عظمیٰ نیوز سروس
سرینگر//وادی کشمیر اس وقت غیر معمولی موسمی صورتحال سے دوچار ہے جہاں فروری کے مہینے میں گرمی نے عشروں پرانے ریکارڈ توڑ دیئے ہیں۔ گزشتہ دو دنوں کے دوران درجہ حرارت میں غیر معمولی اضافہ حیران کن ہے ۔سرینگر میں ہفتے کو فروری کے مہینے میں دن کے درجہ حرارت کا نیا ریکارڈ قائم ہوا، اور زیادہ سے زیادہ درجہ حرارت 21.0 ڈگری درج کیا گیا۔یہ اب سرکاری طور پر فروری کے مہینے میں ریکارڈ کیا گیا سب سے زیادہ درجہ حرارت ہے۔ پچھلا ہمہ وقت کا فروری کا ریکارڈ 20.6 ڈگری سینٹی گریڈ تھا، جو 24 فروری 2016 کو درج کیا گیا تھا۔ فی الحال خشک حالات برقرار رہنے کا امکان ہے اور کوئی خاص مغربی ڈسٹربنس نظر نہیں آتا، آنے والے دنوں میں زیادہ سے زیادہ درجہ حرارت مزید بڑھنے کی توقع ہے۔کشمیر کے دیگر حصوں میں بھی مہینہ ختم ہونے سے پہلے اضافی دیرینہ ریکارڈ گر سکتے ہیں۔ فروری 2026 اب سب سے گرم ترین مہینہ رہا ہے۔سرینگر میں گزشتہ روز درجہ حرارت 20.2 ڈگری سیلسیس ریکارڈ کیا گیا جو گزشتہ 16 برسوں میں فروری کا سب سے زیادہ درجہ حرارت رہا۔ اس سے قبل فروری کا آل ٹائم ریکارڈ 20.6 ڈگری تھا جو 24 فروری 2016 کو درج کیا گیا تھا۔ معمول سے 9.2 ڈگری زیادہ یہ درجہ حرارت سرینگر کی موسمی تاریخ میں ایک اہم اضافہ ہے۔
اسی طرح گلمرگ میں بھی ریکارڈ ٹوٹ گئے ہیں جہاں 11.6 ڈگری سیلسیس درجہ حرارت ریکارڈ کیا گیا ، جو کہ اب تک فروری میں سب سے زیادہ ہے۔ اس سے پہلے یہاں 11.4 ڈگری کا ریکارڈ 11 فروری 1993 اور دوبارہ 20 فروری 2026 کو قائم ہوا تھا۔ اس بار درجہ حرارت معمول سے 9.6 ڈگری زیادہ رہا، جو ایک غیر معمولی اضافہ ہے۔ قاضی گنڈ میں بھی شدید گرمی کے نئے ریکارڈ قائم ہوئے ہیں۔ یہاں 21.0 ڈگری سیلسیس درجہ حرارت ریکارڈ کیا گیا جو فروری ماہ میں اب تک کا سب سے زیادہ ہے۔ سابقہ ریکارڈ 20.7 ڈگری تھا جو 28 فروری 2020 کو درج ہوا تھا۔ رواں سال درجہ حرارت معمول سے 10.9 ڈگری زیادہ درج کیا گیا۔کوکرناگ میں بھی گرمی نے گزشتہ تمام ریکارڈ برابر کر دیے ہیں۔ یہاں 18.4 ڈگری سیلسیس درجہ حرارت ریکارڈ کیا گیا جو 29 فروری 2016 کو قائم ہونے والے آل ٹائم فروری ریکارڈ کے برابر ہے، اور معمول سے 9.6 ڈگری زیادہ ہے۔ماہر موسمیات کا کہنا ہے کہ رواں ماہ کے آخر تک گرمی کی شدت میں ریکارڈ اضافہ متوقع ہے، اور اس بات کے قوی امکانات ہیں کہ مزید نئے ریکارڈ قائم ہوں گے۔‘انہوں نے خبردار کیا کہ اس غیر معمولی گرمی کے اثرات ہاٹیکلچر اور ایگریکلچر سیکٹر پر براہ راست پڑ سکتے ہیں، خصوصاً ان علاقوں میں جہاں پھل دار درختوں میں موسم کی تبدیلی سب سے پہلے اثر دکھاتی ہے۔