تباہ کن اثرات مرتب کئے ہیں، جس کے نتیجے میں معاشرہ رفتہ رفتہ عدم توازن اور اخلاقی انتشار کا شکار ہوتا جا رہا ہے۔ظاہر ہےجب کسی معاشرے میں بُرائیاں ،خرابیاںاور منشیات کا استعمال عام ہوجاتا ہے تو اُس معاشرے میں جرائم کی رفتار میں بھی اضافہ ہوجاتا ہے ،جس کے نتیجے میںبچیوںاور خواتین کی عزت و حرمت غیر محفوظ ہوجاتی ہےاور خوف و بے اعتمادی کا ماحول جنم لیتا ہے۔لوگوں کے دلوں یہ اندیشہ پیدا ہوجاتا ہے کہ کہیں اُن کے معصوم بچے کسی ناگہانی خطرے کا شکار نہ ہو جائیں۔ طالبات چاہے تعلیم کے لئے نکلیں یا روزمرہ کے معمولات نبھانے کے لئے اُن میںبھی غیر معمولی اضطراب اور بے چینی رہتی ہے۔
یہ احساسِ عدم تحفظ نہ صرف افراد کی ذہنی سکون کو متاثر کرتا ہے بلکہ پورے معاشرتی نظام کو بھی متزلزل کر دیتا ہے۔بعض اوقات ایسے دل خراش واقعات رونما ہوجاتے ہیں جو متاثرین پر ایسے نفسیاتی اثرات چھوڑتے ہیںجو عمر بھر مٹ نہیں پاتے۔ متاثرہ افراد شدید ذہنی صدمے کا شکار ہوتے ہیں، ان کا اعتماد مجروح ہو جاتا ہے اور وہ دنیا اور لوگوں پر سے بھروسہ کھو بیٹھتے ہیں۔اس رجحان سے نہ صرف معاشرے میں انتشار جنم لیتاہے بلکہ قانونی و انتظامی ڈھانچے کے لیے بھی بے حد خطرناک ثابت ہوتا ہے۔اس لئے ضرورت اس بات کی ہے کہ ہم اپنےبچوں اور اپنی نوجوان نسل کے لئے اپنے گھروں میں ایسا تربیتی و تفریحی نظام قائم کریں ،جو نہ صرف صاف و ستھرا ہو بلکہ مثبت اور اخلاقی معیار کے مطابق ہو تاکہ بچوں کی ذہن سازی پر کوئی منفی اثر نہ پڑے ۔والدین پر یہ بھی انتہائی لازم ہے کہ وہ اپنے بچوں اور نوجوان اولاد کی بہتر تربیت میں ہرگز کوتاہی نہ برتیں، اُن میں شعور بیدار کرنے کی بنیادی اہمیت کو سمجھیں اوراس بات کو ذہن نشیں رکھیں کہ موجودہ دور میں ضروری ہے کہ اپنےبچوں کو اچھے اور بُرے لمس کا فرق، اجنبی افراد سے محتاط رہنے کے اصول اور اپنی حفاظت کے بنیادی طریقے سمجھائے جائیں۔
گھروں اور اسکولوں میں حفاظتی تعلیم کو باقاعدہ نصاب کا حصہ بنایا جائے تاکہ بچے خود آگاہی اور اعتماد کے ساتھ اپنی حفاظت کر سکیں۔ اسی طرح معاشرتی نگرانی بھی اس سلسلے میں نہایت مؤثر ردار ادا کر سکتی ہے۔ محلے، گاؤں اور کمیونٹی کی سطح پر ایسا ماحول تشکیل دیا جائے جہاں مشکوک سرگرمیوں اور افراد پر نگاہ رکھی جائے اور والدین اپنے بچوں کی سرگرمیوں اور روابط پر مناسب نظر رکھیں۔