عظمیٰ نیوز سروس
سرینگر//گزشتہ برس پہلگام میں ہوئے انسانیت سوز حملے کے بعد جموں و کشمیر میں نئے کاروباری یونٹوں کی رجسٹریشن میں نمایاں اضافہ ریکارڈ کیا گیا ہے، جسے خطے میں سرمایہ کاروں کے بڑھتے اعتماد اور معیشت کی بحالی کی علامت قرار دیا جا رہا ہے۔ ایک رپورٹ کے مطابق مالی سال 2025-26 کے دوران جموں و کشمیر میں نئے کاروباری رجسٹریشنز میں 28 فیصد اضافہ درج کیا گیا۔رپورٹ کے مطابق نئے کاروباری اندراجات کی تعداد بڑھ کر 1770 تک پہنچ گئی، جو گزشتہ برس کے مقابلے میں نمایاں اضافہ ہے۔ ماہرین کے مطابق یہ اعداد و شمار اس بات کی نشاندہی کرتے ہیں کہ اپریل 2025 میں پہلگام میں ہوئے حملے کے بعد پیدا ہونے والی غیر یقینی صورتحال کے باوجود کاروباری سرگرمیوں میں دوبارہ تیزی آئی ہے۔
رپورٹ میں کہا گیا ہے کہ پہلگام حملے کے بعد مئی اور جون 2025 کے دوران نئے کاروباری رجسٹریشنز میں سالانہ بنیادوں پر تقریباً 22 فیصد کمی آئی تھی، تاہم جولائی 2025 سے صورتحال میں بہتری آنا شروع ہوئی اور بعد ازاں کاروباری سرگرمیوں نے دوبارہ رفتار پکڑ لی۔ ماہرین اقتصادیات کے مطابق کسی بھی خطے میں نئی کمپنیوں اور کاروباروں کی رجسٹریشن کو معیشت کی رسمی شکل اختیار کرنے اور سرمایہ کاروں کے اعتماد کا اہم پیمانہ تصور کیا جاتا ہے۔ جموں و کشمیر میں حالیہ اضافہ اس بات کا اشارہ سمجھا جا رہا ہے کہ مقامی کاروباری طبقہ اور سرمایہ کار خطے کے معاشی امکانات کے حوالے سے دوبارہ مثبت سوچ اختیار کر رہے ہیں۔رپورٹ کے مطابق حکومت کی جانب سے صنعتی پالیسی، ایز آف ڈوئنگ بزنس اصلاحات، انفراسٹرکچر ترقی اور سرمایہ کاری کو فروغ دینے کیلئے اٹھائے گئے اقدامات نے بھی کاروباری ماحول بہتر بنانے میں اہم کردار ادا کیا ہے۔ حالیہ مہینوں کے دوران صنعتی اور تجارتی شعبوں میں نئی سرمایہ کاری، ایم ایس ایم ای سیکٹر کی توسیع اور بینکنگ سرگرمیوں میں بہتری کے آثار بھی سامنے آئے ہیں۔اقتصادی ماہرین کا ماننا ہے کہ جموں و کشمیر کی معیشت گزشتہ کچھ برسوں میں سیاحت، باغبانی، ہینڈکرافٹس، خدماتی شعبے اور چھوٹے کاروباروں کے ذریعے بتدریج مضبوط ہو رہی ہے۔ اسی دوران جموں کشمیر بنک کی جانب سے حال ہی میں ریکارڈ منافع کا اعلان بھی خطے کی معاشی سرگرمیوں میں بہتری کی علامت قرار دیا جا رہا ہے۔ یاد رہے کہ اپریل 2025 میں پہلگام میں ہونے والے دہشت گرد حملے میں متعدد افراد ہلاک ہوئے تھے، جس کے بعد سیاحت اور کاروباری سرگرمیوں پر منفی اثرات مرتب ہونے کا خدشہ ظاہر کیا جا رہا تھا۔ تاہم تازہ اعداد و شمار سے ظاہر ہوتا ہے کہ خطے میں کاروباری اعتماد دوبارہ بحال ہو رہا ہے اور نئے کاروباری ادارے بڑی تعداد میں رجسٹر ہو رہے ہیں۔