نیلگوں آسمان تلے ،کرہء ارض کے ایک تاریک گوشے میں پوشیدہ ، ہمالیائی سلسلہ کے برف پوش پہاڑوں کی چار دیواری میں محصور ، دریائے’’مارو سدر ‘‘کے کنارے واقع ایک وادی’’مڑواہ‘‘کے نام سے موسوم ہے۔یہ وادی قدرت کے حسین ورنگین وادیاں اور مناظر سے سرشارہونے کے ساتھ ساتھ قدرتی وسائل سے بھی مالا مال ہے۔ برفیلے پہاڑوں سے رواں دواں ندیوں کی کھنکھناہٹ ،بہتے دریاؤں کی سریلی آوازوں، پرندوں کے زمزموں اور مویشیوں کے رقص کے ادغام سے یہاں کے ماحول کی دلکشی دوبالا ہوجاتی ہے۔ہری بھری چراگاہیں،لہلاتے کھیت،سدابہار جنگلات ، جاں فزا ہوائیں اور روح فزا فضائیں اسے جنت نما بنادیتی ہیں۔فصل بہار کی سرسبزی وشادابی ہو یا خزاں کی نیرنگی، موسم گرما کی خوشگوارآب و ہوا ہو یا زمستاں میں برف کی بچھی ہوئی سفید چادر کا پرکشش منظر۔ موسم جو بھی ہو دیکھنے والے کے دل و دماغ کے لئے فرحت و انبساط کا سامان کرتا ہے۔
جغرافیائی خدوخال: وادی مڑواہ جغرافیائی اعتبار سے بھی کافی دلکشی کا منظر پیش کرتی ہے۔ یہ وادی صوبہ جموں کے ضلع کشتواڑ ،صوبہ کشمیر کے ضلع اننت ناگ اور لداخ کے ضلع کرگل کے درمیان نقطہ اتصال کی حیثیت رکھتی ہے۔ جموں و کشمیر کے نقشے کو اگر سامنے رکھا جائے تو معلوم ہوگا کہ مڑواہ کے جنوب میں ضلع کشتواڑ ،مغرب میں اننت ناگ اور شمال مشرق میں ضلع کرگل واقع ہیں۔علاقہ ھذا کا کل رقبہ 307.35مربع کلو میٹرہے جس میں بیشتر حصہ پہاڑوں سے ڈھکا ہوا ہے۔جدید سہولیات کی عدم دستیابی کی وجہ سے یہ وادی بہت پسماندہ ہوچکی ہے۔اسے کچھ برس قبل سب ڈویژن کا درجہ بھی دیا جا چکا ہے۔یہ تین بلاکوں اور تین تحصیلوں بالترتیب مڑواہ واڑون اور دچھن پر مشتمل ہے۔علاقہ ھذا انتظامیہ کے اعتبار سے صوبہ جموں کے ضلع کشتواڑ کے حدود میں پڑتا ہے مگر لسانی، ثقافتی ،تجارتی،موسمیاتی،اور جغرافیائی خصائص کے اعتبار سے یہ کشمیر سے قریب تر ہے۔
اعدادوشمار :2011 گیارہ کی مردم شماری کے مطابق سب ڈویژن مڑواہ کی کل آبادی 35572 تھی۔جس میں مردوں کی تعداد 18364اور خواتیں کی تعداد 17208 تھی۔جنسی تناسب 937 تھا جو کہ کافی اچھا تصور کیا جاتا ہے۔شرح خواندگی %43.5 تھی۔لیکن مردوں کے مقابلے میں خواتین کم خواندہ ہیں۔ علاقے کی شرح پیدائش کو پیش نظر رکھ کرکہا جاسکتا ہے کہ یہاں کی آبادی امسال یعنی 2020 میں کم و بیش45000ہوگی۔سب ڈویژن مڑواہ کم وبیش 60 چھوٹے بڑے گاؤں،27 ایڈمنسٹریٹیو ڈویژن اور 28 پنچایتوں پر مشتمل ہے۔
تعلیمی وتدریسی ادارے: یہاں01 ڈگری کالج(گورنمنٹ ماڈل ڈگری کالج مڑواہ) ،04ہائر اسکنڈری اسکول،09 ہائی اسکول،59یوپی ایس / مڈل اسکول ،جن میں ایک01 کے۔جی۔بی۔وی(کستوربا گاندھی بالیکا ودھیالیہ) بھی شامل ہے،74 پرائمری اسکول ہیں۔مگر شومئی قسمت یہ کہ سرکاری اسکول تعداد میں جتنے زیادہ ہیں ان کی کارکردگی اور معیار اتنا ہی قابل رحم ہے۔ ان کے برعکس پرائیوٹ اسکولوں کی تعداد بہت کم ہے۔ جن میں مڑواہ ویلی پبلک اسکول ، ہل ٹاپ اکیڈمی،(مڑواہ)فرقان اکیڈمی ،بھارتیہ ودھیا مندر (دچھن) وغیرہ قابل ذکر ہیں۔لیکن ان اسکولوں کا تعلیمی معیار سرکاری اسکولوں کے مقابلے میں بہتر معلوم ہوتا ہے۔ علاقہ میں تعلیمی نظام کو مستحکم کرنے کے لئے جدید ٹیکنالوجی کا سامان بہم پہنچانے اور اسے فروغ دینے کی اشد ضرورت ہے۔
