تھنہ منڈی //سب ڈویژں تھنہ منڈی میں تمام مکاتب فکر سے تعلق رکھنے والے علماء نے اپنے جمعہ کے خطابات میں گزشتہ روز کشمیر میں دو اساتذہ کے سفاکانہ قتل کی شدید الفاظ میں مذمت کرتے ہوئے کہا ہے کہ شریعت اسلامیہ میں جتنی تاکید کے ساتھ انسان کے قتل کی حرمت کو بیان کیا گیا ہے، عصر حاضر میں اس کی اتنی ہی بے حرمتی ہو رہی ہے۔چناں چہ معمولی باتوں پر قتل ناحق کے واقعات رونما ہو رہے ہیں جو کہ انتہائی افسوس ناک بات ہے۔ علماء نے کہا کہ اسلامی تعلیمات کے مطابق کسی انسان کو ناحق قتل کرنا شرک کے بعد سب سے بڑا گناہ ہے، بل کہ بعض علماء نے قرآن کی تعلیمات پر روشنی ڈالتے ہوئے کہاکہ کسی بھی بے گناہ انسان کو ناحق قتل کرنے والا ملّت اسلامیہ سے ہی نکل جاتا ہے۔ انہوں نے مزید کہا کہ اساتذہ وہ سماجی کارکن ہیں جو بلا لحاظ مذہب و ملت رنگ و نسل عوام کی بے لوث خدمت کرتے ہیں لہذا اساتذہ کا اس طرح سرعام قتل کیا جانا انتہائی افسوس ناک بات اور بزدلانہ فعل ہے جس کی جتنی مذمت کی جائے کم ہے۔ وہیں اس سلسلے میں گورنمنٹ ماڈل بوائز ہائر سکینڈری سکول تھنہ منڈی اور گورنمنٹ ہا ئر سیکنڈری سکول ساج میں بھی اساتذہ اور طلباء نے کشمیر میں ہوئی تازہ ہلاکتوں پر افسوس کا اظہار کرتے ہوئے اسے انتہائی افسوس ناک اور شرمناک واقعہ قرار دیا ہے۔علماء کرام اور دیگر سیاسی و سماجی شخصیات نے بھی اسے انسانیت کا قتل قرار دیتے ہوئے کہاکہ اساتذہ کے قتل میں ملوث قاتلوں کو جلدازجلد گرفتار کر کے اہل خانہ کو انصاف فراہم کیا جائے۔ انھوں نے جموں وکشمیر انتظامیہ اور پولیس حکام سے اپیل کی ہے کہ اس واقعہ میں ملوث افراد کیخلاف سخت سے سخت کارروائی عمل میں لا کر قاتلوں کو قرار واقعی سزادی جائے۔