عظمیٰ نیوز سروس
سرینگر//سرینگر پولیس نے جمعرات کو ضلع بھر میں مدارس اور مساجد کی جانچ کی۔ حکام کے مطابق یہ مہم ملی ٹینٹ تنظیموں سے وابستہ افراد اور نیٹ ورکس کے خلاف جاری کریک ڈان کا حصہ تھی اور خطے میں ملی ٹینسی کی حمایت کرنے والے ماحولیاتی نظام اور بنیاد پرستی کی کوششوں کو ختم کرنے کے لیے تھی۔پولیس بیان میں کہا گیا ہے کہ سرچ ٹیموں نے ایگزیکٹو مجسٹریٹس اور آزاد گواہوں کے ہمراہ ملی ٹینسی سے منسلک یا بنیاد پرست سرگرمیوں سے متعلق شواہد اکٹھے کرنے کے لیے کئی جگہوں کا معائنہ کیا جو قوم کی سلامتی اور سالمیت کے خلاف ہے۔تلاشی کے دوران، پولیس نے ڈیجیٹل آلات، دستاویزات اور دیگر مواد کا معائنہ کیا۔ تلاشیاں سرینگر میں ملی ٹینسی کی حمایت کرنے والے ماحولیاتی نظام کو ختم کرنے اور امن و عامہ کو خراب کرنے کے مقصد سے کسی بھی سازشی یا غیر قانونی کارروائیوں کو روکنے کی مسلسل کوششوں کا حصہ ہیں۔بیان میں کہا گیا ہے کہ یہ کارروائیاں قانونی طریقہ کار کے مطابق سختی سے کی گئیں، ہر مرحلے پر شفافیت اور جوابدہی کو یقینی بنایا گیا اور جہاں بھی قابل اعتماد معلومات یا بنیاد پرستی کی سرگرمیوں سے منسلک افراد یا مواد کی موجودگی کی نشاندہی کرتی ہیں، جاری رہیں گی۔بیان کے مطابق سرینگر پولیس نے شہریوں کی حفاظت اور قوم کی سلامتی کو یقینی بنانے کے اپنے عزم کا اعادہ کیا اور شہریوں پر زور دیا کہ وہ جاری تحقیقات میں تعاون کریں اور کسی بھی مشکوک سرگرمی کی اطلاع دیں۔
جماعت اسلامی
پولیس نے کہا کہ سیکورٹی کے ماحول کو مضبوط بنانے اور امن عامہ کو برقرار رکھنے کی مسلسل کوششوں میں، سرینگر پولیس نے جماعت اسلامی سے وابستہ بعض ساتھیوں اور تنظیموں سے منسلک متعدد مقامات پر مربوط تلاشی لی۔پولیس ترجمان کے مطابق جن افراد کی رہائش گاہوں اور کاروباری اداروں کی تلاشی لی گئی ان میںعمر سلطان گورو ولد محمد فاروق گورو، ساکن النور کالونی چھانہ پورہ (ٹور اینڈ ٹریول “سنڈیکیٹ”) محمد عبداللہ وانی ولد مرحوم محمد اکبر وان ساکن وڈون بڈگام حال مندر باغ باغات سری نگر،غلام محمد بھٹ، ولدجبار بھٹ، بمنہ ، حاجی محمد رمضان لون، ولد مرحوم علی محمد لون صورہ (رمضان میموریل ایجوکیشنل انسٹی ٹیوٹ، صورہ)، شاہد زہگیر ولد عبدالسلام مکان نمبر 23، بچھ پورہ، سری نگر(رمضان میموریل سکول، صورہ) محمد رمضان نائیک عرف فہیم ولد غلام قادر نائیک ساکن برہڑ لال بازار،بشیر احمد لون ولد عبدالصمد سید پورہ ہارون ،) پیر غیاس الدین نوگام(فلاح ریسرچ رمضان سنٹر، نوگام) اور (منظور احمد، نوگام چوک شامل ہے۔جے آئی کے نظریہ سے وابستہ درج ذیل اداروں پر مزید تلاشی بھی لی گئی جن میں جمعیت البنات( کشمیر یونیورسٹی، عمر کالونی، لال بازار) ،راحت منزل (جے کے یتیم خانہ)، باغِ نند سنگھ، چھتہ بل، چنار پبلیکیشن ٹرسٹ مائسمہ اور الکوثر بک شاپ مائسمہ شامل ہیں۔پولیس کے ترجمان نے کہا کہ کارروائی علاقے کی سلامتی اور استحکام کے لیے متعصب سمجھی جانے والی سرگرمیوں کے حوالے سے معتبر معلومات کی بنیاد پر کی گئی۔انہوں نے کہا کہ تمام تلاشیاں قانونی طریقہ کار کے مطابق سختی سے کی گئیں۔انہوں نے مزید کہا کہ تفتیش سے متعلقہ مواد کو تفصیلی جانچ کے لیے ضبط کر لیا گیا ہے۔ حکام نے بتایاکہ اننت ناگ، پلوامہ، بڈگام، کولگام اور کپواڑہ اضلاع میں تلاشی لی گئی۔پولیس نے امام صاحب شوپیان علاقے میں واقع سراج العلوم تعلیمی ادارے سمیت متعدد مقامات کی تلاشی لی۔ اسی طرح پلوامہ اور اونتی پورہ میں بھی کچھ مراکز پر چھاپے مارے گئے۔ حکام نے برآمد شدہ مواد کو مزید تحقیق و جانچ کے لیے متعلقہ محکموں کے حوالے کر دیا ہے۔ پولیس کے مطابق یہ آپریشن غیر قانونی سرگرمیاں روک تھام ایکٹ (UAPA) کے تحت انجام دیا جا رہا ہے اور تمام چھاپے مناسب مجسٹریل نگرانی میں کیے گئے۔تلاشی کارروائی کے دوران پولیس نے کئی افراد سے پوچھ گچھ بھی کی، جو معمول کی قانونی کارروائی کا حصہ ہے۔ پولیس نے پلوامہ میں جماعت اسلامی کے زیر نگرانی چلائے جارہے ایک طبی مرکز پر بھی چھاپہ ڈالا اور تلاشی لی۔پولیس کے مطابق تلاشی کے دوران انہوں نے کوئی قابل اعتراض چیز کو برآمد نہیں کی ۔ حکام نے بتایا کہ شمالی کشمیر کے کپواڑہ ضلع میں، ہندواڑہ کے واری پورہ میں واقع جامعہ اسلامیہ انسٹی ٹیوٹ میں بھی تلاشی لی گئی۔