میاں بیوی کا رشتہ انسانی رشتوں میں سب سے نازک اور اہم ہوتا ہے۔یہی رشتہ سب رشتوں کی بنیاد ہے۔شادی کے کامیاب ہونے کے لیے صرف محبت ہی کافی نہیں ہوتی ہے۔ اس کے لیے دونوں میاں بیوی بشمول ان کے اہل خانہ کی طرف سے بہت زیادہ محنت اور تھوڑا سا سمجھوتہ درکار ہوتا ہے کیونکہ شادی صرف دو افراد کے بس کی بات نہیں ہوتی۔ اگرچہ ایک نئی شادی شدہ عورت سے نئے خاندان کے طریقوں سے مطابقت پیدا کرنے کی توقع کی جاتی ہے، نئے ماحول میں خود کو آراستہ کرنے میں بیوی کو کچھ حد تک مشکلات کا سامنا کرنا پڑتا ہے جبکہ شوہر کو اس طرح کی کسی دقت یا پریشانی سے نبرد آزما نہیں ہونا پڑ رہا ہے ۔ شوہر کا کردار اس اعتبار سے مشکل ہوتا ہے کہ وہ والدین یا بیوی میں سے کس ایک کی طرفداری کرے اور کس ایک کی نہ کرے ۔کیونکہ کسی ایک کی بے جا طرفداری کرنے سے اس بندھن کےٹوٹنے تک کی بھی نوبت آجاتی ہے۔ اس لئے شوہر کو چاہیے کہ میانہ رویہ اختیار کرے اور کسی ایک فریق کی بے جا طرفداری نہ کرے۔بلکہ سب کو اپنا اپنا حق اور مقام دے، جو ہمارے دینِ اسلام نے ان سب کے لیے متعین کئے ہیںتاکہ ازدواجی زندگی احسن طریقے سے گزر جائے ۔
جدوجہد کیوں پیدا ہوتی ہے؟
حد سےزیادہ محبت بھی اکثر تنازعہ کی شکل اختیار کرلیتی ہے۔ایک ماں یا باپ اپنے بیٹے سے غیر مشروط محبت کرتا ہے اور اسی طرح ایک بیوی بھی اپنے شوہر کے ساتھ محبت کرتی ہے۔ جب کہ ان کے ارادے ایک جیسے ہوتے ہیں ،جس شخص سے وہ پیار کرتے ہیں اُسے خوش رکھنے اور — اس ک کی توجہ حاصل کرنے کے لئے طریقے مختلف ہو سکتے ہیں۔ واضح طور پر مفادات ہی تصادم کی وجہ بنتی ہے، جس سے عدم تحفظ کا احساس پیدا ہوسکتا ہے۔ ایک ماں کے لیے، اپنے بیٹے کو نئی عورت سے کھونے کا خوف ہمیشہ رہتا ہے۔ بیوی پر ہمیشہ خود کو اپنی ساس سے بہتر ثابت کرنے کا دباؤ رہتا ہے۔ ایسے حالات میں جو صورت حال پیدا ہوتی ہےاُس سے آدمی تذبذب کا شکار ہوتا ہے اور اس کے دماغ میں یہ مقولہ آتا ہے۔کہ پھس گیا ہوں کدھر جاؤں ۔ادھر جاؤں یا اُدھر جاؤں۔یہ کوئی معمولی صورتحال نہیں ہے۔ جب لڑائی جھگڑے میں اس کی بیوی اور والدین شامل ہوں، تو ایک آدمی یا تو ایک طرف کا لحاظ رکھتا ہے اور دوسرے کو نظر انداز کر سکتا ہے، یا غیر جانبداری برقرار رکھ سکتا ہے ۔ایسے وقت میں مرد کو چاہیے کہ وہ صبر سے کام لیں اور ہڑبڑاہٹ میں کوئی غیر شعوری قدم نہ اٹھائے لیکن بعض اوقات یہ ضروری ہوتا ہے کہ جب آپ کو صحیح اور غلط کا علم ہو جائے تو ایسی حالت میں آپکا حق بنتا ہے کہ سچائی کا ساتھ دے کر ایک صحیح اور دیانتدار انسان کا کردار ادا کریں اگر ایسا کرنے میں ایک مرد ناکام ہوتا ہے تو وہ اس شعر کا مصداق بن سکتا ہے۔
نہ ملا خدا نہ وصال صنم
نہ ادھر کے رہے نہ اُدھر کے رہے
والدین ہمیشہ درست نہیں ہوتے