مذہبی اداروں میںجو مرکزی حیثیت رکھتے ہیں ان میں مدرسہ تعلیم القرآن اور مدرسہ دارالفرقان (مڑواہ) کافی اہمیت کے حامل ہیں۔اولذکر میں لڑکوں کے لئے قرآن اور احادیث کے علوم حاصل کرنے کی سہولیات دستیاب ہیں اور مؤخرالذکر میں چھوٹے بچوں کے ساتھ ساتھ خواتین کی تعلیم و تربیت کے فرائض انجام دئے جارہے ہیں۔علاوہ بر ایں مقامی بچوں کو دینی تعلیم سے آراستہ کرنے کے لئے ہر گاؤں میں ایک یا ایک سے زائد درس گاہیں قائم ہیں۔لیکن ان اداروں کو بھی موجودہ دور کے ساتھ ہم آہنگ ہونے کے لئے علوم متداولہ اور سائنس اور ٹیکنالوجی کے علوم کو نصاب میں شامل کرنا وقت کی اہم ضرورت محسوس ہوتی ہے۔
تہذیبی ومعاشرتی زندگی:- علاقہ مڑواہ کے بیشتر لوگ کچے مکانوں میں رہتے ہیں اور بہت ہی سادہ زندگی بسر کر تے ہیں۔عوام کی اکثریت بی۔پی۔ایل کے زمرے میں آتی ہیں۔پیشے کے اعتبار یہاں کے لوگوں کی اکثریت مزدوری، کھیتی باڑی اور تجارت سے وابستہ ہے۔علاوہ ازایں نانبائی،آہنگر،سفالگر(کمہار)،مستری،بڑھئی،کفش ساز ،جولاہے،نائی،لکڑہارے وغیرہ پیشہ ور لوگ بھی ملتے ہیں جو یہاں کے سماج میں کافی اہم حیثیت رکھتے ہیں۔علاوہ از یں بعض لوگ مختلف سرکاری و غیر سرکاری اداروں میں بھی ملازمیں کی حیثیت سے اپنے فرائض انجام دے رہے ہیں۔ یہاں کے لوگوں کا رہن سہن اور کھانے پینے کے عادات و اطوار کشمیری کلچر کا حصہ ہیں۔ یہاں عام لوگوں کا لباس قمیض شلوار ،بنیان،شال، فرن اور کانگڑی وغیرہ ہے جبکہ شادیوں کی تقریبات میں انجام دئے جانے والے رسم و روج اور دلہاور دلہن کے مخصوص لباس اور زیورات یہاں کی ثقافت کو کشمیری ثقافت سے قریب تر کردیتی ہے۔ عقیدے کے لحاظ سے یہاں صرف اسلام اور ہندوازم سے وابستہ لوگ ہی رہتے ہیں لیکن اکثریت مسلمانوں کی ہی ہے۔یہاں کے مقامی لوگ کشمیری اور دیگر خانہ بدوش لوگ گوجری اور پہاڑی زبان بولتے ہیں۔
زراعت و باغبانی :فصلیں: مکئی، راجماش،دھان ، گندم، جو وغیرہ
پھل:اخروٹ، سیب،بہی،ناشپاتی،آڑو،خوبانی،آلو بخارہ،گیلاس وغیرہ۔ لیکن راجماش (kidney beans) اور اخروٹ کی وجہ سے یہ علاقہ کافی مشہور ہے۔محکمہ اگریکلچر و ہارٹیکلچر اگر یہاں کے کسانوں اور باغبانوں کو جدید ٹیکنالوجی اور نئے طریقہ کار روشناس کرے تو ممکن ہے کہ یہاں کی پیداوار میں بھی کافی اضافہ دیکھنے ملے گا۔
پیڑ پودے:دیودار،چیڑ یا کائل،سفیدے،کیکر،چنار وغیرہ۔
چراگاہیں: بجہ پتھر، بیم دلو،بڑون، شونک ،نند،فری آباد، نلن، وغیرہ۔
مگر اپنی بے حسی اور لاپرواہی کی وجہ سے محکمہ زراعت و باغبانی اس طرف توجہ مبذول کرنے آج تک بالکل ناکام رہے ہیں۔
آبی وسائل: دریا: "دریائے سدر" جو نن کن (سیاحتی مقام ) اور تتاپانی سے ہوتا ہوا مڑواہ پہنچتا ہے۔اور "دریائے مارو" جو واڑون کی وادی سے ہوتا ہوا وادی مڑواہ میں داخل ہوتا ہے اور دونوں دریا یوردو کے مقام پر باہم مل کر "مارو سدر" کہلاتے ہیں اور وادی کے دامن سے گزرتے ہوئے دچھن کی وادی سے ہوتا ہوا بنڈارکوٹ کشتواڑ کے مقام پر میں دریائے چناب سے جا ملتا ہے۔
ندیاں: گرام رڑ ،کوء رڑ،ستھ رڑ،بول رڑ ، سروجہ وغیرہ۔
چشمے: تتاپانی(گرم پانی کا چشمہ)،ناگون وغیرہ قابل ذکر ہیں۔
سیاحتی مقامات:تتا پانی ،واڑون،نن کن،برہما،سرس ناگ،بجہ پتھر،فری آباد وغیرہ ایسے مقامات ہیں جو سیاحوں کی دلکشی کا سامان فراہم کرسکتے ہیں۔
المختصر علاقہ کے قدرتی وسائل کو بروئے کار لاکر اور یہاں کے قدرتی مناظر کی خوبصورتی اور دلکشی کو سیاحت کے نقشے پر لاکر یہاں کی بے روزگار عوام کے لئے روزگار کے ذرائع پیدا کئے جاسکتے ہیں۔
(مضمون نگار کا آبائی تعلق مڑواہ وادی سے ہی ہے اور آپ جموں یونیورسٹی کے شعبہ اردو میں محقق ہیں)
موبائل نمبر۔6006512876