سرینگر//جموں وکشمیر کے گرمائی دارالحکومت سرینگر کے حیدر پورہ علاقے میں پیرکی شام ہوئے متنازعہ انکائونٹر کے دوران تین شہریوں کی ہلاکت ہلاکت کیخلاف جمعہ وادی میں کاروباری و تجاتی سرگرمیاں بری طرح متاثر رہیں۔ شہر میں پرائیویٹ ٹرانسپورٹ معمول کے مطابق چلتا رہا جبکہ دیگر ضلع و تحاصیل صدر مقامات پر بھی گاڑیوں کی آمد و رفت جاری رہی۔ البتہ مسافر ٹرانسپورٹ میں کمی دیکھی گئی تاہم سیول لائنز علاقے میں چھوٹی مسافر گاڑیاں چلتی رہیں اور کئی علاقوں میں دکانیں بھی کھلی تھیں۔ البتہ مرکزی بازاروں میں تجارتی مراکز کا کام کاج بری طرح متاثر رہا اور سڑکوں پرنجی اورمسافر ٹرانسپورٹ کی آمدورفت عام دنوں سے کم دیکھی گئی۔ پائین شہر میں کاروباری سرگرمیاں زیادہ اثر انداز ہوئیں تاہم نجی گاڑیاں چلتی رہیں۔ شمالی کشمیر کے بارہمولہ ،سوپور،بانڈی پورہ ،ترہگام ،اوردیگرکچھ علاقوں وقصبوںمیں بھی کاروبار متاثر رہا البتہ کپوارہ قصبہ اورہندوارہ میں معمول کے مطابق ہر طرح کی سرگرمیاں جاری رہیں۔ ہندوارہ قصبہ میں دن کے12بجے کے بعدپورا مارکیٹ کھل گیا۔ اننت ناگ ،ڈورئواورویری ناگ سمیت کئی قصبوںمیں کاروباری سرگرمیاں جزوی طور متاثر رہیں۔تاہم پلوامہ میں تجارتی سرگرمیوں پر روک لگی۔شوپیان میں معمولات جزوی طور پر متاثر رہیں۔وادی کے دیگر علاقوں میں ٹرانسپورٹ اور کاروباری معمولات متاثر رہیں اور چند علاقوں میں اسکا جزوی اثر دیکھنے کو ملا۔