یہ ماننا فطری نہیں ہے کہ والدین ہمیشہ صحیح ہوتے ہیں۔ یاد رکھیں، وہ بھی انسان ہیں اور ’غلطی انسان سے ہی سرزد ہوتی ہے‘۔ اپنے والدین کی غلطیوں کو تسلیم کرنا مشکل ہے لیکن کیا آپ کو ان کی خامیوں کو نظر انداز کر کے اپنی شادی کو نقصان اٹھانے دینا چاہیے؟ ضروری نہیں کہ آپ اپنی بیوی کے سامنے ان کی غلطیوں کی نشاندہی کریں بلکہ اس بات کو یقینی بنائیں کہ وہ ان کی کوتاہیوں سے واقف ہیں۔یہ ایک بیٹے کی ذمہ داری ہے کہ وہ اپنے والدین کو محبت سے سمجھائیں اور ان کے ساتھ کسی طرح کی زیادتی نا کریں ،بھلے ہی وہ صحیح نا بھی ہوں۔قران کا اس ضمن میں واضح فرمان ہے کہ بوڑھے والدین کے سامنے اُف تک نہ کیا جائے۔ بیٹے کو سوچنا چاہئے میرا ستر سالہ بوڑھا باپ جو بیمار رہتا ہے ایسی حالت میں باپ کی خدمت کرنا واجب ہے ۔جب بیٹا بے سہارا تھا تو باپ نے اس کو کبھی علیحدہ نہیں رکھا، آج باپ بے سہارا ہوگیا ہے تو اسے علیحدہ چھوڑ کر بیٹا علیحدہ مکان میں جانا چاہتا ہے ،یہ بہت بڑی سنگدلی اور بے مروتی کی بات ہے اور عدل و انصاف کے خلاف بھی ۔ بیٹے کو چاہئے کہ صبر سے کام لے اور اپنی بیوی کو بھی صبر کی تلقین کرے۔ کچھ ماں باپ کو بھی صبر و ضبط سے کام لینا چاہئے، ایسا کرنے سے گھر میں چین و سکون کی فضاء قائم رہتی ہے اور گھر ترقی کی نئی منزلوں کو پہنچتا ہے۔ میرا ماننا ہے کہ ایک شوہر کو چاہئے کہ وہ اپنی بیوی کا بھی خیال رکھے اور کسی بھی صورت میں اس کی حق تلفی نہ ہو ۔اسے احساس دلایا جائے کہ میں آپ کے ساتھ ہوں اور و الدین صرف میرے نہیں بلکہ آپ کے بھی ہیں۔آپ کو میرے والدین کی عزت اور احترام کے ساتھ ساتھ میری خاطر ان سے محبت سے پیش آنا ہے اور ہم دونوں کو یاد رکھنا ہے کہ ہم بھی ان کی عمر کو پہنچ جائیں گے۔ خدانخواستہ اگر دونوں خاندانوں میں حالات خراب ہو جائیں تو مرد کو چاہیے کہ وہ دونوں فریقین کو سمجھائے کہ اب وہ ایک خاندان ہیں اور اختلافات کو بڑھانےکی بجائے حل تلاش کرنے پر توجہ دینی چاہیے۔ بہت کچھ اس بات پر منحصر ہے کہ آپ صورتحال کو کس طرح سنبھالتے ہیں اور آپ ثالث کا کردار ادا کرنے میں کتنے مخلص اور غیرجانبدار ہیں۔
کبھی کبھی جب آپ کے تمام سفارتی اشارے ناکام ہو جاتے ہیں اور صورت حال اس بات کا تقاضا کرتی ہے کہ آپ ایک طرف ہو جائیں تو آپ کو بہت سمجھداری سے انتخاب کرنے کی ضرورت ہے۔ صحیح اور غلط میں فرق کرنا سیکھیں اور صحیح کو صحیح اور غلط کو غلط کہنے کا حوصلہ رکھیں۔ اس سے کوئی فرق نہیں پڑتا ہے کہ آپ کس کی طرف لیں، دوسرے فریق کو اپنے فیصلے کی وجہ سمجھائیں اور اپنی بیوی اور اپنے والدین کو ’معاف کرو اور بھول جاؤ‘ کی پالیسی پر عمل کرنے کی ترغیب دیں۔
بہت کچھ اس بات پر منحصر ہے کہ آپ بیٹے اور شوہر کے کردار کو کس طرح سنبھالتے ہیں۔شادی کرنے کے بعد، میاں بیوی کو مسلسل ایک دوسرے کی ضرورت رہتی ہے،خواہ وہ جذباتی سہارے کے لیے ہو یا دوسری صورت میں۔ لیکن اس کا مطلب یہ نہیں ہے کہ آپ کے والدین کو آپ کی کم ضرورت ہے۔ والدین کی خدمت کے ساتھ ساتھ آپ کے لیے ضروری ہے کہ آپ بیوی کی ضرویات کا خیال رکھنے کے ساتھ ساتھ، چھوٹے چھوٹے کاموں میں اس کا ہاتھ بٹائیں۔ اس سب کے لیے ہمارے لیے ضروری ہے کہ ہم اپنے پیارے نبی حضرت محمد صلی علیہ وسلم کی سیرتِ طیبہ کا مطالعہ کرتے رہیں، جس طرح سے انہوں نے والدین اور بیوی سے حسنِ سلوک کرنے کی ترغیب دی ہے، اس پر عمل کریں تاکہ ہماری زندگی کے ساتھ ساتھ ہماری عاقبت بھی سنور جائے ۔بات اکثر تب بگڑتی ہے جب مرد یا تو والدین کی طرفداری کرتے ہیں اور بیوی کو نظر انداز کرتے ہیں یا بیوی کی طرفداری کرتے ہیں اور والدین کو نظر انداز کرتے ہیں۔ لہٰذا ایک میانہ رویہ اپنانا نہایت ضروری ہے۔
ماندوجن شوپیان کشمیر