سرینگر//وادی میں آبی ٹرانسپورٹ کو بحال کرنے کی غرض سے سرینگر میں دریائے جہلم پر چلنے کے لئے 3بس کشتیاں نیوزی لینڈ سے لائی گئیں ہیں۔کئی دہائیوں کے بعد آبی نقل و حمل کی سہولت سیاحوں اور عوام کے لئے کھول دی دی جائے گی۔لوگ اس کشتی کی سواری سے سری نگر کے لسجن علاقے سے شہر کے اندرونی حصوں تک لطف اندوز ہوسکتے ہیں ۔ جموں و کشمیر کے لیفٹنٹ گورنرمنوج سنہا نے محکمہ سیاحت کواس اقدام کے لئے زور دیا تھا۔ محکمہ کا کہنا ہے کہ یہ نقل و حمل کا سستا ترین طریقہ ہوگا۔یک نجی کمپنی کے ڈائریکٹر عمران ملک نے کہا ’’یہ سری نگر میں پانی کی آمدورفت کا احیاء ہے،اور یہ اگلے مہینے میں شروع ہوگی ، ہم نے تمام سامان حاصل کیا ہے اور میرے خیال میں آبی وسائل کا زیادہ سے زیادہ استعمال ہوسکتا ہے اور یہ مستقبل میں نقل و حمل کا ایک اہم ذریعہ ہوگا۔‘‘ ان کا کہنا تھا یہ روڈ ٹرانسپورٹ سے سستا ہوگا، ہمارے پاس تین کشتیوں کا بیڑا ہے اور مستقبل میں ، ہم مزید خریداری کریں گے۔ہر کشتی میں 35 نشستیں ہوتی ہیں جن میں ایئر کنڈیشنگ ہوتی ہے اور پورا احاطہ شیشے سے بنا ہوتا ہے۔ یہ مسافروں کو سری نگر شہر کے نظارے سے لطف اندوز کرنے اور ان کے لئے یادگار سواری بنائے گی۔ محکمہ سیاحت اس کو فروغ دے گی تاکہ شہر میں سفر کرتے وقت زیادہ سے زیادہ لوگ نقل و حمل کا یہ طریقہ اختیار کریں۔کشمیری عوام کو پہلی بار اس قسم کی کشتی نظر آئے گی۔ اس میں عملے کے پانچ افراد سمیت 35 مسافروں کی گنجائش ہے۔ عمران کا کہنا تھا کہ ہم آزمائشی رنز انجام دے رہے ہیں اور پھر اسے سیاحوں کے لئے کھولیں گے اور یہ سڑک کی آمدورفت کو پورا کرے گا۔ اس فرم کے منیجر عبد الحنان نے بتایا اس سے سڑک کی آمدورفت کا دباؤ دور ہونے میں مدد ملے گی۔کشتی کے انجینئر ممبئی سے آئے ہیں اور کشتی میں کوئی تکنیکی مسائل ہونے کی صورت میں مقامی لوگوں کو تربیت دیں گے۔